نواز شریف کی ضمانت: حامد میر نے کمرہ عدالت میں کارروائی کی اندرونی کہانی بتا دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ضمانت دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کی قانون میں بھی پوری گنجائش موجود ہے اور انسانی بنیادوں پر بھی یہ فیصلہ بالکل درست ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج جو سماعت ہوئی اور چیف جسٹس اطہر امن اللہ نے جو سوالات اٹھائے اور مختلف حکومتی اداروں سے جو کچھ پوچھتے رہے، اس سے یہ نظر آ رہا تھا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ قیدی کی حالت بہت تشویشناک ہے، اسے بہت سے طبی مسائل کا سامنا ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے بارے میں خود آ کر کہے کہ اس قیدی کی صحت بہت تشویشناک ہے، اس لئے ہم انہیں طبی امداد مہیا کرنا چاہتے ہیں۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ یہی کہہ رہے تھے کہ آپ عدالت کے کندھے کیوں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔  سماعت کے دوران نیب کے وکلا بھی واضح جواب نہیں دے رہے تھے جبکہ پنجاب حکومت کا نمائندہ بھی واضح جواب نہیں دے رہا تھا جس پر ان سب کو وقت دیا گیا اور وہ دوبارہ واپس آئے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے تین دن کے لئے ضمانت دیدی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حالت کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ بہت تشویشناک ہے اور آج سے نہیں بلکہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے تشویشناک ہے جبکہ پنجاب حکومت کے مختلف میڈیکل بورڈز بھی یہ تجویز دیتے رہے ہیں کہ انہیں فوری ہسپتال داخل کرانا چاہیے مگر اس حوالے سے بہت دیر کی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے منگل تک عبوری ضمانت دی ہے جس کے بعد اب منگل کو نواز شریف کے وکلاءیقینا ضمانت میں توسیع کی استدعا کریں گے اور عدالت مریض کی صحت کو سامنے رکھتے ہوئے مزید فیصلہ کرے گی۔

حامد میر نے بتایا کہ آج سماعت کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے چیف جسٹس نے ٹی وی اینکرز کو بلایا اور بہت ہی آرام سے کہا کہ موجودہ حالات میں اینکرز یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈیل ہو گئی ہے۔ عدالت نے ایک ٹی وی چینل کے اینکر (سمیع ابراہیم) کا نام لیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اگر نواز شریف کی ضمانت ہوتی ہے تو میں با اعتماد طریقے سے کہتا ہوں کہ ڈیل ہو گئی ہے تو آپ بتائیں کہ کیا ڈیل ہو گئی ہے؟ جس پر وہ اینکر خاموش ہو گئے لیکن مجھ سمیت دیگر کچھ اینکر صاحبان نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے ڈیل کی باتیں نہیں کیں جس کے بعد عدالت نے کہا کہ آپ اپنے تحریری جواب جمع کرا دیں اور پھر سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت سے متعلق درخواست کی سماعت شروع ہوئی۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ عدالت نے جب نواز شریف کو ضمانت دینے کا فیصلہ سنایا تو مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کچھ نے کہا کہ وہ شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے علاوہ نواز شریف کی صحت کے لئے بھی دعا کریں گے۔  عدالت نے خالص طبی بنیادوں پر یہ فیصلہ کیا ہے اور ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکی کیونکہ نیب کچھ اور کہہ رہی تھی، حکومت کے وکلا کچھ اور کہہ رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •