12 اکتوبر1999ءکی شام غریباں


\"raziایک شام ایسی ہی تھی جیسی آج ہے۔ اور 17 سال پہلے وہ شام اسلام آباد میں اتری تھی۔ بہانہ آرمی چیف کی غیر قانونی تقرری کا بنایا گیا۔ ایک تقرری منتخب وزیراعظم نے کی اور اسے غیرمنتخب سپہ سالار نے مسترد کر دیا۔ جنرل مشرف اس وقت فضا میں تھے اور زمین پر ان کے احکامات پر عملدرآمد ہو رہا تھا۔ ٹرپل ون بریگیڈ اسلام آباد کی سڑکوں پر آئی۔ فوجی جوان گیٹ پھلانگ کر سرکاری ٹی وی کی عمارت میں داخل ہوئے اور نشریات کا کنٹرول سنبھال لیا۔ وزیراعظم، ان کے اہل خانہ اوربہت سے قریبی ساتھی وزیراعظم ہاﺅس میں محبوس ہو گئے۔

آج 17 برس بعد بھی معاملات کم وبیش اسی نہج پر آ چکے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کشیدگی گزشتہ تین روز سے ابھر کرسامنے آ چکی ہے۔ تنازع کی بنیادی وجوہات کم وبیش وہی دکھائی دے رہی ہیں جو 1999ء میں تھیں۔اُس وقت کارگل کا تنازع رفتہ رفتہ منتخب حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا تھا۔ اب بھی بھارت کے ساتھ کشیدگی ہی اختلاف کی بنیاد ہے۔ اُس وقت بھی غیرریاستی قوتیں جنہیں اب غیرریاستی اداکاروں کا نام دیا جاتا ہے، سرگرم تھیں۔ اوراس مرتبہ بھی غیرریاستی اداکاروں کی سرگرمیاں ایوانوں میں گرماگرمی پیدا کررہی ہیں۔ اُس وقت ابھی مولانا مسعود اظہر کا نام منظرعام پر نہیں آیا تھا۔ وہ حکومت ختم ہونے کے دوماہ بعد بھارتی طیارے کی ہائی جیکنگ کے نتیجے میں رہائی پا کر پاکستان منتقل ہوئے تھے لیکن آج وہ پاکستان میں ہی محفوظ مقام پر موجود ہیں اوربھارت کی جانب سے ان کی حوالگی کے مطالبے ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب حافظ سعید کو بھی بھارت کی طرف سے سنگین الزامات کاسامنا ہے اور حکومت پر اس حوالے سے عالمی دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی وہ معاملات ہیں جو گزشتہ ہفتے حکومت اور فوج کے درمیان بنیادی تنازعے کی صورت اختیار کر گئے اور اس خبر کی اشاعت کے بعد ڈان کے سینئر صحافی سیرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔

\"coup\" 12 اکتوبر1999ء کو جو شام اسلام آباد میں اتری وہ بعض افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے شام غریباں کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ پرویزمشرف اس کے بعد طویل عرصہ بلاشرکت غیرے اقتدار پر قابض رہے۔ جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی۔ جمہوریت پسندوں پر زندگیاں تنگ کر دی گئیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور اکبر بگٹی جیسے سیاسی رہنماﺅں کو قتل کیا گیا۔ آئین توڑا گیا۔عدلیہ کو روندا گیا۔ لیکن وہ جس نے یہ سب کچھ کیا وہ آج بھی غداری، قتل اورایسے ہی سنگین جرائم کے باوجود دنیا بھر میں آزادی سے دندناتا پھر رہا ہے۔ اگرچہ اس کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا تھا لیکن ہماری آزاد عدلیہ اسے بیرون ملک جانے سے نہ روک سکی۔ سوال یہ زیربحث ہے کہ ان 17 برسوں میں ہم نے کیا کھویا ،کیا پایا؟ اورکیا ہم نے تاریخ سے کوئی سبق بھی حاصل کیا؟ جواب یہ ہے کہ ہم نے تاریخ سے کبھی بھی سبق حاصل نہیں کیا۔ اس مرتبہ جو شام اسلام آباد پر منڈلا رہی ہے اگر یہ کسی روز اتر آئی تو حالات میں معمولی سا بھی ارتعاش پیدا نہیں ہو گا۔ منتخب حکومت اور جمہوریت کا خاتمہ ہمارے ہاں معمول کی بات ہے۔ 12 اکتوبر 1999ء کی شام لاہور سمیت کئی شہروں میں منتخب حکومت کے خاتمے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور مبارکبادیں دی گئی تھیں۔ ممکن ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہو۔ ہم نے تاریخ سے چونکہ کچھ نہیں سیکھا اس لیے یہاں تاریخ خود کو باربار دہراتی ہے۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “12 اکتوبر1999ءکی شام غریباں

  • 12/10/2016 at 9:34 شام
    Permalink

    Nice blog Razi Bhai on the eve of 12th October.You are right in saying that today the scenario is as same as it was in 1999 ,but the million dollar question is that ,Did we Pakistanis have learnt any lessons from the past ? or we will still welcome any !unconstitutional take over if there is

Comments are closed.