حافظ حمداللہ کی شہریت، آزادی اظہار اور آزادی مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان حیرتوں کا سمندر ہے۔ غوطہ لگائیے اس کی تہہ سے ایک سے ایک آبدار موتی برآمد ہوگا۔ ان میں سے ایک اگر نواز شریف کی ضمانت کا معاملہ ہے تو دوسری طرف ساہیوال سانحہ میں بری ہونے والے جری پولیس افسر اور اہلکار، جنہیں بالآخر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایک ’جھوٹے الزام‘ سے باعزت بری کیا ہے۔

چھ برس تک ملک کی سینیٹ کے رکن اور چار برس تک بلوچستان کے وزیر رہنے والے حافظ حمداللہ کو اگرشہریت سے محروم کیا جاتا ہے تو اس آزاد اور خود مختار ملک کے آزاد میڈیا کو کنٹرول کرنے والا ادارہ پیمرا اس کا اعلان کرنے پر مامور ہوتا ہے۔ اس ملک کا جج حکومت کے خلاف غصہ نکالنے کے لئے صحافیوں کو توہین عدالت کے شبہ میں طلب کرتا ہے۔ جج میڈیا کو کوسنا چاہتے ہوں تو اس کے لئے پیمرا کو ڈھال بنالیا جاتا ہے۔ ہفتے کے دوران آزادی رائے پر لیکچر دینے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ ہفتہ کے روز پیمرا کو اس لئے ڈانٹ ڈپٹ پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ میڈیا کو لگام دینے میں ناکام ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ملک کے ٹیلی ویثرن اسٹیشنوں کو عدلیہ، وزیر اعظم اور مسلح افواج کے خلاف غلط اور بے بنیاد خبریں نشر کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ جب صحافی بتاتا ہے کہ اس ملک کے مسائل کی ذمہ داری میڈیا اور صحافی پر نہیں ڈالی جا سکتی تو وہی چیف جسٹس بڑے رسان سے فرماتے ہیں کہ وہ میڈیا کی نہیں، پیمرا کی بات کررہے ہیں۔

اس سال جنوری میں پیش آنے والاساہیوال سانحہ کس پاکستانی کو یاد نہیں ہو گا۔ ان معصوم بچوں کی مظلومیت جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے ماں باپ اور بہن کو اندھا دھند گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ اور نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے والے وزیر اعظم کا وعدہ کہ قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انسداد دہشت گردی جج نے تو اینٹی ٹیرر پولیس کے اہلکاروں کو ’بری‘ کرنے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے کے دوران کیا ہے لیکن پنجاب حکومت کی پھرتیوں اور فائرنگ کا نشانہ بننے والی کار میں ایک دہشت گرد کا سراغ لگانے والے وزیر قانون راجہ بشارت کے پیش کردہ ’ٹھوس‘ ثبوتوں کے بعد اس بات کا کون سا امکان باقی رہ گیا تھا کہ انصاف کی مسند پر بیٹھے جج کو پولیس اہلکاروں کے ہاتھ پر کسی بے گناہ کا خون مل جاتا؟ پنجاب کے صوفی منش اور عوامی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور ملک کے انصاف پسند اور مدینہ ریاست کے داعی وزیر اعظم عمران خان کو یہ توفیق بھی نہیں ہوئی کہ وہ مظلوم بچوں کے گھر جاکر ان کے سر پر ہاتھ رکھتے اور ریاست کی ناکامی کا اعتراف کرتے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو کوئی عینی شاہد نہیں ملا، کوئی ایسا گواہ پیش نہیں ہؤا جو قاتلوں کو پہچان سکے اور پولیس کے اسلحہ خانہ کا ریکارڈ یہ بتا رہا ہے کہ ’معصوم‘ پولیس اہلکاروں پر جو کارتوس چلانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے وہ تو اسلحہ خانہ سے جاری ہی نہیں ہوئے تھے۔ اب عدالت ایک بچے کے اخباری بیان اور چند سوشل میڈیا فوٹیج کی بنیاد پر تو ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو قصور وار نہیں مان سکتی جنہیں خاص طور سے ’دہشت گردوں‘ کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ پنجاب حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن عدالت عالیہ میں انصاف کی میزان پکڑے جج بھی تو وہی ثبوت مانگیں گے جو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں طلبکیے گئے تھے۔ ثبوت جمع کرنے کا ذمہ دار ادارہ ہی جب انہیں تلف کرنے اور غلطی کا اعتراف کرنے پر راضی نہ ہو تو عدالتیں کیا کریں گی۔ پولیس گردی کے خلاف انتخابی مہم استوار کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت ہی جب پولیس کے سامنے لاچار ہے تو عدالت سے شکوہ کون کرے۔

حافظ حمدللہ چھے برس تک ملک کی سینیٹ کے رکن رہے۔ کتنے ہی قانون ہوں گے جن کو منظور کروانے میں ان کی رائے بھی شامل رہی ہوگی۔ چار برس تک وہ بلوچستان میں وزیر صحت کے عہدے پر فائز رہے۔ اس حیثیت میں انہوں نے انسانوں کی زندگیوں کی حفاظت کے بارے میں اہم اور ناقابل تنسیخ فیصلےکیے ہوں گے۔ وہ گزشتہ ایک دہائی سے ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں ’دہاڑتے‘ رہے ہیں۔ کبھی کسی پروگرام میں شریک خاتون پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی اور کبھی کسی بحث میں شریک سیاسی نمائیندے کی زبان کاٹ لینے کی دھمکی دی لیکن قانون، حکومت یا عدالت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

پھر اسلام آباد میں اکتوبر کے ایک روشن دن نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن (نادرا) کے کسی افسر پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہ شخص تو ’اجنبی‘ یعنی غیر ملکی ہے اور دھوکہ دہی سے پاکستان کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ قومی مفاد پر حملہ آور اس اجنبی سے جان چھڑانے کا آسان ترین طریقہ یہی سمجھا گیا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی (پیمرا) کو اس انہونی سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ایک ایسے شخص کو عوام کو گمراہ کرنے سے روکنے کا اہتمام کرے جو غیر ملکی ہوتے ہوئے پاکستانی ہونے کا ڈھونگ کرتا رہا ہے۔

پیمرا یہ اطلاع ملنے پر فرض منصبی سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ملک بھر کے ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کو متنبہ کرتا ہے کہ حافظ حمداللہ صبور نامی غیرملکی کو پاکستانی پروگراموں میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے ورنہ قومی مفاد کا سودا ہو جائے گا اور قومی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اور اس کی تمام تر ذمہ داری اس ٹاک شو یا میڈیا ہاؤس پر عائد ہو گی جو ایسے خطرناک غیر ملکی کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دے گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1308 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali