میر انیس کی پہلی اور آخری مجلس
اس شیش محل میں کئی مجالس اس سے پہلے بھی پڑھ چکے تھے۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ یہاں عشرہ بھی پڑھتے رہے۔ بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے آخری عمر میں انہوں نے مجالس میں جانا ترک کر دیا تھا۔ اس پر نواب باقر علی خان نے ان سے گزارش کی کہ آپ نے ہمارے ہاں ہی سے مرثیہ پڑھنا شروع کیا تھا لہٰذا جب تک آپ کی ہمت ساتھ دیتی ہے تب تک ہمارے امام بارگاہ کو رونق بخشتے رہےں۔ یہ سنتے ہی میر انیس مجالس پڑھنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے لکھنو کے امام بارگاہ ترمنی گنج میں اپنی زندگی کا آخری عشرہ پڑھا۔ ان مجالس کے بعد انہوں نے تبرکاً کچھ چھوٹی چھوٹی مجالس بھی پڑھیں لیکن وہ اپنی زندگی کی بڑی مجالس پڑھ چکے تھے۔ اب وہ اپنی شاعری میں بھی اپنی بیماریوں کا ذکر کرنے لگ گئے تھے۔ انتقال سے چند سال پہلے انہوں نے کچھ یوں اپنی پریشانیوں اور بیماریوں کا ذکر کیا:

ضعف اس برس بہت ہے، اجل آ نہ جائے آہ
دفنِ علی اصغر کا ہے پُر درد بہت حال
کرشہ سے یہی عرض کہ اے فاطمہؑ کے لال
بیمار انیس جگر افگار ہے امسال
یہ میرا مرض دور ہو یاور رہے اقبال
ہو دادرسِ خلق مری داد کو پہنچو
اے شاہِ شہیداں مری امداد کو پہنچو
گر مسیحِ دو جہاں کا ہو افضال انیس
اچھے یوں ہوئیں گے جیسے کبھی بیمار نہ تھے
ہر لحظہ گھٹی جاتی ہے طاقت میری
بڑھتی ہے گھڑی گھڑی نقاہت میری
آتا نہیں آبِ رفتہ پھر جو میں انیس
اب مرگ پہ موقوف ہے صحت میری
ہے سخت ملول طبعِ ناساز مری
نوحہ ہے صدائے نغمہ پرواز مری
اﷲ رے زور ناتوانی کا انیس
آوازہ¿ مرگِ دل ہے آواز مری
میر انیس کا انتقال 29 شوال 1291ھ / 10 دسمبر 1874ءکی شام کو ہوا۔ لیکن ان کی پڑھے گئے مرثیے آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ اور خاص طور پر جب میر انیس کسی مجلس میں مرثیہ پڑھنے آتے تو ان کی اس مجلس کا اعلان کئی دن پہلے کر دیا جاتا۔ میرِ مجلس کو آنکھوں پہ بٹھایا جاتا۔ حقے کے دور چلنے لگتے۔ مجلس شروع ہونے سے پہلے لوگ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے۔لیکن ان کی نظریں میر انیس کی منتظر ہوتیں۔ جیسے میر انیس مرثیہ پڑھنے پہنچتے تو بانی¿ مجلس فوراً حقے ہٹا دینے کاحکم جاری کرتا۔ جن طشتریوں میں پان اور دیگر چیزیں موجود ہوتی تھیں ان کو ہٹا دیا جاتا۔ ساری مجلس ہمہ تن گوش ہو کر منبر کی طرف دیکھنا شروع کر دیتی۔ منبر کو ہمیشہ سیاہ پوش سے ڈھانپا جاتا تھا کہ یہی رنگ مجلس کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔ منبر کے دائیں بائیں اگر دو علَم لگے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میر انیس آج حضرت عباسؑ کا مرثیہ پڑھیں گے۔ اگر منبر کے قریب جھولا دکھائی دیتا تو حاضرینِ مجلس سمجھ جاتے کہ آج حضرت علی اصغرؑ کا مرثیہ میر انیس پڑھیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ میر انیس کا مجلس میں استقبال بھی ان کے شایانِ شان ہوتا۔ منبر پر بیٹھتے ہی وہ کچھ دیر تک خاموش رہتے اس کے بعد دُعائیہ کلمات ادا کرتے پھر بستہ دار مودب انداز میں منبر کے قریب جا کر انہیں مرثیہ پیش کرتا۔ میر انیس مرثیہ بائیں ہاتھ میں لے کر دایاں ہاتھ زانو پہ رکھ کے دھیمی آواز میں دو تین رباعیات پڑھتے۔ پھر امامِ حسینؑ کے حضور سلام کا نذرانہ پیش کرتے۔ داد و تحسین کے شور میں وہ پھر مرثیہ پڑھتے اور اس کے بعد مجلس کی حالت کچھ یوں ہوتی کہ میر انیس مرثیہ پڑھ رہے ہوتے اور بقول شمس العلماءمولانا ذکاءاﷲ کے ”میر انیس کا طرزِ بیان جوانوں کو مات کرتا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ منبر پر ایک کل کی بڑھیا بیٹھی لڑکوں پر جادو کر رہی ہے جس کا دل جس طرف چاہتی ہے پھیر دیتی ہے اور جب چاہتی ہے ہنساتی ہے اور جب چاہتی ہے رلاتی ہے۔“
توقیر ترے ہی آستانے سے ملی
عزت ترے در پہ سر جھکانے سے ملی
مال و زر و آبرو دین و ایماں
کیا کیا دولت ترے خزانے سے ملی!

