مسئلہ کشمیر اور خورشید محمود قصوری کا بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں ہمیں ٹھوس اور عقلی بنیادوں پر گفتگو کے مقابلے میں کافی حد تک جذباتیت کا مسئلہ موجود رہتا ہے۔  سب جانتے ہیں کہ ہمیں جذباتیت کے ساتھ ساتھ سوچ سمجھ کر ٹھوس اور حقایق کی بنیاد پر کشمیر کے مقدمہ کو لڑنا ہے۔ دانشوروں، لکھنے اور بولنے والے فکری افراد کا حقیقی کردار ہی یہ بنتا ہے کہ وہ معاشرے میں موجود داخلی اور خارجی مسائل پر روایتی فکر کے مقابلے میں ایک ایسا متبادل فکر پیدا کریں جو لوگوں میں نئی سوچ، نئی فکر اور نئے زاویوں کو سامنے لانے میں مدد فراہم کرسکے۔ کیونکہ سوچنے اور سمجھنے والے افراد یا ادارے ہی قومی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے چند ماہ میں مسئلہ کشمیر نہ صرف پاک بھارت کے درمیان ایک پرجوش مسئلہ رہا یا مسئلہ کی شدت نمایاں طور پر سامنے آئی ہے بلکہ اس مسئلہ کشمیر پر عالمی منظر نامہ بھی نمایاں طور پر دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر نے بھی اس مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کونمایاں کیا ہے۔  وہ ممالک اور عالمی رائے عامہ سے جڑے ادارے جو کل تک مسئلہ کشمیر پر کوئی بڑی پرجوشیت نہیں رکھتے تھے وہ بھی نمایاں طور پر حالیہ مقبوضہ کشمیر کے بحران پر بھارت کی حکومت اور بالخصوص نریندر مودی کے اٹھائے گئے اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔  اب مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے معاملہ میں بھارت پر کیسے دباؤ بڑھایا جائے اور کیسے عالمی دنیا کو یہ باور کروایا جائے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈال کر مقبوضہ کشمیر کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔

پچھلے دنوں انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ ایڈوکیسی (آیڈیا) کے زیر اہتمام ایک بڑی راونڈ ٹیبل کانفرنس ”مسئلہ کشمیر اور مستقبل کی راہیں“ پر پرمغزاور جاندار انداز مے ں مسئلہ کو سمجھنے کے تناظر میں اس فکری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمان خاص سابق وزیر خارجہ اور معروف دانشور، سیاست دان میاں خورشید محمود قصوری تھے۔  جبکہ دیگر مقررین میں معروف دفاعی اور سیکورٹی امور کے تجزیہ نگار پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری، معروف صحافی اور دانشور مجیب الرحمن شامی، پروفیسر ہمایوں احسان، دفاعی تجزیہ نگار جنرل )ر(غلام مصطفی، مہناز رفیع شامل تھے۔

 اس فکری نشست کا بنیادی سوال یہ ہی تھا کہ ہم نے خارجہ امور میں عالمی دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں جو کچھ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اس کے تسلسل کو کیسے برقرار رکھا جائے اور پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر سیاسی اور سفارتی سطح پر کیا کچھ ایسا کرنا چاہیے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں کلیدی کردار ادا رکرسکے۔

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اس فکری نشست میں بڑی بنیادی اور اہم نوعیت کی گفتگو کی۔ وہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے بڑے حامی ہیں اور ان کی پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک اہم کتاب بھی موجود ہے جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر سمیت پاک بھارت تعلقات پر سیر حاصل گفتگو کی ہوئی ہے۔  اب ان کی ایک اور کتاب اسی موضوع پر آنے والی ہے جس میں انہوں نے پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں مسئلہ کشمیر اور اس کی موجود ہ صورتحال پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

 بطور وزیر خارجہ انہوں نے پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور مسئلہ کشمیر کے حل میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور ا س کی تفصیل ان کی کتاب میں موجود ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ میاں خورشید محمود قصوری جذباتیت کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس خطہ کی ترقی اور خوشحالی میں دونوں ملکوں کو امن اور بہتر تعلقات کو بنیادبنانا ہوگا۔

اس فکری نشست میں میاں خورشید محمود قصوری نے مسئلہ کشمیر کے حل میں چھ بنیادی نکات پر زور دیا۔ اول ان کے بقول ماضی میں ہونے والی متعدد جنگیں بھی مسئلہ کشمیر حل نہیں کرسکیں تھیں۔ اس لیے اب مسئلہ کشمیر کا حل پاک بھارت مذاکر ات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے فریقین کو مذاکر ات اور اس کی مدد سے حل کو ہی مسئلہ کے حل کی کنجی بنانا ہوگا۔ دوئم وزیر اعظم مودی کی جانب سے مستقبل قریب میں پاک بھارت مذاکر ات پر آمادگی کے امکانات نظر نہیں آرہے، لیکن زمینی حقایق بتارہے ہیں کہ وزیر اعظم مودی یا ان کے بعد آنے والے حکمرانوں کو عملا مذاکر ات کی طرف ہی آنا ہوگا۔

 سوئم بھارتی وزیر اعظم مودی کے ظالمانہ اقدامات نے کشمیر ی جماعتوں کو بھارتی حکومت کے خلاف متحد کردیا ہے اور نریندر مودی اپنی اقتصادی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔  چہارم پاکستان کو کشمیریوں کی سیاسی، سماجی اور اخلاقی حمایت پرزور انداز مے ں جاری رکھنی ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرمقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کے مظالم جاری رہے تو پھر وہاں بڑے پیمانے پرخون ریزی کا خطرہ ہے اور اس کے نتیجے میں کشمیر میں سول نافرمانی کی تحریک بھی شروع ہوسکتی ہے۔

پنجم ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کوئی ون ڈے یا ٹی ٹوینٹی میچ نہیں اور نہ ہی یہ ٹیسٹ میچ ہے بلکہ یہ ایک لمبی سیریز ہے اور ہمیں یکسوئی کے ساتھ ثابت قدم رہ کر لمبی اننگز کھیلنی ہے اور اس سے پاکستان کی اپنی خود مختاری اور سلامتی سمیت خطہ کی سیاست بھی جڑی ہوئی ہے۔  ششم ہمیں عالمی دنیا کے حکمرانوں اور وہاں کی رائے عامہ کوسفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ایک بڑی اور سرگرم جنگ لڑنی ہے اور دنیا کو باور کروانا ہے کہ مودی اقدامات خطہ کی سیاست کے لیے خطرہ ہے۔ ہفتم ہمیں اپنے داخلی محاذ کو مستحکم کرنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں میں جاری محاز آرائی کو ختم کرکے قومی معاملات میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس وقت عالمی میڈیا میں کشمیر کے موقف کو بڑی پزیرائی مل رہی ہے، مودی کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔

بنیادی طور پر میاں خورشید محمود قصوری اس نکتہ پر توجہ دلارہے تھے کہ ہم نے جنگ میں پہل نہیں کرنی، مگر اس جنگ کو روکنے کے لیے ہمیں ڈپلومیسی کے محاذ پر ایک شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم پالیسی کو وضع کرنا ہوگا اور اس تاثر کو طاقت دینی ہوگی کہ ہمیں مستقل بنیادوں پر مسئلہ کشمیر کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا ہوگا۔ خورشید محمود قصوری نے درست کہا ہے کیونکہ اس وقت عالمی دنیا سے جڑے تمام بڑے انسانی حقوق کے ادارے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر خوب لکھ بھی رہے ہیں اور بول بھی رہے ہیں۔  یہ جو عالمی میڈیا میں ہمیں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جو بڑی حمایت مل رہی ہے اس حمایت کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا تاکہ ہم عالمی میڈیا کی حمایت کے ساتھ کشمیر پر اپنا مقدمہ بہتر طور پر پے ش کرسکیں۔

اسی طرح خورشید قصوری کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ نریندر مودی کے اقدامات پر خود بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور مودی عملا داخلی محاذ پر بھی بحران کا شکار ہیں اور ہمیں بھارت سے مودی مخالفت کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو بھی اپنے ساتھ جوڑنا ہوگا اور اس مسئلہ کو انسانی حقوق کے تناظر میں جوڑ کر عالمی دنیا کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ خورشید قصوری نے درست کہا کہ اگر ہم نے سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر بڑی جنگ لڑنی ہے تو پہلے اپنے داخلی مسائل کی سمت بھی درست کرنا ہوگی۔

 کیونکہ پاکستان میں جو موجودہ سیاسی محاذ آرائی ہے اس کے نتیجے میں قومی نوعیت کے حساس معاملات بھی اسی محاذآرائی کی سیاست کا شکار ہورہے ہیں جو عملی طور پر ہمیں کمزور کرنے کا سبب بنے گا اور اس سے اجتناب کرنا ہوگا۔ اسی طرح جو لڑائی ہم نے ڈپلومیسی کے محاذ پر لڑنی ہے اس کے لیے ہمیں قومی سطح پر زیادہ موثر اور با اثر تھنک ٹینک کی بھی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری کا نکتہ تھا کہ ہمیں سب سے زیادہ توجہ پاکستان کے بہتر امیج پر دینا ہوگا کیونکہ دنیا میں ہم اپنا پرامن اور انتہا پسندی کا خاتمہ کو بنیاد بنا کر عالمی حمایت حاصل کرسکتے ہیں۔ پروفیسر ہمایوں احسان کے بقول عالمی برداری بدقسمتی سے اپنے سیاسی اور مالی مفادات دیکھتی ہے اور عالمی قانون کمزور ملکوں کے لیے عملی اقدامات نہیں اٹھاتا اس کے لیے ہمیں داخلی محاذ پر خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ مجیب الرحمن شامی کا نکتہ تھا کہ کشمیر کے حل کے پاکستان کو سیاسی اور معاشی بنیادوں پر خود کو مضبوط کرنا ہوگا اور سیاسی اتحاد پیدا کرکے اتفاق رائے کو بنیاد بنانا ہوگا اور جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔  جبکہ جنرل )ر(غلام مصطفی کے بقول مسئلہ کشمیر پر ردعمل کی پالیسی کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر مستقل اسے اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا اور لوگوں کو آگاہ کرنا ہوگا کہ کس طرح سے بھارتی اقدامات خطہ کی سیاست کے لیے خطرہ ہیں۔

اسی طرح خورشید قصوری کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ نریندر مودی کے اقدامات پر خود بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور مودی عملا داخلی محاذ پر بھی بحران کا شکار ہیں اور ہمیں بھارت سے مودی مخالفت کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو بھی اپنے ساتھ جوڑنا ہوگا اور اس مسئلہ کو انسانی حقوق کے تناظر میں جوڑ کر عالمی دنیا کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ خورشید قصوری نے درست کہا کہ اگر ہم نے سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر بڑی جنگ لڑنی ہے تو پہلے اپنے داخلی مسائل کی سمت بھی درست کرنا ہوگی۔

کیونکہ پاکستان میں جو موجودہ سیاسی محاذ آرائی ہے اس کے نتیجے میں قومی نوعیت کے حساس معاملات بھی اسی محاذآرائی کی سیاست کا شکار ہورہے ہیں جو عملی طور پر ہمیں کمزور کرنے کا سبب بنے گا اور اس سے اجتناب کرنا ہوگا۔ اسی طرح جو لڑائی ہم نے ڈپلومیسی کے محاذ پر لڑنی ہے اس کے لیے ہمیں قومی سطح پر زیادہ موثر اور با اثر تھنک ٹینک کی بھی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری کا نکتہ تھا کہ ہمیں سب سے زیادہ توجہ پاکستان کے بہتر امیج پر دینا ہوگا کیونکہ دنیا میں ہم اپنا پرامن اور انتہا پسندی کا خاتمہ کو بنیاد بنا کر عالمی حمایت حاصل کرسکتے ہیں۔ پروفیسر ہمایوں احسان کے بقول عالمی برداری بدقسمتی سے اپنے سیاسی اور مالی مفادات دیکھتی ہے اور عالمی قانون کمزور ملکوں کے لیے عملی اقدامات نہیں اٹھاتا اس کے لیے ہمیں داخلی محاذ پر خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ مجیب الرحمن شامی کا نکتہ تھا کہ کشمیر کے حل کے پاکستان کو سیاسی اور معاشی بنیادوں پر خود کو مضبوط کرنا ہوگا اور سیاسی اتحاد پیدا کرکے اتفاق رائے کو بنیاد بنانا ہوگا اور جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔  جبکہ جنرل )ر(غلام مصطفی کے بقول مسئلہ کشمیر پر ردعمل کی پالیسی کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر مستقل اسے اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا اور لوگوں کو آگاہ کرنا ہوگا کہ کس طرح سے بھارتی اقدامات خطہ کی سیاست کے لیے خطرہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •