سازش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی سازیش ہے،یہ سب کہانی ہے، اصل بات کچھ اور ہوگی، یہ ڈرامہ بازی ،اس کے پیچھے بھی کوئی ہاتھ ہوگئے یہ الفاظ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سنتے ہیں اور کہتے بھی ہیں۔یہ سب بے یقین کی کیفیات کی جو ہم پر طاری ہے۔حالت یہ ہوگی ہے کہ اب ہمیں ایک دوسرے کی بات پر بھی یقین نہیں رہا ۔ہم کو ہر چیز میں سازیش کی بو  اور کچھ خفیہ ہاتھ نظر آتے ہیں۔ کوئی دور تھا کہ آپ کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے کوشش کرنا پڑتی تھی جیسے کہتے تھے کہ ایک جھوٹ کے لیے سو جھوٹ بولنا پڑتے ہیں ۔مگر اب حالات یہ کہ سچ بھی ثابت کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو مرنا بھی پڑ جاتا ہے جیسے کہ  متحرمہ کلثوم نواز کو اپنی بیماری کو سچ ثابت کرنے کے لیے مرنا پڑا ۔ان کی بیماری پر کیسی کیسی باتیں کی گئیں اور کیا کیا پروگرام ہوئے۔ مگر افسوس کہ ہم نے اس سے بھی کچھ نہیں سیکھا اور آج نواز شریف کی بیماری پر بھی وہ ہی باتیں کی جا رہی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کے سیاسی مخالف ہی نہیں بلکہ ان چاہنے والوں کی بھی یہ حالت ہے۔ اگر وزیراعظم  عمران خان نے سیاست سے ہٹ کر انسانیت کے ناتے نواز شریف کے لیے تمام سہولیات فراہم کرنے کا کہہ کر ایک اچھی مثال قائم کی مگر اس کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے
مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ پورا معاشرہ اس حد تک کیسے پہنچا اور اس کے پیچھے کون سے ہاتھ ہے۔یہ بھی بات سچ ہے کہ ہمیں کبھی سچ نہیں بتایا گیا اور ہمیشہ ایک دھندلی تصویر دکھائی گئی۔ پھر جس کا جو دل چاہا اس نے اپنی مرضی کا مطلب نکال لیا۔ ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جو ان سازشی سوچ کو بھی کسی حد تک سچ ثابت کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنا ماضی دیکھیں تو وہ وقت بھی تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح انگریزی میں بھی تقریر کرتے تھے تو وہ لوگ جن کو سمجھ نہیں آرہی ہوتی تھی وہ یقین کرتے تھے۔ اس کی وجہ الفاظ یا زبان نہیں بلکہ کردار تھا۔ آج اگرچہ پڑھے لکھوں اور علم والوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہے مگر اعتبار اور سچ کہیں نہیں ملتا۔ دوسری بات کہ ہم نے جھوٹ کو کبھی برا سمجھا ہی نہیں یا پھر ہم نے اس کو اب برا سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔
ہمارا معاشرہ اس قدر تنزلی کا شکار ہے کہ ہم کو مسجد میں بیٹھنے سے لے کر بازار میں چلنا تک نہیں آتا۔ آج ہمارے پاس بہت سے تعلیمی درس گاہیں موجود ہے مگر پھر بھی تربیت کا فقدان نظر آرہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ اس معاشرہ کو آج تعلیم کے ساتھ تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم ان اقدار کے ساتھ اپنی نئی نسل کی تربیت کریں گے تو وہ دنیا کے ساتھ کیسے چل سکے گی۔ اگر ہم ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتے تو دنیا ہم پر یقین کیوں کرے گی؟ جھوٹ اور بے یقینی پر کھڑا معاشرہ دنیا کے ساتھ چلنا تو دور کی بات اپنے پاوں پر کھڑا نہیں  رہ سکتا۔ ہمیں سچ بولنے اور سچ سننے کی عادت ڈالنی ہوگی تاکہ یقین قائم ہو ایک دوسرے پر اور دنیا ہم پر اعتبار کرے۔ ہمیں درس گاہوں کے ساتھ تربیت گاہوں کی بھی ضروت ہے۔ ایسی تربیت گاہیں جو کسی وقت برصغیر میں اولیا اللہ نے قائم کیں جنہوں نے تعلیم یافتہ سے زیادہ تربیت یافتہ اچھے انسان پیدا کیے۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
معین سلطان کی دیگر تحریریں
معین سلطان کی دیگر تحریریں