مولانا کے دھرنے میں نیا کیا ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاد ہے جب ماضی میں دارالحکومت پر دو انقلابی چڑھ دوڑے تھے، کیا ہوا تھا۔ المیہ تو یہ ہے کہ دونوں رہنماوں کو پڑھے لکھے نوجوان طبقے نے انقلابی لیڈر سمجھ کر حسب روٹین روزانہ ایک ہی تقریر سننے کو کنٹینر کے ارد گرد پہنچ جاتے تھے۔ اس تقریر کا مرکز کرپشن تھی، زرداری و نواز شریف کی سیاست کے علاوہ اور ایسا کیا موضوع تھا۔ جس انقلابی ٹیم کا وہ لاوڈ سپیکر پر نام لیتے تھے اس معاشی بقراط نے ہاتھ جوڑ کر کہا نہیں بھائی یہ کشٹ ہم سے نہیں اٹھایا جائے گا۔ بھلے آدمی کا ہی کام ہے جو نہ ہوسکے اس سے جان چھڑا لی جائے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی انقلاب سے جان چھڑا لی لیکن ان سے کس نے پوچھا ہے یا کسی نے احتساب کیا ہے کہ بھائی آپ جو مریدوں کی جیبوں کے ساتھ خواتین کے کانوں سے بالیاں اور ہاتھوں سے چوڑیاں بھی اتار کر جھولی بھر لی وہ کہاں گئی؟ اتنا عرصہ انقلاب کے نام پر لوگوں کو ذلیل کرتے رہے، ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا، سب سے بڑھ کر لوگوں کے جذبات سے کھیلے اس کا بھی احتساب ہو۔ انقلاب لانے کے لیے نہ صرف کینیڈا سے لایا گیا بلکہ انقلابی لیڈر نے تب تک جہاز یرغمال کیے رکھا جب تک بلانے والوں سے سیکورٹی نہیں لی۔

عمران خان صاحب اکثر بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے موجودہ کامیابی کا شاخسانہ سمجھتے ہیں حالانکہ ایک ‘سیاسیات کے طالبعلم ‘ کی حیثیت سے جتنا بڑے سے بڑے سیاسی مفکرین کو گاہے بگاہے پڑھا ہے عمران خان ان سب سے ہٹ کر اس لیے بھی ہیں کہ عمران خان صاحب کے پاس کوئی منشور کوئی ایجنڈہ کوئی پالیسی نہ اس وقت تھی جب کنٹینر پر تھے نہ اب ہے جب وزیراعظم ہاوس میں پدھارے ہیں۔

بات دھرنے کی ہو رہی تھی تو ابھی تک عقل کو اسی مسئلے پر فوکس کر کے دیکھیں بالکل ہر قسم کی ہٹ دھرمی، ہمدردی اور مذہبی سیاسی جذباتیت کو ایک طرف سائیڈ پر رکھیں اور ایمانداری سے بتلائیں کیا عمران خان صاحب کی پوری ٹیم کیا بائیس کروڑ عوام کو چلانے کی اہلیت رکھتی ہے؟ کم از کم سوائے مخالفین پر چڑھ دوڑنے اور ٹویٹز کرنے کے علاوہ اگر کوئی کسی بھی شعبے کی ترقی یا کام کے حوالے سے کوئی ایک نام لے کر بتائیں۔ یہ آپ کو یاد رہے کہ معاشیات کا سارا دارومدار اور کام آئی ایم ایف کے نمائندہ جات کے ذمہ ہیں اور وہ اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں جس میں حفیظ شیخ، شبر زیدی اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر صاحبان ہیں وہ یہ بھی خوشخبریاں سنا رہے ہیں کہ عوام کو مزید مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔

میں حکومت کے ان انقلابی کارنامہ جات پر تنقید نہیں کرنا چاہتا جس میں مرغیاں دینا، لنگر کھولنا اور وزیراعظم کی تقریر کرنا۔ یہ سب اچھے کام ہیں لیکن بھلا ہو ان سب کارناموں کا عوام کو کیا اور کتنا فائدہ ملا ہے۔ مارکیٹ میں کام ٹھپ ہو گیا ہے۔ ای مارکیٹنگ کا کام نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے تھے جس سے پاکستان سے کافی اشیائے خوردونوش وغیرہ بیرون ملک ایکسپورٹ کی جاتی تھیں وہ بند۔ مارکیٹ کساد بازاری کا شکار ہوچکی ہے لیکن اب بھی سادہ لوح فالوورز جس خجل خواری سے دفاعی محاذ سنبھالے ہوتے ہیں ان پر حیرانی نہیں ہوتی کہ جب چار پانچ سال قبل دھرنے پر ایک ہی تقریریں بار بار سن کر بور نہیں ہوئے تو اب چار پانچ سال بعد حکومت کے بعد بھی شاید ایسے ہی رہیں گے۔

خیر اب مولانا صاحب بھی دھرنے کے لیے ایک ہفتے تک اسلام آباد میں ہوں گے کیا ان کے پاس بھی وہی بحالی جمہوریت کی تقریریں ہیں، کیا ان کے اگر مقاصد پورے ہوجاتے ہیں کہ حکومت چلی جاتی ہے یا وزیراعظم چلے جاتے ہیں اس کے بعد ان کے پاس کیا منشور ہے جس سے اس ملک کی گھسی پٹی عوام کو خالی تقریروں کے سوا کچھ فائدہ بھی حاصل ہوسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •