حماد حسن۔ تقدیس حرف کا ثناگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کالم نگاری اقلیم صحافت کی وہ تنگنائے ہے جسے عبور کرتے ہوئے اچھے اچھوں کا زہرہ آب ہوجاتا ہے۔ فنی لوازمات کا التزام برتتے ہوئے کالم کی تخلیق جس جگرکاوی کی متقاضی ہے وہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں۔ خون جگر کے بغیر کالم کا نقش ناتمام اور رنگ بے کیف ہوتا ہے۔ بقول سید ضمیر جعفری ”کالم آرائی میں عالم آرائی نہیں، تیشے سے بربط کوہسار بجانے کی لٹک نہیں، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں تو وہ اداریہ ہے، شذرہ ہے، جواب مضمون ہے، انشائیہ ہے، اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے مگر کالم نہیں“۔ اگر ان کی اس رائے کو قول فیصل تسلیم کیا جائے تو یہ محاکمہ آپ ہی کیجیے کہ فی زمانہ کتنے کالم نگار اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ کتنے ہیں جنہوں نے پندار قلم کا بھرم قائم رکھا ہے اور اسے وسیلہ لطف وعنایت نہیں بنایا۔ کتنے ہیں جو تقدیس حرف ولفظ کے حدی خواں ہیں اور حرمت قلم کے سوداگر نہیں بنے۔ قلم قبیلے کا مشاہدہ کیجیے تو آپ کو حماد حسن ان معدودے چند سرخیلوں کی صف میں نظر آئیں گے جنہوں نے خون جگر سے پرورش لوح و قلم کا بیڑا ٹھا رکھا ہے۔ انہوں نے قلم کو کاسہ دریوزہ گری کی بجائے تیغ بے نیام بنایا اور مولانا ظفر علی خان کی اس سنت پر عمل پیرا ہوئے کہ

 قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو۔ ۔ ۔ ۔

 تو مجھ سے سیکھ لے یہ فن اور اس میں بے مثال بن

حماد حسن کا تعلق پنج پیر ضلع صوابی کے ایک معزز مذہبی اورعلمی خانوادے سے ہے۔ والد محترم مولانا محمد طاہرؒ دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تحریک آزادی کے ایک عظیم مجاہد تھے۔ حماد کو حریت پسندی، حق گوئی اور بے باکی والد سے ورثے میں ملی۔ گھر کے علمی ماحول نے ان کی صلاحیتوں کو جلابخشی اور والدبزرگوار کی تربیت نے روشن ضمیری کے وصف سے آشنا کرایا۔ حماد حسن کو میں کب سے جانتا ہوں اور ہمارے درمیان بیگانگی کا ابر گراں بار کب کھلا، اب تو ذہن کے نہاں خانوں سے یہ یاد تک محو ہو چکی ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کی نشستوں میں ملاقات ہو جاتی تو کبھی کبھار صحافتی اداروں اوردفاتر یا کسی مشترکہ دوست کے ہاں۔

حماد حسن ایک فطری شاعر، منفرد ادیب، تاریخ کا زیرک طالب علم اور آزاد منش کالم نگار ہے۔ ان کے کالم ”آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی“کی عملی تفسیر اور سچائی وصداقت کا استعارہ ہیں۔ دیواستبداد جمہوری قبا میں پائے کوب ہو یا پوشاک آمریت میں رقصاں، وہ حماد کے تیغ قلم سے مفر نہیں پاتا۔ وہ سماجی، معاشی، سیاسی، تاریخی، ملکی اور بین الاقوامی جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتا ہے اسے ہیرے کی طرح تراش کرایک ادبی شاہکار اور فن پارہ بنا دیتا ہے۔ حماد حسن کا طرہ امتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے کالم نویسی کی اس روایت کا احیاء کیا جو برصغیر میں اردوصحافت کا خاصہ رہی ہے یعنی ادبی کالم نگاری۔ ان کی تحریریں ادب اور صحافت میں خط فاصل کھینچنے والوں کیلئے مسکت دلیل ہیں۔ انہیں شکوہ قلم کا پاس بھی ہے اور احساس بھی۔ بقول احمد فراز

مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

 مرا قلم توعدالت میرے ضمیر کی ہے

 اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا

 جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے

حماد بھی اپنے قلم کو امانت جمہوراور عدالت ضمیر سمجھ کر جو بھی لکھتا ہے تپاک جاں سے لکھتا ہے۔ وہ کالم نگاری میں خانہ پری کے قائل نہیں ان کی نگارشات جام جہاں نما کا عملی نمونہ ہیں جن میں واقعات عالم کی جھلک بھی ہے اور ادب کی چاشنی بھی۔ انہوں نے کالم نویسی میں جس رجحان کی طرح ڈالی، بعد ازیں قومی پائے کے معروف کالم نگاروں نے اسی پر اپنے کالموں کی عمارت کھڑی کی۔ معروف کالم نگار نصراللہ مرحوم کی رائے ہے کہ ”لکھنے والا ادیب ہے تو پھر کالم بھی ادب میں شمار ہو گا“۔ حماد حسن بھی کالم نہیں، ادب تخلیق کرتا ہے اور ان کے کالموں کا مجموعہ بھی ادبی تخلیقات میں ایک گرانقدر اضافہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •