مجھے نواز شریف پر ترس نہیں آتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو سال پہلے کی بات ہے کہ جنوبی پنجاب کے ایک ضلع کے گاؤں میں ایک بااثر زمیندار گھرانے کے ایک مرد پر توہین مذہب  کا مقدمہ درج کروایا گیا۔ مجھ تک یہ واقعہ میرے ایک جاننے والے کے توسط سے پہنچا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ زمیندار گھرانہ ایک اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مرد کا اٹھنا بیٹھنا ایک مذہبی گھرانے کے فرد کے ساتھ ہو گیا۔ ہم اقلیتی عقیدے کے فرد کا نام الف اور مذہبی گھرانے کے فرد کا نام جیم تصور کر لیتے ہیں۔

الف اور جیم میں گاڑھی چھننے لگی۔ یہ دوستی اتنی بڑھی کہ جیم نے الف کے عقیدے میں دلچسپی کا اظہار کر دیا۔ الف نے اس کو اپنے عقیدے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا جس پر جیم نے اس عقیدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ باتیں جیم کے توسط سے مذہبی گھرانے تک پہنچ گئی۔ مذہبی گھرانے کے کرتا دھرتاؤں نے اس معاملے سے نبٹنے کی انوکھی ترکیب سوچی۔

ایک دن جب الف اور جیم، الف کے ڈیرے کی بیٹھک میں موجود تھے تو جیم کے گھر اور محلے کے کچھ افراد سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وہاں پہنچے اور جیم کو وہاں سے لے جانے کی کوشش کی۔ جیم نے مزاحمت کی تو جیم کے گھر والوں نے اس سے زور زبردستی کی۔ الف نے جیم کی مدد کرنے کی کوشش کی تو جیم کے گھر والوں نے شور مچا دیا اور الف پر توہین مذہب کا الزام عائد کر دیا۔

معاملہ دیکھتے ہی دیکھتے سنگین ہو گیا۔ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ الف نے اپنی جان خطرے میں دیکھی تو وہاں سے فرار ہونے میں عافیت سمجھی اور فرار ہو گیا۔ معاملہ پولیس تک پہنچا اور blasphemy کا مقدمہ درج ہو گیا۔ الف مفرور تھا۔ پولیس نے الف کو حاضر کروانے کے لیے الف کے خاندان کے افراد کو دھر لیا۔ مجبوراً الف کو حاضر ہونا پڑا۔

اہالیان علاقہ الف کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ الف کے خاندان پر خوف چھایا ہوا تھا۔ ایسے میں وہ لوگ بھی اپنا حساب برابر کرنے کے لیے میدان میں نکل آئے جن کے ساتھ الف کے خاندان کے زمین کے معاملات پر کچھ تنازعات تھے۔ پولیس نے الف کو گرفتار کر کے تفتیش کی اور چالان کاٹ کر عدالت میں تعزیر پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ دائر کر دیا جس کی سزا موت ہے۔ مقدمہ شروع ہوا۔ الف کو جیل کی کال کوٹھری میں قید کر دیا گیا۔

مقدمہ تقریباً پونے دو سال تک چلتا رہا۔ الف کی ضعیف ماں کو الف کے گرفتاری دینے اور جیل جانے کا نہیں بتایا گیا تھا۔ ماں کے استفسارات کے جواب میں اس کو یہی بتایا جاتا کہ اس کا بیٹا کسی دوسرے شہر میں محفوظ مقام پر موجود ہے۔ اس کی تسلی کے لیے الف کی ایڈٹ شدہ تصاویر (جب وہ عدالت میں پیشی پر لایا جاتا اور ہتھکڑیاں تصویر میں سے کاٹ دی جاتیں) دکھائی جاتیں اور پولیس کی کچھ منت سماجت کے ساتھ ماں سے الف کی مختصر بات کروا دی جاتی۔

گواہوں کے بیانات میں تضاد کے باعث مقدمہ کچھ کمزور ہو گیا تھا لیکن علاقے کے بااثر لوگ اور مذہبی طبقات عدالت پر دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔ تین جج اس مقدمے کو سننے سے معذرت کر چکے تھے۔ کئی وکیل دھمکیاں ملنے کے بعد کیس کی پیروی سے الگ ہو چکے تھے۔ الف کے گھر والے جیسے تیسے مقدمے کو آگے بڑھا رہے تھے۔

ایسے میں ایک سانحہ ہو گیا۔ الف کی عدالت میں پیشی تھی۔ پیشی سے پہلے پولیس نے الف کو برآمدے میں بٹھایا ہوا تھا جہاں پر کسی واقف کار نے اس کی ہتھکڑیوں سمیت تصویر بنا لی۔ کچھ دن بعد وہ واقف کار الف کے گھر پہنچے اور الف کی ماں کو وہ ہتھکڑی لگی تصاویر دکھا دیں۔

ماں کے لیے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ وہ چکرا کر گری اور پھر دوبارہ اٹھ نہ سکی۔ ماں کو فوری طور پر اسپتال لے کر جایا گیا جو جیل کے بالکل نزدیک تھا۔ ڈاکٹروں نے الف کی ماں کی صحت کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔ ماں اسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھی اور کوئی لمحہ جاتا تھا کہ اس کی سانسیں پوری ہو جاتیں۔

جیل حکام اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ الف کو اس کی ماں سے اسپتال میں ملاقات کی اجازت دی جائے لیکن یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔ یہاں تک کہ کال کوٹھڑی میں قید الف کو اس واقعے کی اطلاع دینا بھی ممکن نہ ہو سکا۔ ماں کا دل اپنے بیٹے کی ہتھکڑی لگی تصویر برداشت نہ کر سکا اور تیسرے دن دھڑکنا بند کر دیا۔

الف کے خاندان کے لیے یہ دوسرا سانحہ تھا۔ ایسے میں جیل حکام کو ترس آ گیا اور انھوں نے الف کو ماں کا آخری دیدار کرنے کی اجازت دے دی۔

یہ آخری دیدار ایسے کروایا گیا کہ ایک ایمبولنس میں ماں کا جسد خاکی رکھ کر جیل میں لے جایا گیا۔ ایمبولنس کو ایک پولیس والا چلا رہا تھا اور ماں کی میت کے ساتھ اور کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ الف کو ہتھکڑیوں سمیت جیل کے اندر ایمبولنس تک لایا گیا۔ وہیں اسے ماں کے مرنے کی خبر سنا کر آخری دیدار کے لیے ایمبولنس میں داخل ہونے کی ہدایت دی گئی۔

وہ وقت کیسا تھا۔ غم کی شدت کیا تھی اور الف پر اس لمحے کیا بیت رہی تھی یہ میں لکھنے سے قاصر ہوں کیونکہ یہ جس پر بیتتی ہے وہی جان سکتا ہے۔

ماں کی وفات کے کچھ ماہ کے بعد کیس کا فیصلہ الف کے حق میں ہو گیا اور عدالت نے الف کو جرم ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کر دیا۔ جان کے خطرے کے پیش نظر الف کو جیل سے آدھی رات کو رہا کیا گیا اور اسی وقت اسے وہاں سے ایک دوسرے شہر منتقل کر دیا گیا۔

مجھے الف کی تصاویر جیل جانے سے پہلے اور بری ہونے کے بعد دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک درد ناک اتفاق تھا۔ اچھا خاصا کڑیل انسان ایک جھوٹے الزام کی بدولت کچھ کا کچھ ہو گیا۔ کال کوٹھڑی کی قید اور ماں کی جدائی نے اس کی کمر توڑ دی۔ محاورۃ نہیں بلکہ حقیقتاً اس کی کمر جھک گئی۔

یہ اس ملک کے ایک عام آدمی کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے اور یہ کوئی انوکھا سلوک نہیں ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں ایسی لاتعداد کہانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ ہمارے قانون اور انصاف کے نظام کے ہتھے جو بھی چڑھتا ہے وہ اپنی سات نسلوں کی پیدائش پر ماتم کرتا ہے۔

ایسے میں بدعنوانی کے جرائم میں سزا کاٹتے ہوئے پاکستان کے تین مرتبہ کے وزیر اعظم نواز شریف کی بیماری پر ہونے والا شور شرابا دیکھا۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے بیانات دیکھے۔ میڈیا کی پل پل کی رپورٹ دیکھی۔ مریم نواز شریف کا عدالت میں رونا دیکھا اور آج نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی خبر سنی۔

مجھے نواز شریف پر بالکل ترس نہیں آیا۔ کوئی ہمدردی محسوس ہوئی اور نہ ہی دل سے ان کے لیے کوئی خیر کی دعا نکلی۔ ان لوگوں کے لیے قانون موم کی ناک ہے جس کو جب چاہے جیسے چاہے مروڑ دیا جاتا ہے۔ ان کو چھینک بھی آ جائے تو اسپتال کے وی آئی پی کمرے ان کے استقبال کو تیار رہتے ہیں۔ ان کو جیلوں میں ان کے من پسند کھانے پہنچتے ہیں۔ نواز شریف اسپتال پہنچیں تو مریم نواز تڑپ کر جیل سے اسپتال پہنچ جاتی ہیں لیکن کسی بھی الف کی ماں وینٹی لیٹر پر اپنے آخری سانس لے رہی ہو تو قانون اپنی گردن میں سریا ڈالے اکڑ کر کھڑا رہتا ہے اور ماں مر جاتی ہے۔

ماں باپ ہمیشہ نہیں رہتے۔ ایک دن مر جاتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ کسی صاحب اقتدار و اختیار کی ماں یا باپ الف کی ماں کی طرح مرے اور اسے جیل میں ایمبولنس پر ماں کی میت کے سامنے لا کر ماں کے مرنے کی خبر سنائی جائے اور آخری دیدار کا موقع دیا جائے تو شاید انسانیت نام کی کوئی چیز کسی پتھر میں کوئی پھول اگا دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 110 posts and counting.See all posts by awais-ahmad