ایک بات پوچھوں، مارو گے تو نہیں ہود بھائی کو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہود بھاٸی کے بیان یا لیکچر کی اتنی ہی اہمیت تھی کہ یہ دو دنوں کی بحث کا ہی سارا سامان تھا اور دیکھتے دیکھتے ساری گرد بیٹھ بھی گٸی۔ ہود بھاٸی کا اقبال سے موازنہ ہے ہی نہیں۔ جیسے اقبال کا میدان ساٸنس نہیں ہے ایسے ہی ہود بھاٸی شاعری سے متعلق نہیں ہیں۔ ہود بھاٸی میں یہ اہلیت تو ہے کہ وہ بتا سکیں کہ ساٸنس کی فلاں تھیوری غلط ہے اور فلاں صحیح مگر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ صناٸع و بداٸع کیا چیز ہے۔ بعینہ اقبال فزکس کے نہیں میٹا فزکس کے آدمی ہیں اور اس میں بھی انہیں کمال ہے اور شاعری میں میں تو ان کی نظیر لاٸی ہی نہیں جا سکتی۔

مگر معاملہ کچھ اور ہے کہ ہم Taboos بنا لیتے ہیں اور ان کے بارے میں بات تک کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ اقبال بھی ہمارے لاشعور میں میں ایک ٹیبو ہے بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر ہے۔ وہ اس لٸے بھی کہ اقبال کا کام ہی اتنا وقیع ہے۔ اقبال پر جتنا اور جس نوع کا کام ہوا ہے وہ اس کے مستحق بھی ہیں۔ ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی کی ضخیم کتاب کشف الالفاظ ہی لے لیں اس میں اقبال کے کلام کو الفاظ کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ آپ کوٸی لفظ لیں وہی لفظ کتاب کی فہرست میں دیکھیں تو وہ لفظ جملہ تفصیل کے ساتھ آپ کو مل بھی جاٸے گا اور وہ لفظ اقبال کے کلام میں کہاں کہاں کتنی مرتبہ اور کس کس مصرعہ میں استعمال ہوا ہے اس کی مکمل معلومات دستیاب ہیں۔

ہود بھاٸی نے تو ان کے ساٸینسی مطالعے کو موضوع بنایا ہے فراق گورکھ پوری نے ان کے فلسفہ اسلام کی عملی تعبیر کے متعلق کہا تھا کہ اگر اقبال مجاہد کی اذاں اور شمشیر و سناں کا درس دیتے ہیں تو کل کلاں دوسرے مذاہب کے شعرا بھی تلواریں سونت کر مقابلے میں آجاٸیں گے۔ فراق کا مقصد اقبال کو صرف بطور شاعر دیکھنا مقصود ہے۔ ہم اسی کام کی توقع ہود بھاٸی سے بھی رکھتے تھے۔

قاضی احمد میاں اختر جونا گڑھی سے جب کہا گیا کہ نصابِ تعلیم اقبال کے نظریہ تعلیم پر استوار ہونا چاہیے تو انہوں نے بلا تامل کہا کہ اقبال تو فن تعلیم سے بے بہرہ تھے اور نہ انہوں نے اس موضوع پر کچھ ارشاد فرمایا ہے۔ بس کچھ سال درس دیتے رہے اب یہی بات تو ہود بھاٸی نے اپنے تناظر میں کی ہے۔ اتنا کہہ دینے سے کہ

اور یہ اہل ِ کلیسا کا نظام تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

سے بات نہیں بنتی۔

اقبالِ مومن اور مردِ مسلمان کے اس لیے بھی شیدا تھے کہ ان کے اندر کی آگ ان کی خاندانی نو مسلمی کی دین تھی۔ اب یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ ان کے جد امجد حاجی لولی چار سو قبل حلقہ بگوش اسلام ہوٸے تھے فقط زیبِ داستان ہی ہے فی الاصل ان کے دادا سہج رام سپرو مسلمان ہوٸے تھے اور ان کو اپنے پنڈت یا برہمن ہونے پر بھی ناز تھا۔ صرف ایک دو نسلوں سے کسی مذہب پارٹی یا نظریہ یا کسی تحریک سے وابستہ ہونا آپ کے اندر آگ بھر سکتا ہے اور یہ آگ بڑی دیر کے بعد بجھتی ہے خود اقبال کی آگ ان کا پسندیدہ موضوع ہے

انتظار صبح خیزاں می کشم

اے خوشا زر تشتیان آتشم

اور

حلقہ گرد من زنید اے پیکران آب و گل

آتشی در سینہ دارم از نیاکان شما

یہ کہنا کہ اقبال ساٸنس کے مخالف تھے تو بظاہر ایسے ہی نظر آتا ہے کیونکہ وہ عقل پر عشق کو فوقیت دیتے ہیں اور اس سے یعنی عقل سے آگے گزرنے کی تلقین کرتے ہیں اور اسے منزل نہیں مانتے، منزل ان کی عشق ہی ہے لیکن انہوں نے کبھی ساٸنس کی تعلیم کی مخالفت کہیں بھی نہیں کی۔ وہ کوٸی ایسی نسل کے آرزو مند نہیں تھے کہ جو جدید تعلیم اور تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو۔ وہ مسلم نوجوان میں نٸی امنگ پیدا کرنے کے خواہاں تھے کہ نٸی نسل نظریاتی طور پر مغرب کی طرف نہ دیکھے۔

ان کا تضاد یہ تھا کہ تعلیم تو مغرب کی ہو مگر نظریاتی طور پر پیروی مغرب نہ ہو۔ یہی ایک تضاد جو ہود بھاٸی نے اٹھایا۔ البتہ جو باتیں ہود بھاٸی نے عام فہم انداز میں کی ہیں بدیہی طور پر درست ہیں۔ اقبال نے ضرور مغربی مفکرین پڑھے ہیں اور ان کے اثرات بھی ان پر ہیں مگر ہم اقبال کو کیوں ایک ٹیبو کی حیثیت یا غلاف میں بند رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کو اوپن کیوں نہیں کرنے دیتے۔ اس سے اقبال کا قد کم نہیں ہو گا ہمیں کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا اور ہم دولہ شاہ کے چوہوں سے ذرا اوپر اٹھ سکیں گے۔ اگر اقبال نے وہ ساٸنس نہیں پڑھی جس کی طرف ہود بھاٸی نے اشارہ کیا ہے تو کیا ان کا سوشل باٸیکاٹ کر دیں۔ یہ معاشرہ تو ویسے ہی سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ پہلے سے تیار شدہ جوابات موجود ہیں ان کو مدِ نظر رکھ کر سوال اٹھانے پڑتے ہیں ورنہ اپنا جینا دوبھر کرنے کا آپ خود انتظام کر رہے ہیں۔

ہود بھاٸی نے تو صرف یہ کہا کہ اقبال نے ساٸنس نہیں پڑھی اور اگر پڑھی ہے تو لوگ بتا دیں کہ ہاں پڑھی ہے۔ اقبال نے ساینٹفک بنیادوں پر تمام مغربی ساٸنس دانوں کو پڑھا تھا مگر ان کا موضوع یہ تھیوریاں نہیں تھیں اور نہ ہی وہ لیبارٹری کے آدمی تھے۔ اور یہی بات ہود بھاٸی نے کی ہے تو کیا غلط کیا؟ جو ہود بھاٸی نے کہا ہے وہ اور بھی کٸی لوگوں کے گلے کی پھانس ہے۔ اسی پر بس نہیں سب کے علم میں ہے اقبال نے مشہورِ عالم عشق کا نظریہ ابن عربی سے لیا ہے۔

علی عباس جلالپوری کے بقول ابن عربی نے یہ نظریہ یونان کی مشہور عالم استاد شاگرد جوڑی سے مستعار لیا تھا اور دوٸم گستاخی معاف اقبال کا ہیرو ابلیس ہے، جبریل نہیں ہے جو انکار اور بغاوت کا سمبل ہے اور جو دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے صرف اللہ ہو اللہ ہو کا ورد ہی نہیں کرتا۔ اب کیا لوگ اس بات پر بھی لٹھ اٹھا لیں گے۔ ہود بھاٸی جیسے لوگوں کو بات کرنے دیں کہ بات سے کٸی طرح کی الجھنیں دور ہوتی ہیں اور نقاب اترتے ہیں اور بات کرنے سے پہلے صلاح الدین کی طرح پوچھنا نہیں پڑتا، ایک بات پوچھوں مارو گے تو نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •