نواز شریف کے پاس ہارنے کے لیے کچھ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہوا میں خنکی شروع ہوتے ہی سیاسی موسم کی حدت میں بھی تبدیلی محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے۔ نواز شریف کی خرابی صحت نے حکومت کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔ حکومت نے حالات کی سنگینی کا درست اندازہ ہونے کے بعد نواز شریف کو فوری طور ہر ہسپتال منتقل کیا۔ پہلے ایک دو روز تو حکومتی پارٹی کے رہ نماء کلثوم نواز کی طرح نواز شریف کی بیماری پر بھی جملے کستے رہے۔ پھر یک دم وزیراعظم کے ایک ٹویٹ نے سارا ماحول تبدیل کر کے رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ، وہ صدق دل سے نوازشریف کی صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ تبصرہ نگاروں کو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ عمران خان نے کئی برس میں شاید پہلی مرتبہ اپنے بدترین سیاسی مخالف کے لیے ایسا بیان دیا کہ ان کی پارٹی کے لوگ بھی حیران رہ گئے۔ فوراّ پینترا بدل کر وزراء اور دیگر رہنماء کہنے لگے کہ نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولیات دیں گے۔ اب انہوں نے اپنے وزراء کو نوازشریف کی صحت کے متعلق تنقیدی بیانات دینے سے منع کر دیا ہے۔

 تیسری شادی سے پہلے عمران خان اور بشریٰ بی بی ایک مرید اور رحانی پیرنی کے طور ملے۔ عمران خان نے پاک پتن میں تواتر کے ساتھ حاضریاں دیں اور چلے کاٹے۔ ایک روز بشریٰ بی بی سے فون پر بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کی غصیلے پن پر کام کر رہی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے اس جارحانہ موڈ پر آہستہ آہستہ کنٹرول کریں۔ اس کے بعد دونوں کی شادی ہوگئی اور وہ وزیراعظم بھی بن گئے۔ لگتا ہے کہ بشریٰ بی بی اب بھی ان کے اس غصیلے رویے پر کام کر رہی ہوں گی۔ اپوزیشن میں رہ کر اپنے حریف سیاستدانوں پر جارحانہ حملے کرنا پڑتے ہیں مگر حکومت سنبھالتے ہی اپنا انداز تبدیل کرنا پڑتا ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی باتیں کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن عمران خان کے تیکھے فقروں کا نشانہ اب بھی ان کے سیاسی حریف ہیں۔ وہ چاہے ملک میں ہوں یا ملک سے باہر ‘کسی کو نہیں چھوڑوں گا’ ان کا پسندیدہ فقرہ بن چکا ہے۔ عام طور پر اب یہ تاثر ہے کہ وہ ایک ضدی سیاستدان ہیں۔

دوسری طرف عمران خان کے سخت ترین حریف نواز شریف کے بارے میں بھی یہ تاثر ہے کہ وہ ایک کم گو اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں مگر جب ضد کرلیں تو پھر آسانی سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ 1993 میں جب ان کی حکومت گرائی گئی تو انہوں عدالت سے رجوع کرکے اپنی حکومت بحال کروا لی۔ پھر جب ان پر استعفیٰ کا دباوّ ڈالا گیا تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان سے استعفیٰ لینا ہے تو صدر اسحاق خان کو بھی گھر بھیجنا ہو گا۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے صدر اسحاق خان سے بھی استعفیٰ لے کر آئینی بحران ختم کردیا۔ اس کے بعد نواز شریف عوامی بالادستی کے علمبردار بن گئے جس کا نقصان وہ آج تک اٹھا رہے ہیں۔

اب ان کا مقابلہ عمران خان سے ہے۔ دونوں انا پسند اورضدی ہیں۔ ایک کی ضد ہے کہ ڈیل یا ڈھیل نہیں ہوگی اور ان سے لوٹی ہوئی دولت لے کر رہوں گا۔ دوسرے نے ضد کی اور لندن میں بیمار بیوی چھوڑ کر پاکستان آیا اور جیل چلا گیا۔ دونوں کے رفقاء انہیں سمجھاتے رہے مگر بے سود۔ ایک کا دعویٰ ہے کہ اس کی ضد کے پیچھے ادارے کھڑے ہیں جو چند بڑوں کے ساتھ ہزاروں لوگوں کو ‘مائنس’ کرنے کا عزم یا ضد کئے بیٹھے ہیں۔ دوسرا بضد ہے کہ فیصلہ عوام کریں گے اور وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایک طرف عمران خان اپنے ملک میں سیاسی اختلافات کو اپنی ذاتی جنگ بنا کر کسی سیاسی حریف سے بات چیت کرنے کے لیے آمادہ نہیں مگر دوسری طرف وہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کررہے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم دوسرے ملکوں میں جا جا کردرخواست کرتے ہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور یہاں پاکستان میں سرمایہ کاروں اور تاجروں کو نیب اور ایف آئی اے کے رحم وکرم پر چھوڑا ہوا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے دور میں غیرملکی سرمایہ کاری تو دور کی بات اپنے ملک کے سرمایہ کار ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں۔

 اس بڑوں کی ضد کے تماشے نے مایوسیوں کی دلدل میں پھنسے عوام کا کاروبار زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ تاریخ ایسے ضدی حکمرانوں، چوھدریوں اور جٹوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی انا اور ضد کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے۔ مگر بدلتے وقت کے ساتھ انہیں بھی لچک دکھانا پڑی۔ ترقی یافتہ ملکوں میں طاقتور ضدی آمروں نے آہستہ آہستہ اختیارات اور ذمہ داریاں تقسیم کر کے اپنے نظام کو بہتر بنایا۔ پاکستان کے منصوبہ ساز سیاسی میدان میں آئے روز ایک نیا پلان تیار کرتے ہیں اور پھر معروضی حالات کی پرواہ کیے بغیر اس پر 100 فی صد عمل کی ضد کر لیتے ہیں اس کے نتائج چاہے جیسے بھی نکلیں۔ ناکامی ہو تو منصوبہ تبدیل۔ مگر اس سیاسی ھیجان کی وجہ سے ملک ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے جا رہا ہے۔

اعصاب کی اس جنگ میں کون فاتح ہو گا؟ عمران خان یا نواز شریف؟ فیصلے کی گھڑی قریب آ پہنچی ہے۔ جن کے پاس ہارنے کو کچھ نہ ہو وہ زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ اس معرکے میں نواز شریف کے پاس ہارنے کے لیے کچھ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •