مولانا فضل الرحمن بدلہ لے رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایک طاقتور شخص نے کسی ناتواں کے سر پر پتھر دے مارا، ناتواں شخص کے سر سے خون بہنے لگا مگر اس کے پاس طاقت نہیں تھی کہ وہ اس وقت اس کا جواب دیں۔ غریب نے وہ پتھر اٹھالیا اور اپنے جیب میں رکھ لیا اور ساتھ میں سر کا زخم اپنے ساتھ ہرا رکھا۔ کچھ عرصہ بعد طاقتور شخص کو بادشاہ نے اپنی ’چاہ‘ میں لیا اور اسے اپنا وزیر مقرر کردیا۔ اس کی تقریب کے دوران ہی غریب اور ناتواں شخص پتھر لیکر پہنچ گیا، اور زور سے وہی پتھر وزیر کے سر پر دے مارا۔ ہنگامہ کھڑا ہوگیا، وزیر نے حملہ آور سے پوچھا کہ کون ہو تم؟ حملہ آور نے بتایا کہ میں بھی وہی ہوں اور یہ پتھر بھی وہی ہے، جو اُس روز تم نے میرے سر پر دے مارا تھا۔ وزیر نے پوچھا کہ اتنے دنوں تک کہاں تھے اور اس تقریب کا انتخاب کیوں کیا ہے؟جواب دیا کہ میں تمہاری ’جاہ‘ سے ڈرتا تھا، اب تمہیں چاہ میں دیکھا تو موقع کو مناسب اور غنیمت سمجھا ہے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کی کہانی بھی اس طاقتور اور ناتواں کی جیسی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اگرچہ کسی بھی زاویہ سے عمران خان کے مقابلے میں ناتواں نہیں اور عمران خان کسی بھی زاویہ سے مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں طاقتور نہیں ہے لیکن سیاست کے اکھاڑ پچھاڑ میں دونوں بالائی کرداروں میں برابر فٹ نظر آتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا ووٹ بنک بھی مستقل ہے اور قابل اعتماد بھی ہے لیکن مولانا فضل الرحمن کا اس بات کا علم ضرور ہے کہ وہ کبھی بھی سیاسی لہر کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں اور جتنی پکی نشستیں ہیں انہی پر گزارہ کرکے چلنا ہے جبکہ اس کے برعکس عمران خان کا ووٹ بنک بھی مستقل نہیں ہے اور قابل اعتماد بھی نہیں ہے لیکن عمران خان کو اس بات کا فائدہ پہنچ رہا ہے کہ وہ غیر مستقل ووٹ بنک کی بنیاد پر وزیراعظم بن گئے جس نے سیاسی لہر کا فائدہ اٹھالیا، اسی آشیربادی سیاسی لہر کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ناتواں اور عمران خان طاقتور ہے۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سیاست میں 22سالہ جدوجہد کا نعرہ صرف تحریک انصاف کے چند حلقوں تک محدود ہے جبکہ حقیقت یہی ہے کہ تحریک انصاف نے موجودہ روانی کی سیاست کا آغاز 2011 میں مینار پاکستان کے جلسے سے کیا ہے۔2012 سے قبل تنقید اور توپوں کا رخ کہیں اور ہوا کرتا تھا 2012 کے بعد معاملات فہمی کی بنیاد پر توپوں کا رخ تبدیل کردیا۔ محض 6 سالوں میں تحریک انصاف اپنے عروج پر پہنچ گئی جس سے آگے ابھی منزل دھندلی ہے۔ اس کے برعکس جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ ضیاء الحق کے دور سے میدان سیاست میں موجود ہے اور ہر آنے والا دن گزشتہ دن کے مقابلے میں ان کا بہتر رہا ہے البتہ یہ بہتری اور اس کی رفتار انتہائی سست ہے حالانکہ ہر آنے والے روز مذہبی ووٹ کا قلع بھی قمع ہوتا جارہا ہے۔ 1988 کے انتخابات سے قبل فضل الرحمن جمہوریت بحالی تحریک کی پاداش میں کئی سال جیل میں ڈالے گئے اور انتخابات میں 7 نشستیں حاصل کرلیں۔
یہاں مقصد مولانا فضل الرحمن کے سیاسی کیریئر پر نظر ڈالنا نہیں ہے لیکن اس نتیجے کی طرف آنا ہے جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ فضل الرحمن کا ووٹ کبھی گھٹا نہیں ہے البتہ نشستیں ہمیشہ محدود رہی ہیں۔ محدود نشستوں اور بڑھتے ووٹ بنک کے علاوہ مذہبی جماعت ہونے کے ناطے فطری طور پر احتجاج کا عنصر موجود ہے جسے دیگر مذہبی جماعتوں میں دیکھا جاسکتا ہے لیکن سیاسی شعور اور دانش کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمن نے اس سے احتراز ہی کیا ہے۔ گزشتہ 15 سالوں میں کبھی کوئی ایسی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملی ہے کہ جس میں فضل الرحمن نے کسی دھرنے کی قیادت کی ہوں۔ مذہبی جماعتوں کے اس فطرت کی بنیاد پر ہمیشہ سے ان کو بطور پریشر گروپ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے مقابلے میں جماعت اسلامی کا سٹریکچر بہتر بھی اور مضبوط بھی ہے لیکن جماعت اسلامی ’دھرنے‘ کے فطرت کی وجہ سے دو کشتیوں میں سوار ہے، جبکہ دیگر تمام مذہبی جماعتیں گھستے گھستے اپنے بلوں میں جا پہنچے ہیں۔اس دلچسپ تعلق کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان کو انہی علاقوں میں مقبولیت کیوں حاصل ہوگئی ہے جہاں پر مولانا فضل الرحمن اپنا ووٹ بنک رکھتے تھے۔ 2013 کے انتخابات میں پہلی کوشش جو کی گئی اس میں تحریک انصاف کو داخل کرنے کی کوشش کی گئی اور پانچ سالہ پروپیگنڈے کے بعد مکمل کامیاب قرار دیدیا گیا۔
2012 سے عمران خان کے نئے سیاسی سفر کے دوران مقبولیت کے لئے انہیں وہی نعرے فراہم کردئے گئے جو مذہبی جماعتوں نے اپنے ووٹرز کے سامنے رکھے تھے۔ 2013 کے انتخابات کے دوران ان نعروں کے کاپی رائٹس پر بھرپور ہلچل بھی رہی تھی جب عمران خان نے کہا کہ ہم پانی پت کی جنگ لڑرہے ہیں۔ جس کے رد عمل میں مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ پانی پت کی جنگ کے امین اور وارث ہم ہیں اس کے علاوہ اسلامی فلاحی ریاست اور ریاست مدینہ کا محدود نعرہ مذہبی جماعتوں کے پاس تھا جسے چرا کر بنی گالہ میں محفوظ کردیا گیا اور یقینی طور پر ان نعروں کے سمت اور پوزیشن میں تبدیلی کا سب سے زیادہ نقصان جمعیت علماء اسلام کو ہی اٹھانا پڑا ہے۔ یہیں سے ان دونوں گروپوں کے سیاسی سفر میں مخالفت کا آغاز ہوگیا، اس تمام دورانیے میں مولانا فضل الرحمن کے اپنے منصب کی مجبوری تھی کہ عمران خان کے خلاف ’سیاسی‘زبان استعمال نہ کریں اور کسی موقع کی تلاش میں تھے۔ اور اس کا اختتام اب متوقع طور پر ’آزادی مارچ‘ پر اختتام پذیر ہوگا۔جس سے وفاقی حکومت اب اس قدر خوفزدہ ہوگئی ہے کہ طرح طرح کے الزامات عائد کرکے اپنی انا کو تسکین پہنچارہی ہے۔ انتظامیہ کو بھی احکامات دئے ہیں کہ ہر صورت اسلام آباد میں داخل ہونے نہیں دینا۔ ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی مولانا فضل الرحمن کے اس ’نرغے‘ میں آگئی ہے جو وہ ہمیشہ اپنی حیثیت اور استطاعت سے زیادہ کردکھاتے ہیں۔
یوں گزشتہ چھ سال سے زائد کے عرصے کے دوران میڈیا نے اس کہانی کا جو حصہ دکھایا گیا وہ زیادہ تر عمران خان کے الزامات پر مبنی تھا جبکہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے عائد کئے گئے الزام کو میڈیا میں پذیرائی نہیں ملی۔ یوں بھی مولانا فضل الرحمن کا الزام اس کا اپنا جنم کردہ نہیں بلکہ حکیم سعید نامی کسی شخص کی حکمت کا جنم کردہ تھا۔ چونکہ 2012 سے قبل والی غیر مقبول سیاست میں عمران خان پر اس الزام کو دہرانے کی ضرورت نہیں تھی اس لئے دبا رہا۔ گزشتہ چھ سالوں میں عمران خان کی بے لگام اور کنٹینر پر چڑھ کر اپنی ’جاہ‘ میں استعمال کی گئی زبان کا جواب دینے کے لئے مولانا فضل الرحمن کو موقع نہیں مل رہا تھا جو کہ ایک قوت ہے۔ اب چونکہ عمران خان ’بالآخر‘ وزیراعظم‘ بن گئے اور ’چاہ‘ کے حصار میں داخل ہوئے تو مولانا فضل الرحمن وہی پتھر لیکر آگئے ہیں۔ عمران خان اگر آج بھی مولانا فضل الرحمن کے نعروں کو واپس کردیں جن کی حیثیت سیاسی ایمان کی جیسی ہوتی ہے، تو ممکن ہے کہ مولانا فضل الرحمن ایک قدم پیچھے ہوجائیں گے۔ ورنہ صورتحال آئے روز گھمبیر ہوتی جارہی ہے جس کی نشاندہی چوہدری شجاعت حسین نے بھی کردی ہے۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •