بڑا لبرل بنا پھرتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تبدیلی کا نشہ ہرن ہونے کے بعد عام انقلابی یا تو سوشل میڈیا چھوڑ گیا یا شاعری، اقوال زریں، دنیا کی بے ثباتی اور ’مرنے کے بعد کیا ہو گا‘ قسم کی پوسٹ کر رہا ہے۔ ان پہ بھی ترس آتا ہے لیکن سب سے زیادہ قابل رحم حالت تبدیلی رضاکاروں کے دانش بریگیڈ کی ہے، ہم نے تو تبدیلی کے خواب صرف دیکھے تھے۔  ان دانش گردوں نے تو فرنچائزیں کھول کے باقاعدہ خواب فروشی کی۔ اس دکانداری میں کم یا زیادہ ہر کسی کا ایک حلقہ ارادت (فین فالونگ) وجود میں آیا۔

تبدیلی کے خواب چکنا چور ہونے کے بعد اب یہ کبھی کبھار حکومت شغلیہ و بانیان پہ بھی تنقید کر لیتے ہیں (اور اس کے ساتھ ہی یہ لکھنا نہیں بھولتے کہ ہم کوئی ذہنی غلام نہیں وغیرہ وغیرہ)۔ لیکن پھر بھی ایک تو انہیں اب بھی ایک موہوم سی امید ہے کہ شاید خان کوئی تیر مار ہی جائے دوسرا یہ کہ فین فالونگ کھونے کے ڈر سے کھل کے ناکامی کا اعتراف نہیں کرتے۔

مزید یہ بے چارے اس فین فالونگ کو انگیج رکھنے کے لئے انواع و اقسام کے چورن بیچتے ہیں۔ ان کی سوچیں اور تحریریں ایکدم مقامی کی بجائے آفاقی ہو گئی ہیں۔ ان کی تحریروں میں کثرت سے سرمایہ دارانہ نظام، عالمی سامراج، بین الاقوامی مالیاتی ادارے، سوشلزم، کیپیٹلزم، مغربی جمہوریت قسم کی اصطلاحات بے محل استعمال ہوتی ہیں۔ لب لباب جن کا یہ ہوتا ہے کہ اگر مکمل جمہوریت آ بھی گئی تو ہمارے مسائل حل نہیں ہونے والے۔

اپنے ہاں کیونکہ سازشی تھیوریوں کا سودا ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے اس لئے ان کی دکانداری اب بھی چل رہی ہے آج کل ان بے بس دانشوروں کا مشترکہ ہدف ہے پاکستانی لبرلز۔ سب اپنی توپوں کا رخ اس جانب کر کے خوب گولا باری کرتے ہیں۔ تان اس بات پہ آ کے ٹوٹتی ہے کہ یہ کیسے لبرلز ہیں جو اب نواز شریف یا مولانا کی حمایت پہ آ گئے ہیں۔ یہاں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی نہ پہلے کبھی پاکستان کی سب سے بڑی لبرل لیفٹسٹ پارٹی پیپلزپارٹی کی تعریف و توصیف کی اور نہ آج کرتے ہیں۔

یعنی ان کا اصل مسئلہ حب علی نہیں، بغض معاویہ ہے۔ یہ دانشور پاکستان کے کل جمہوریت پسند طبقے ’جو آج ڈٹ کے ایسٹبلشمنٹ کے خلاف کھڑا ہے‘ کو بلاتفریق لبرلزم کا چولا پہنا کر سنگ باری کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سب کو لبرلزم کا طعنہ دینا بذات خود درست بھی نہیں کہ ان جمہوریت پسندوں میں مختلف الخیال بلکہ متضاد فکر کے حامل لوگ شامل ہیں مزید برآں اوریاؤں اور انصاریوں کی بدولت پاکستان میں ایک لبرل شخص کا تصور بوجوہ ایک مکروہ اور ناپسندیدہ انسان کا بن گیا ہے۔

مثلاً دیسی چمونوں کی نظر میں لبرل ایک مادر پدر آزاد، شراب و کباب کا رسیا، جنسی درندہ، موم بتی مافیا اور این جی اوز کا تنخواہ یافتہ شخص ہوتا ہے۔ تو زیادہ تر عام لوگ خود کو لبرل نہ ماننے میں اور جواب نہ دینے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ لبرلزم کیا ہے؟ اس پہ طویل بحث کی جا سکتی ہے۔ لیکن سٹینڈرڈ تعریف سے بھی ہٹ کے میں ہر اس شخص کو لبرل سمجھتا ہوں جو شعوری و سماجی ارتقاء کا مسافر ہے۔ ایک خاندان جہاں بچیوں کو تعلیم دینے کا رواج نا ہو (اور آج بھی ایسے خاندان موجود ہیں ) وہاں لڑکیوں کی تعلیم شروع کرنے والا شخص لبرل ہے۔

کہیں مذہبی شدت پسندی اور تفرقہ بازی ہے۔ مخالف مذہب و فرقے کو گالیاں دینے کا رواج ہے تو اس رواج کے خلاف علم بلند کرنے والا بھی میرے نزدیک لبرل ہے۔ کہیں بچیوں کی برادری سے باہر یا پسند کی شادی کرنے یا برقعہ پہننے کی پابندی ہے اور کوئی شخص اپنی بہن بیٹی بیوی کو انتخاب کی آزادی دیتا ہے تو اس سے بڑا لبرل کوئی نہیں۔ کہیں ضیاء الحق کو مرد مومن مرد حق سمجھا جاتا تھا اور اب وہاں جمہوریت پسندی ہے تو یہ بھی لبرل ازم ہے۔

میں بھی الحمدللہ اس راہ کا مسافر ہوں۔ لبرل ازم کا عنوان شخصی / شہری آزادیوں، جمہوریت، مذہبی رواداری اور جدت پسندی پہ استوار ہے۔ تو فرض کریں کہ کوئی شخص من جملہ لبرل ہے تو وہ اب آپ کے خیال میں آخر کیا کرے؟ طالبان کے نمائندے، تعویز گنڈوں استخاروں پہ حکومتیں چلانے والے، مزاروں پہ سجدے کرنے والے عمران خان کی حمایت کرے؟ صحافت کا گلا گھونٹنے والے، اپوزیشن پہ بہیمانہ ریاستی جبر ڈھانے والے، زبان بندی کی خاطر ماؤں کے لعل لاپتہ کر دینے والے مقدس اداروں کی حمایت کرے؟

 پھر یہ بھی یاد رہے کہ لبرلز نے اپنی سمت تبدیل نہیں کی۔ ڈکٹیٹروں کی گود میں پلنے والے میاں نواز شریف نے سمت تبدیل کی ہے۔ وہ (عرصہ ہوا) جمہوریت اور سول بالادستی کی طرف آئے ہیں۔ مولانا نے ڈکٹیٹروں اور سٹیٹس کو کو چیلنج کیا ہے۔ جمہوریت کا پرچم بلند کیا ہے۔ لبرل ان کی طرف نہیں گئے۔ لبرل ازم کشادہ دلی سکھاتی ہے۔ اس لئے لبرلز کا دل بڑا ہوتا ہے۔ یہی پرچم عمران خان تھام لے، اگر لبرلز نے سب کچھ بھول بھال کے ان کا ساتھ نہ دیا تو میرا نام بدل دیجئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •