سیاست کا عہد کنٹینر!

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کی سیاسی سٹیج پر ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا نعرہ لے کر اٹھے اور بڑے بڑے بت زمیں بوس نہ بھی ہو ئے تو لرز ضرور گئے۔

لرزے اس لیے کیونکہ ان کے پائیدانوں تلے، کئی برسوں کے غلط فیصلوں کی سیلن، اقربا پروری کی کیچڑ، سمجھوتوں کی دلدل اور مفاد پرستی کی کائی جمی ہوئی تھی۔

ہم نے دنیا کے اسفار کے دوران جو بت دیکھے وہ سنگی پائیدانوں پر بڑی مضبوطی سے جمے کھڑے تھے۔ آتے جاتے سیاح ان کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں بنواتے تھے اور وہ مجال ہے کہ اپنی جگہ سے ہل جائیں۔

ان بتوں کے دھوکے میں ایک روز ہم کپڑوں کی دکان میں رکھے پتلے کے قریب سے بے پرواہی سے گزر گئے۔ وہ چھ فٹ کا مردہ، کپڑوں کے جوڑوں سمیت کئی گاہکوں کو لپیٹ میں لیتا زمین بوس ہو گیا۔ خود بھی چکنا چور ہوا اور ہمیں بھی شرمندہ کرایا۔

خیر غلطی ہماری تھی، وہ مجسمے جو ہم جا بجا دیکھتے آئے تھے ان لوگوں کے تھے جن کے مجسمے بنانا زیب بھی دیتا ہے۔ یہ بے چارہ پتلا تو بجوکے کی طرح کپڑے منڈھ کے کھڑا کیا تھا، نہ پہچان، نہ شناخت، نہ ہی کوئی کام ایسا کہ یاد رکھا جائے۔

یہ تو ایک غیر متعلقہ بات تھی۔ میں کہہ یہ رہی تھی کہ سیاسی افق پر بڑی گھن گرج ہے۔ ملک کے ایک سابق وزیر اعظم اور ایک سابق صدر، سخت علیل ہیں۔ دونوں کی صحت یابی کے لیے دلی دعائیں۔

نواز شریف

ان دونوں اور ان کے علاوہ بھی بہت سے اپوزیشن لیڈران کی مختلف مقدمات میں گرفتاری کے باعث ایک بہت بڑا سیاسی خلا پیدا ہو گیا تھا۔ عین اسی طرح جیسے کسی جگہ گرمی کے باعث ہوا اوپر اٹھتی ہے تو آس پاس سے ہوا بگولوں اور آندھیوں کی صورت میں اس کی جگہ لینے کو بڑھتی ہے۔

پھر اس آندھی کے ساتھ، دھول بھی ہوتی ہے، خاروخس بھی اور کہنے والے کہتے ہیں کہ ہوائی مخلوقات بھی ہوتی ہیں۔

کچھ اسی طرح اپوزیشن کو دیوار سے لگا دینے، ہر مخالف آواز کا گلا گھونٹ دینے، گالم گلوچ، بد زبانی اور فوٹو شاپ سے اپنی دھاک بٹھانے سے جو حبس پیدا ہوا تھا اس نے شاید اسی صورت ٹوٹنا تھا۔

وہی نیب ہے، وہی عدالتیں ہیں، وہی حکومت ہے، وہی عوام ہیں مگر اچانک کیا ہوا؟ جن انسانی بنیادوں پر فیصلے آج ہو رہے ہیں وہ انسانی بنیادیں فقط چند روز پہلے تک کہاں تھیں؟ ہوں گی کہیں، یہ پتا لگانا بڑے لوگوں کا کام ہے۔ چھوٹے لوگ فی الحال بھونچکے بیٹھے ہیں کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟

ڈیل کی بات کرنے والوں کو فوراً طلب کیا گیا کہ یہ کیا بدتمیزی ہے؟ باقی لوگ بھی چپ چاپ بیٹھے ہی ۔ مولانا کا کنٹینر تیار ہے اور چند گھنٹے ہی جاتے ہیں کہ رن پڑنے والا ہے۔

کون کہتا ہے کہ عہد وسطی کا زمانہ پیچھے رہ گیا اور انسان ایک نئے عہد میں داخل ہو چکا ہے۔ انسان ہوا ہو گا، ہم تو بھیا آج بھی وہیں ہی۔ جب تک کنٹینر لے کر اسلام آباد پر نہ چڑھ دوڑیں اور اسلام آباد والے کنٹینر لگا کے ہمارے راستے نہ روکیں، جمہوریت کا کچھ لطف ہی نہیں آتا۔

کنٹینرز

تو اب ایسا ہے کہ کنٹینر، کنٹینر کھیلا جا رہا ہے۔ مولانا کے کنٹینر کی اندرونی جھلکیاں دیکھیں۔ کیا کسی شوقین کی آر وی ہو گی جو شاندار یہ کنٹینر ہے۔ ہزاروں بزاروں کا ہو گا۔ جانے یہ پیسے کہاں سے آتے ہیں۔ یقینا وہیں سے آتے ہوں گے جہاں سے غالب کو مضامین آتے تھے۔

سانحہ ساہیوال میں ملزموں کی بریت نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک کے بعد ایک ایسے ٹیسٹ کیس سامنے آتے رہے اور تحریک انصاف کے وزرا، حکومتی ارکان، مشیر اور حامی، نہایت دل لگا کر ہر اس شخص کو برا بھلا کہتے رہے جو حق اور سچ کی بات کر رہا تھا۔

حکومت میں آ جانے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ فوق الفطرت یا مقدس ہو گئے ہیں۔ دریائے فرات کے کنارے مر جانے والے کتے کے لیے جواب دہ ہونے کی مثال دینے والے عوام کو اپنے بد زبان اور عاقبت نا اندیش ساتھیوں کے سپرد کر کے خود یہ رونا رونے لگے کہ مجھے ٹیم ہی گندی ملی۔

ٹیم منتخب کس نے کی؟ ہم تو اس وقت بھی کہتے تھے کہ یہ خاکی انڈے بہت وزنی ہیں اور یہ کبھی بار آور نہیں ہوں گے۔

دکھ اس بات کا ہے کہ سال سوا سال کے اندر حالات اس نہج پر آ گئے ہیں کہ وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ہم کل بھی جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے خلاف تھے ،ہم آج بھی خاکی انڈوں سے بھرے اس ٹوکرے کے بیچ بازار پھوٹنے کے غم میں سر گرداں ہیں ۔

مگر بات یہ ہے کہ کھیل اب اختتام کے بہت قریب ہے۔ کس کے ہاتھ کیا آتا ہے؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ابھی اتنا جان لیجیے کہ ہم ملکی سیاست کے عہد کنٹینر میں زندہ ہیں۔

دکھ ان پر ہے جنھوں نے عدم برداشت کے رویے میں اپنا حصہ ڈالا اور سیاسی نظریات کا احترام کرنے اور اختلاف رائے کو مقدم سمجھنے کی بجائے اپنی چلائی، وہ آج ڈی چوک میں کنٹینر کے سامنے تنہا کھڑے ہیں اور یہ تنہائی، کال کوٹھڑی کی تنہائی سے زیادہ بھیانک ہے۔

اسی خاطر تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے

اکیلے پھر رے ہو یوسف بے کارواں ہو کر

(خواجہ وزیر لکھنوی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •