وزیراعظم مولانا فضل الرحمان اور مقتدر قوتوں کا پلان بی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ کے تاسیسی مقاصد میں، سر فہرست مقصد، برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں انگریز آقا کیلئے محبت اور وفاداری کے جذبات کا فروغ تھا۔ بابائے قوم وکیل تھے۔ اس لئے مختصر اور نپے تلے الفاظ ادا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ مسلم لیگی سیاستدانوں کے بارے میں کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ جب تک انگریز نے چاہا یہ یونینسٹ تھے اور جب اس نے اشارہ کیا یہ راتوں رات انگریز کے خلاف جلوس نکال کر مسلم لیگی بنے۔

انگریزی حکومت فوجی قوت کی رہین منت تھی۔ اس لئے اپنی ذہنی ساخت اور سیاسی پرداخت کی بنا پر آج تک مسلم لیگ کا تعلق قوت کے سرچشموں کے ساتھ ہے۔ پتہ نہیں نوازشریف کہاں سے آکر رنگ میں بھنگ ڈال گیا، ورنہ شہباز تو آج بھی قابلِ پرواز ہے۔ ابھی کل کی بات ہے چوہدری پرویز الٰہی کی معیت میں مسلم لیگ ق نے جنرل مشرف کو وردی سمیت دس دفعہ صدر منتخب کرانے کا عندیہ بار بار دیا تھا۔ پنجاب سے ہونے کی وجہ سے پرویز الٰہی کو پریس اور اخبارات نے زیادہ توجہ دی ورنہ مشرف کے دوسرے لیکن پرویز الٰہی سے زیادہ اہم حکومتی ساجھے دار اور”مخالف،” ایم ایم اے کے روح رواں، مولانا فضل الرحمان صاحب تھے، جنہوں نے پرویز الٰہی کی طرح بھڑکیں نہیں ماریں لیکن وقت پڑنے پر، ایم ایم اے اور اپنے اتحادیوں کے دل توڑے لیکن پرویز مشرف کو دوبارہ باوردی صدر منتخب کرانے کی خاطر پختونخوا اسمبلی نہیں توڑی، اگرچہ ‘مسلم لیگ’ کا سلیس اردو میں ترجمہ جماعت اسلامی بنتا ہے۔ چونکہ تاریخی طور پر چرچ نے ہمیشہ کراؤن کو حمایت مہیا کی ہے اس لئے نام میں کیا رکھا۔ عمران خان کو “مشرف کی ٹیم” کے ساتھ کھیلنے کا طعنہ اکثر ملتا ہے جو مکمل طور پر صحیح نہیں، کیونکہ مولانا صاحب بھی مشرف کے ٹیم میں تھے اور عمران خان کے ساتھ نہیں تھے۔

میرے گزشتہ کالم “مولانا اور وزیراعظم حلیف تھے، حریف نہیں” میں، میں نے لکھا تھا کہ دونوں حلیف تھے۔ دونوں میں بے حد مماثلتیں اور مشترکات تھیں۔ لیکن حریف بنے رہے، آخر کیوں؟ اس سوال کی ایک توجیہہ یہ ممکن ہے کہ مولانا کو عمران خان کے حلیف ہونے کے باوجود حریف بنا کر پیش کیا گیا۔ جس میں ایک وجہ، عمران خان کی سیاسی ناسمجھی اور ‘حمایتیوں’ کی غلط ہدایات اور مشورے تھے، جو جان بوجھ کر عمران خان کو دیئے گئے تاکہ عمران خان کی ناکامی کی صورت میں، جس کا صحیح اندازہ لگایا گیا تھا، مولانا کو متبادل کے طور پر میدان میں اتارا جائے۔ تاکہ مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور قوم پرست سیاسی پارٹیاں، عمران خان کی ناکامی سے پیدا شدہ خلا میں کوئی فیصلہ کن سیاسی پوزیشن حاصل نہ کرسکیں۔ نیز عمران خان کے مایوس سیاسی کارکن (خصوصاً پختونخوا کے) تتر بتر ہوکر واپس اپنی سابقہ پارٹیوں میں جانے کی بجائے متبادل قیادت پر بھروسہ کریں اور منصوبے کے مطابق نظام بھی برقرار رہے، صرف چہرے بدلے جائیں۔ یعنی مدینے کی ریاست بنانے کے دعویدار کی بجائے، مدینے کی وراثت کے دعویدار کو لایا جائے۔ یوں اصل حکمرانوں کی حکمرانی قائم رہے گی۔ مہنگائی کے مارے عوام ایک اور سراب کو نخلستان سمجھ کر سانس لینے بیٹھ جائیں گے۔

حکومتی نااہلی، نئے ٹیکسوں اور نیب کے چھاپوں سے بدحال تاجروں اور سرمایہ کاروں کو تحفظ کا احساس ہوجائے گا اور عالمی گاؤں کے سب سے بڑے چوہدری کے ہوش بھی ٹھکانے آ جائیں گے۔ جب وہ کراچی سے اسلام آباد تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا پگڑیوں اور داڑھیوں پر مشتمل یہ جم غفیر اپنے ظاہری اور خفیہ ذرائع سے دیکھے گا تو پاکستان کو ڈومور کی تڑی دیتے ہوئے سو دفعہ سوچے گا، کہ ایران کی طرح کہیں پاکستان بھی ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ جو افغانستان میں ایک فیصلہ کن شرمندگی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ ایران کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایک بڑی عالمی مصیبت بن سکتا ہے۔ چینی کیمپ کی حمایت اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان اگر تنگ آ کر مذہبی قوتوں کے قبضے میں چلا گیا تو امریکہ اور اس کے حواریوں کے اوسان خطا ہو جائیں گےجو پہلے سے ایران کے بارے میں پریشان ہیں۔ اس لئے مولانا کا موجودہ سیاسی قوت کا اظہار نہ صرف یہ کہ اندرون ملک بہت ساری تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے بلکہ بیرونی طاقتوں کو بھی پاکستان کے بارے میں اپنے منصوبوں اور رویوں پر نظر ثانی کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ کراچی کے سمندری شہر سے شہر اقتدار کی طرف بڑھتا ہوا حقیقی سونامی، جس کے خواب عمران خان دکھایا کرتے تھے۔ یہ نظارہ کسی احتجاجی مارچ کا نہیں ایک نئے وزیراعظم کے سیاسی اننگ کے شروعات کا ہے۔ مولانا صاحب کی وزارت عظمیٰ کی خواہش کا اظہار سابقہ امریکی سفیر، متعینہ پاکستان، این پیٹرسن کی وکی لیکس میں ظاہر شدہ ایک کیبل میں بھی چند سال پہلے ہوا تھا۔

مولانا صاحب کا متشرع حلیہ، مقفیٰ اور مسجع یقینی لہجہ، ملکی اور بین الاقوامی امور و مسائل پر ان کا یکساں عبور، مسکت دلائل پر مبنی اور حاضر جوابی سے بھرپور انکا کاٹ دار مکالمہ، عوامی مسائل اور مصیبتوں کو اپنی تقریروں میں سمونے کا ان کا فن، پھر موجودہ حکومت کے سامنے ڈٹ جانے اور چیلنج کرنے میں ان کی دلیری، ان کو بقایا مدت کے لئے وزیراعظم کے عہدے کیلئے سب سے زیادہ موزوں امیدوار بناتا ہے۔ سنا ہے مولانا صاحب مدت سے انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنے میں بھی مصروف ہیں۔

مذاکرات کاروں نے مولانا کو آزادی مارچ نومبر تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا تو مولانا نے اپنا مارچ پشاور سے شروع کرنے کی بجائے کراچی سے شروع کیا، تاکہ مذاکرات کاروں کو نومبر تک مذاکرات کا وقت ملے اور شیخ رشیدوں کے طعنے بھی نہ سننے پڑے۔ جب وہ ٹی وی ٹاک شوز میں شرط رکھ کر مولانا کے مارچ نہ کرنے کی خوشخبری دیتے تھے۔

خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ مذاکرات نئے انتخابات یا وزیراعظم کی تبدیلی پر جاری ہیں۔ جس میں زیادہ توقع وزیراعظم کی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ کیونکہ نئے الیکشن کی صورت میں نون لیگ واضح اکثریت سے الیکشن جیت جانے کی پوزیشن میں ہے۔ کیونکہ عوام کا تبدیلی کا بخار اتر چکا ہے۔ لیکن نون لیگ کی جیت کی صورت میں شاید کچھ بہت مقتدر حلقوں کو تحفظات ہوں اس لئے وزیراعظم کی تبدیلی اور نظام کے تسلسل پر اتفاق ہوجائے گا۔ جبکہ نون لیگ کی خواہش نئے انتخابات کی ہے۔ موجودہ حکومت سے ٹکرانے اور اکھاڑنے کے بعد بلاشبہ مولانا صاحب سب سے بڑے سٹیک ہولڈر بن کر سامنے آتے ہیں۔ جبکہ مقتدرہ قوتوں کی آشیرباد بھی ان کو حاصل ہو تو آنے والا وزیراعظم مولانا فضل الرحمان خود یا ان کا نامزدکردہ ہو سکتا ہے۔ آخر کیوں مولانا صاحب ایک صوبے کی حکومت پر اکتفا کریں گے جبکہ شیرپاؤ، مسلم لیگ، اے این پی کے ساتھ مل کر پختونخوا کی حکومت گرانا کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔

نوازشریف اور زرداری صاحب کو بڑھاپے اور بیماری کا سامنا ہے۔ کرپشن کے الزامات اور جیل کی کوٹھری سے کھلی ہوا میں آ جائیں گے۔ مولانا صاحب کی دلیری اور سیاسی حکمت عملی کی بدولت ان کو اسلام آباد میں اونچی کرسی مل جائے گی۔ تو پاکستان کے کرتا دھرتا ایم ایم اے والی حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اپنے بندھے ہوئے ہاتھوں کا رونا کھلے دل کے ساتھ رو سکیں گے۔ زیادہ پریشر کی صورت میں مولانا کے آزادی مارچ کی جھلکیاں دکھا کر صورتحال کی وضاحت کرنے پر بھی قادر ہو جائیں گے۔ افغانستان میں امریکہ کی مدد عمران خان کی “بےبنیاد” حکومت سے بہتر انداز میں مولانا صاحب کی طالبان تک رسائی رکھنے والی حکومت اچھی طرح کرسکتی ہے۔ مولانا ہی واحد سیاستدان ہیں۔ جن کے دائیں طرف دوپٹہ اوڑھے مریم، بائیں طرف شرارتی بلاول اور اردگرد جنوب کے اچکزئی، شمال کے اسفندیار، سرائیکی وسیب کے جاوید ہاشمی آسانی کے ساتھ بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔ مولانا مغربی بارڈر کے دونوں طرف فیصلہ کن اثر رسوخ اور مشرقی بارڈر کے اندر تاریخی رشتوں کے مالک ہیں۔ مولانا صاحب پی ٹی ایم کے منظور پشتین کے تلخ لہجے میں مٹھاس لا سکتے ہیں اور بلوچوں کے زخموں پر اندمال کی مرہم بھی لگا سکتے ہیں۔ یہ کمال مولانا صاحب میں بدرجہ اتم موجود ہے کیونکہ وہ شکاری اور خرگوش دونوں کے ساتھ دوڑنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ‘وہ’ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •