امیر جماعت اسلامی سے خو گر حمد کا گلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا ہے کہ بے لاگ و شفاف احتساب کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ احتساب 2 خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گیاہے جس سے انتقام کا تاثر گہرا ہورہاہے۔ ملک میں قانون کی بالادستی اور حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ عام آدمی کی عدلیہ تک رسائی اور آزاد عدلیہ کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ 9 سال میں شرح نمو اپنی کم ترین اور مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 86 دن سے کشمیر میں بدترین کرفیو ہے مگر حکومت کوئی عملی اقدام اٹھانے اور لائحہ عمل دینے کے لیے تیار نہیں۔ جب تک ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی، لاقانونیت اور انارکی کا راج رہے گا۔

روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی اس خبرمیں امیر جماعت اسلامی کی مذکورہ باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جس کی حقانیت سے انکار کیا جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام کے سامنے جتنے بھی دعوےکیے تھے وہ تمام کے تمام غلط ثابت ہوئے۔ اپنے نصب شدہ لیڈر کے ہر پھر جانے والے دعوے کا دفاع کرتے ہوئے ان کے حامی اور عرف عام میں ”یوتھئے“ مختلف اوقات میں مختلف انداز کے ساتھ عمران خان کے لئے اچھائی کا کوئی نہ کوئی پہلو نکالتے ہی رہے۔

قرض نہیں لونگا کے دعوے کے برعکس جب قرض لینا پڑ ہی گیا تو کہا گیا کہ سابقہ حکومت نے خزانے میں جب کچھ چھوڑا ہی نہیں تھا تو ملک چلانے کے لئے قرض لینا مجبوری ہی تھی۔ مہنگائی نہیں کرونگا سے مہنگائی کرنی پڑی اور ٹیکس نہیں لگاؤں گا کے دعوے کے برعکس جب ٹیکس لگائے جارہے تھے تو کہا گیا کہ اگر قرض بھی نہ لیا جائے تو پھر عوام کو ٹیکس ادا تو کرنا ہی پڑے گا۔ مختصر یہ کہ عمران خان قوم سےکیے گئے وعدوں سے پھرتے گئے اور ان کی حمایت میں بولنے والے کوئی نہ کوئی دفاعی پہلو نکالتے نکالتے تھک گئے تو آخر میں ان کی سوئی ”احتساب“ پر آکر اٹک گئی۔

سوشل میڈیا پر بیٹھے ”یوتھئے“ علی الاعلان یہ کہنے لگے کہ ہم عمران خان کو اس لئے نہیں لائے تھے کہ وہ ٹیکس نہ لگائے، مہنگائی نہ کرے، بجلی، گیس اور پٹرول سستا کرے اور غریبوں کی مشکلات آسان کرے بلکہ ہم عمران ان کو اس لئے لے کر آئے تھے کہ وہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لائے، چوروں اور ڈاکوؤں کا احتساب کرے، بدعنوان عناصر کو نہ صرف بے نقاب کرے بلکہ ان کو پسِ دیوارِ زنداں ڈالے اور بلا امتیاز ساری چھوٹی بڑی مچھلیوں کو قانون کی گرفت میں لے۔

یہ تھا وہ آخری دفاعی مورچہ جس کی آڑ میں ہر وہ کارکن جو موجودہ حکومت کو لانے کی عظیم غلطی کر بیٹھا تھا اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کے لئے اس مورچے میں چھپا بیٹھا تھا لیکن عمران خان کا دفاع کرنے والوں کا یہ مورچہ بھی اب ٹوٹتا نظر آرہا ہے اور اس کی حمایت میں بولنے والے پریشان ہیں کہ اگر ان کا یہ آخری مورچہ بھی تباہ و برباد ہوگیا اور بے لاگ احتساب کرنے کا دعویٰ بھی خام ثابت ہوا تو کیا وہ موجودہ حکومت اور خاص طور سے عمران خان کا دفاع کر پائیں گے؟

اسی آخری دفاعی مورچے کے متعلق امیر جماعت اسلامی نے وا شگاف الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے یہ دعوے کہ وہ صاف و شفاف، بلا امتیاز اور بے رحمانہ احتساب کرے گی، لوٹی ہوئی قوم کی دولت کو واپس لائے گی اور چوروں ڈاکوؤں کو کسی صورت معاف نہیں کریگی، کے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے اور احتساب کا یہ عمل ایک جانب تو سیاسی مخالفین کے گرد گھوم رہا ہے اور دوسری جانب ”این آر او“ نہیں دوں گا کے جواب میں ڈیل اور ڈھیل کے پہلو بہت نمایا ہو کر سامنے آتے جارہے ہیں۔ احتساب میں امتیازانہ پہلو اور سیاسی مخالفین کے گرد ہی چکر لگاتا انداز احتساب سے زیادہ انتقامانہ کارروائی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے قوم میں اس عمل کو پذیرائی نہیں مل پا رہی بلکہ ایسا کرنا قوم میں اطمنان کے بجائے بے چینی کا سبب بنتا جارہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا مزید یہ کہنا کہ قوم کی آنکھوں میں قانون کی حکمرانی کا جو خواب سجایا گیا تھا وہ چکنا چور ہو کر رہ گیا ہے اور پاکستان کے سارے عوام اس وقت سخت ہیجانی کیفیت کا شکار ہیں، بالکل بجا اور درست ہے۔ کوئی گلی، کوئی محلہ، کوئی گاؤں، کوئی بازار اور شہر چوروں، ڈاکوؤں اور حد یہ ہے کہ قانون کے نگہبانوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں۔ ہر جانب ایک ایسی ہاہاکار مچی ہوئی ہے کہ کان پڑی آواز تک سنائی نہیں دے رہی۔

عدل و انصاف کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ انصاف کو حاصل کرنے کے لئے صبر ایوب، عمر نوحؑ اور قارون کا خزانہ بھی کم معلوم ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے جرائم کا اوسط دن بدن بڑھتا چلا جارہا ہے کیونکہ جس کے ساتھ بھی کوئی زیادتی ہوتی ہے وہ ہونے والی زیادتی کے خلاف نہ تو انتظامیہ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے اور نہ ہی عدالت میں انصاف کی اپیل کر سکتا ہے۔ اس پر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے اور ملازمتوں کے دروازے بند ہوتے چلے جارہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جو پاکستان کو مسلسل پیچھے کی جانب دکھیل رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ان سارے معاملات کی یا تو کوئی خبر ہی نہیں ہے یا ان کی نظریں سابقین کی طرح کسی اور معاملے پر گڑی ہوئی ہیں۔

ایک جانب ملک کے عوام کی چیخیں اس خراب صورت حال کی وجہ سے بلند ہو رہی رہی ہیں تو دوسری جانب گزشتہ تین ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں غدر مچا ہوا ہے۔ پوری وادی سخت کرفیو میں گھری ہوئی ہے اور بھوک پیاس سے مجبور کشمیری جب ضبط کا بندھن ٹوٹ جانے کی وجہ سے گھروں سے باہر نکل پڑتے ہیں تو بھارتی فوجی درندے ان پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح حملہ آور ہوجاتے ہیں اور ان کے لہو سے ہولی کھیلنے لگتے ہیں۔ جنت نظیر وادی کشمیر جہنم کا نمونہ بنا کر رکھ دی گئی ہے اور پاکستان کے حکمرانوں کا یہ عالم ہے کہ جیسے مقبوضہ کشمیر میں گولیاں نہیں برسائی جارہی ہیں بلکہ لڈوؤں کی برسات کی جارہی ہے۔ کسی بھی قوم کی بے حسی اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ وہ اپنے بھائیوں کا خون بہتا دیکھے اور خاموش رہے۔

کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور پاکستان اس وقت کن حالات سے گزر رہا ہے، اس بات کا جائزہ لینے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ کشمیر ہو یا پاکستان، آج جن حالات اور مشکلات کا شکار ہیں اس میں ہم سب کا انفرادی اور اجتماعی، دونوں پہلوؤں سے برابر کا حصہ ہے۔ جب سے پاکستان میں لوگوں کو اپنی اپنی رائے کے استعمال کا موقع ملا ہے اور لنگڑی لولی جمہوریت بحال ہوئی ہے، ہم سب نے اسے جمہوری انداز میں چلانے کی بجائے اُسی آمرانہ ذہنیت اور سوچ کے ساتھ چلانے کی کوشش کی ہے جو بادشاہوں کا انداز ہوتا ہے، پاکستان میں کہنے کو ایک پارلیمنٹ بھی ہوتی ہے، ملک کا ایک وزیراعظم بھی ہوتا ہے اور مملکت کا ایک صدر بھی ہوتا ہے لیکن ہم نہ تو پارلیمنٹ کو مانتے ہیں، نہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور نہ ہی عوام کی رائے کا احترام ہمارے نزدیک کوئی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم شروع دن سے ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتے رہے ہیں اور اب اس ٹشو پیپر کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اگر استعمال کرنے والے ہاتھ ہمیں استعمال کرنے سے آزاد بھی کردیں تو ہم پورے اعتماد کے ساتھ امور مملکت چلاہی نہیں سکتے۔

جس جماعت کو موجودہ حالات سے شکایت ہے اس کو اس بات کا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ اس حکومت کو تختہ اقتدار تک لانے میں ہمارے اپنے کندھے کتنے استعمال ہوئے ہیں۔ اگر ایماندارانہ انداز میں جائزہ لیا جائے تو اب بھی ہمارے دل و دماغ میں کئی نرم گوشے ایسے موجود ہیں جو ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ اس حکومت کے خلاف جانے سے روکے ہوئے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک یہ طے ہی نہیں کیا کہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لئے ہمیں پیش قدمی کرنی چاہیے یا تماشہ دیکھتے رہنا چاہیے۔ اگر ہمارے نزدیک موجودہ حکومت، پاکستان، نظریہ پاکستان اور ریاست کی سالمیت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور اس کا تا دیر تختِ سلطنت پر متمکن رہنا ایک بہت بڑا رسک ہے تو ہمیں بہت واضح طریقے سے کوئی مؤقف اختیار کرنا ہوگا اور ہمیں تین اور تیرہ کے بھنور سے نکلنا ہوگا۔ اگر ہم نے درست اور بروقت فیصلہ نہیں کیا تو نہ تو ہمارے ہاتھ کچھ آئے گا اور نہ ہی ہم ایک ایسی حکومت جو عوام دشمن، پاکستان دشمن، نظریہ پاکستان دشمن اور غیر مسلموں کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی حکومت ہے اور جو لفظ جہاد سے بھی خوف زدہ رہتی ہے، وہ ہم پر ایک عذاب کی طرح مسلط رہے گی۔ ممکن ہے کہ دنیا میں ایک ایسی ریاست جس کو پاکستان کے نام سے پکارا جارہا ہوگا، نقشے میں موجود نظر آئے لیکن اس میں کوئی ایک ادارہ بھی ”پاک“ نہ ہو بلکہ جیسے دنیا میں اور بیشمار ممالک ہیں، ایک ملک پاکستان بھی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •