مولانا کے ’’مارچ‘‘ پر مخمصے ‘ سازشی کہانیاں‘ خوش گمانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’لبرل‘‘ مشہور ہوئے ہمارے کئی معتبر نام ان دنوں بہت پریشان ہیں۔مولانا فضل الرحمن کے مارچ کا تجزیہ کرنے کی انہیں فرصت نہیں۔ اصل فکر انہیں یہ لاحق ہے کہ ان ہی جیسے چند ’’لبرل‘‘ خواتین وحضرات’’مولویوں‘‘ کے مارچ کی بابت اتنے شاداں کیوں ہیں۔انہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ مذکورہ مارچ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہ بھی ہوا تو سیاسی منظرنامہ پر جو ہلچل مچائے گا اس کا حتمی فائدہ ’’مذہبی انتہاپسندوں‘‘ کو ہوگا۔پاکستان میں طالبان کی متعارف کردہ طرز حکومت کی حمایت میں اضافہ ہوگا۔سیاست میں ’’مذہبی کارڈ‘‘ کھیلنے کی مذمت کرنے والے یہ ’’لبرل‘‘ خواتین وحضرات ’’مدینہ کی ریاست‘‘ بنانے کے دعوے دار عمران خان صاحب کی حکومت کو دھرنے جیسے غیر آئینی طریقوں سے ہٹانے کی کاوشوں کی مذمت بھی کرتے ہیں۔اس ضمن میں آئین میں طے شدہ طریقہ کار پر عملدرآمد کے خواہاں ہیں۔

دھرنے کے ذریعے ’’ایمپائر‘‘ کی اُنگلی کھڑی کرواکر نواز شریف کی حکومت کو گھر بھیجنے کی کوشش 2014 میں بھی ہوئی تھی۔ میں’’لبرل‘‘ فلسفی نہیں ذات کا رپورٹر ہوں۔ دھرنے کے ذریعے حکومت گرانے کی خواہش کو تنقید کا نشانہ بناتارہا۔اس تنقید کی بدولت ’’لفافہ صحافی‘‘ مشہور ہوا۔میرے نام پلاٹ اور بینک اکائونٹس بھی ’’دریافت‘‘ کر لئے گئے جن سے فائدہ اٹھانے کی آج تک توفیق نہیں ہوئی ۔ ’’کھایا پیاکچھ نہیں گلاس توڑا۔ بارہ آنے‘‘والی بدنامی ہی نصیب ہوئی۔

’’مدینہ کی ریاست‘‘ بنانے کے دعوے دار صحافیوںمیں لفافے نہیں بانٹتے۔ صحافتی اداروں کو اپنی معیشت منافع بخش بنانے کے مشورے دیتے ہوئے سینکڑوں کارکن صحافیوں کو بلکہ انہوں نے بے روزگار کروایا ہے۔ٹی وی سکرینوں سے ’’تخریب کار‘‘ چہرے بھی غائب ہوچکے ہیں۔جو بچے ہیں انہیں اب صحافت کی مبادیات سمجھائی جارہی ہیں۔’’ماہرین‘‘ سے رجوع کرنے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔صفائی ستھرائی کی اس مہم نے مجھے بھی اپنی اوقات یاد دلادی ہے۔اس کے باوجود آج بھی یہ اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دھرنے کے ذریعے ’’مدینہ کی ریاست‘‘ بنانے کی دعوے دار حکومت کو ہٹانے کی خواہش سے گریز کرنا چاہیے۔

سیاسی عمل مگر میری اور آپ کی انفرادی خواہش وترجیحات کا غلام نہیں ہوتا۔ معروضی حالات ہوتے ہیں۔ان کی مخصوص Dynamics ہوتی ہیں۔کوشش یہ ہونا چاہیے کہ ان Dynamics کو سمجھا جائے۔بدقسمتی سے ان پر غور کرنے کو کوئی تیار ہی نہیں ہوتا۔

پاکستان دُنیا سے کٹا کوئی جزیرہ نہیں ہے۔ہزاروں وجوہات کی بناء پر ہم بلکہ دُنیا بھر میں پھیلی افراتفری اور ہیجان سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ مئی 1968 میں فرانس کے طلباء سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ انہوں نے مظاہروں کے ذریعے ڈیگال جیسے مردآہن تصور ہوتے صدر کا استعفیٰ حاصل کیا۔ اسی برس کے اکتوبریعنی 1968 میں کراچی سے NSF کی قیادت میں پاکستان کے صدر کے خلاف بھی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔بعدازاں یہ پورے ملک میں پھیل گئی۔ اس کے نتیجے میں ایوب خان کو استعفیٰ دینا پڑا۔مارچ 1969 میں یحییٰ خان کا مارشل لاء لگ گیا۔امریکہ میں بھی 1970 کی دہائی کے آغاز میں ویت نام جنگ کے خلاف طلباء کی تحریک شروع ہوئی۔ اس کے نتائج اگرچہ 1975 میں رونما ہوئے۔

تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ 1970 کی دہائی کے وسط میں اندراگاندھی کی لگائی ایمرجنسی کے خلاف بھارت میں ایک تحریک شروع ہوئی۔ وہ اس کے نتیجے میں فارغ ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے خود کو قبل از وقت انتخاب کے ذریعے مستحکم کرنے کی کوشش کی۔1977 کے انتخابی نتائج کے خلاف مگر ہمارے ہاں بھی ایک تحریک برپا ہوگئی۔ جماعت اسلامی جیسی مذہبی جماعتیں ’’نوستاروں‘‘ کے اتحاد میں خود کو سیکولر کہلاتی ان دنوں کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (NDP)جو آج کل ANP کہلاتی ہے کے ساتھ کھڑی ہوئی۔اصغر خان جیسے ’’لبرل‘‘ بھی اس اتحاد کا حصہ تھے۔ بھٹو صاحب فارغ ہوئے۔ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا۔ جولائی 1977 میں لگائے مارشل لاء کے چند ہی مہینوں بعد اپریل 1978 میں افغانستان میں ’’کمیونسٹ انقلاب‘‘ برپا ہوگیا۔ اس کی مچائی ہل چل کے دوران ہی ایران کے شہنشاہ کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوگئی۔ فروری1979 میں وہاں ’’اسلامی انقلاب‘‘ آگیا۔

ماضی کے چند برس اور ان کے دوران برپا ہوئی تحریکوں کو یاد دلانا اس لئے ضروری سمجھا ہے کہ ان دنوں بھی دُنیا بھر کے کئی ممالک احتجاج کی گرفت میں ہیں۔فرانس میں پیلی جیکٹوں والے ہیں۔برطانیہ میں Brexit کا قضیہ طے نہیں ہورہا۔شام کی خانہ جنگی میں ایک خوفناک موڑ آیا ہے۔اس ملک کے ہمسائے میں لبنان بھی ہے۔لبنان میں گزشتہ کئی دنوں سے عوام کی کثیر تعداد سڑکوں پر ہے۔

ان کا اصرار ہے کہ فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیاد پر سیاست کرنے والی اشرافیہ نے اقتدار کا جوڈھانچہ بنارکھا ہے وہ عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنائے ہوئے ہے۔سنی،شیعہ اور دیگر مذاہب کی نمائندگی کرنے والی اشرافیہ نے Warlords کا چلن اختیار کرلیا ہے۔Power Sharing کے نام پر وہ قومی دولت میں اپنی ذات،خاندان اور چمچوں کے لئے ہی حصہ طلب کرتے ہیں۔لبنان کے شہریوں کو سفاکانہ انداز میں نظرانداز کئے رہتے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد مسلط ہوئے اس بندوبست سے نجات حاصل کی جائے۔لبنان کے شہریوں کوسنی،شیعہ یا دیگر مذاہب کی ’’رعایا‘‘ تصور کرنے کی بجائے ’’شہری‘‘ تسلیم کیا جائے جن کے اجتماعی حقوق ہوتے ہیں۔

پاکستان اور لبنان سے ہزار ہا میل دور لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں بھی ایک تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔اس میں شامل افراد کا اصرار ہے کہ انہیں معاشی ترقی کے مواقع میسر نہیں۔اہم ترین بات یہ ہے فرانس اور لبنان کی طرح چلی میں بھی جو تحریک چل رہی ہے اسے ان ممالک کی روایتی سیاسی جماعتوں کی حمایت میسر نہیں۔یہ تحاریک اپنے تئیں کوئی سیاسی جماعت بھی تشکیل نہیں دے پائیں۔ان کا کوئی ایک معتبر رہ نما بھی نہیں۔انہیں Leaderless تحاریک پکارا جارہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن اگرچہ ایک جانے پہچانے سیاسی رہ نما ہیں۔وہ جس جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں اس کی جڑیں تاریخی ہیں۔ان کے مارچ کے انداز اور اس کے اہداف مگر کئی حوالوں سے اس ہیجان کی نمائندگی کررہے ہیں جو لبنان اور چلی جیسے ممالک میں برپا ہوا نظر آرہا ہے۔یہ ہیجان درحقیقت ا نگریزی زبان والے Left Behind طبقات کے غصے اور محرومیوں کا اظہار ہے۔ ’’مولویوں‘‘ نے اسے انگریزی والا Harnessکیا اور رونق لگادی۔

اصل حقیقت یہ بھی ہے کہ ’’لبرل‘‘ مشہور ہوئے کئی معتبر ناموں سے کہیں زیادہ ہماری اپوزیشن کی نہام نہاد Main Stream جماعتیں مولانا کے مارچ سے ازحد پریشان ہیں۔ نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی جماعت کے صدر شہباز شریف اس میں بھرپور شرکت کو آمادہ نہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ’’لبرل‘‘ بنیادوں پراس سے فاصلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔مولانا کے مارچ کی کھل کر مذمت کرنے کا مگر ان جماعتوں میں حوصلہ نہیں۔عمران حکومت نے انہیں وہ Spaceہی فراہم نہیں کی جسے برقرار رکھنے کی خاطر وہ اکتوبر2019 کے مارچ کی اسی بھرپور انداز میں مذمت کرپائیں جو اگست 2014 کے دھرنے کی بابت اختیار کیا گیا تھا۔

گومگو کا عالم ہے۔سیاست میں گومگومگر کوئی حکمت عملی نہیں ہوتی۔یہ آپ کو بلکہ مفلوج ہوا دکھاتی ہے۔شیکسپیئر کے ہملٹ کو اس کے باپ کی روح مسلسل رونما ہوکر ’’کچھ ‘‘ کرنے کو اُکساتی رہی۔وہ مگر To be or not to beوالے مخمصے میں مبتلا ہوا شاعرانہ فلسفہ بگھارتا رہا۔ بالآخر اس ڈرامے کا جو ’’ڈنمارک‘‘تھا اس کا تمام تر ڈھانچہ مرکزی کرداروں سمیت ڈھے گیا۔

مولانا کے مارچ کی بات بھی ان دنوں To be or not to beوالے مخمصے ہیں۔سازشی کہانیاں ہیں۔بے تحاشہ خوش گمانیاں بھی۔ان میں سے اہم ترین یہ گماں ہے کہ مولانا اسلام آباد پہنچ گئے تو عمران خان صاحب استعفیٰ دے دیں گے اور In House بندوبست کے ذریعے قومی اسمبلی کوئی نیا وزیر اعظم لے آئے گی۔ میں اس گماں کے ضمن میں سوائے ہنسنے کے اور کچھ لکھ ہی نہیں سکتا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •