آزادی مارچ یا طویل غلامی کی طرف ایک قدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ راولپنڈی پہنچ رہا ہے۔ وہ کل صبح ایک بڑے ہجوم کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس ہجوم کی قوت اور تعداد کے بارے میں اندازے، دیکھنے اور رپورٹ کرنے والے کی صوابدید اور پسند وناپسند کے معیار کے مطابق ہی قائمکیے جارہے ہیں۔ تاہم اسلام آباد انتظامیہ کی تیاریوں اور حکومت کی پریشانی سے لگتا ہے کہ احتجاجی جلوس توقع سے بڑا ہو سکتا ہے۔

اس احتجاج کا کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ یہ تند و تیز تقریروں کے بعد پر امن طریقے سے منتشر بھی ہو سکتا ہے۔ کوئی انتظامی غلطی، تصادم یا تشدد کے نتیجہ میں احتجاجی ہجوم مشتعل بھی ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں جان و مال دونوں کو اندیشہ لاحق ہوگا۔ ایک دور از قیاس امکان یہ بھی ہے کہ عمران خان کی جگہ ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے کسی دوسرے زیادہ قابل قبول شخص کو وزیر اعظم بنا دیا جائے اور مولانا کی آواز میں آواز ملانے والے سب سیاسی لیڈر اور احتجاج کرنے والے، اسے اپنی کامیابی قرار دیں۔

اس حوالے سے درست صورت حال کا اندازہ جمعرات کو اسلام آباد میں اکٹھا ہونے والے ہجوم کی تعداد اور اس کے قائدین کے لب و لہجہ سے ہی ہو سکے گا۔ تاہم ان تینوں صورتوں میں کوئی بھی وقوعہ رونما ہو، اس احتجاج کے بارے میں دو باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک یہ کہ فوجی قیادت کو طے کرنا ہوگا کہ وہ کس حد تک سیاسی پارٹیوں کو قومی معاملات میں ’سپیس‘ دینے پر تیار ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک مذہبی جماعت کی قیادت میں اس احتجاج کے بعد ملک میں مذہبی عناصر کی قوت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح معاشرے کی بعض بنیادی صفات کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان گو کہ ایک معتدل مزاج لیڈر ہیں اور وہ ملک میں جمہوری نظام کے حامی ہیں۔ لیکن اقلیتوں اور خواتین کے بارے میں ان کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ احتجاج کے نتیجہ میں اگر ان کی سیاسی قوت اور قد کاٹھ میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنے منشور و نظریات کے مطابق رعایت دینے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اگرچہ مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پوری قوم عمران خان اور حکومت کے خلاف ’ایک پیج‘ پر ہے۔ لیکن اس سیاسی یکسوئی کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی سو فیصد حمایت حاصل نہیں ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری نے ضرور مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کا مکمل ساتھ دینے کا عندیہ دیا ہے لیکن شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ان میں کچھ درست ہوں گے اور کچھ اس خوف پر مبنی ہوسکتے ہیں کہ مولانا کی سیاسی مقبولیت، ان جماعتوں کی عوامی حیثیت کو متاثرکرے گی اور حصول اقتدار کی سودے بازی میں ان کی پوزیشن کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

اسلام آباد پہنچنے والے آزادی مارچ کے حوالے سے عسکری قوتوں کا کردار ہی فیصلہ کن ہوگا۔ اگرچہ ابھی تک یہی تاثر دیا گیا ہے کہ فوج عمران خان اور ان کی حکومت کی پشت پر کھڑی ہے لیکن ہجوم کے مزاج اور طاقت کو دیکھتے ہوئے وہ اپنا فیصلہ اور ارادہ تبدیل بھی کرسکتی ہے۔ مولانا اگر اندازوں سے زیادہ لوگ اسلام آباد میں جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید وہ خود بھی اپنا ارادہ تبدیل کرلیں اور اقتدار میں مناسب حصہ کی ضمانت کے بغیر اسلام آباد چھوڑنے پرآمادہ نہ ہوں۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کو قلعہ بند کرنے کے جو انتظاماتکیے گئے ہیں، وہ بھی مجمع کی تعداد اور اس کے لیڈروں کی حکمت عملی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو سکتے ہیں۔ احتجاجی ہجوم کی تعداد اگر بیس پچیس ہزار بھی ہوئی تو وہ حکومت سے قابل ذکر مراعات لینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہی وجہ ہے ہجوم کی سیاست کا سب سے پہلا نشانہ ووٹ کی طاقت ہوتی ہے۔ اس کا مظاہرہ اس ملک میں پہلے بھی کیا جاچکا ہے اور اس کے نتائج بھی عوام نے بھگتے ہیں۔ اب ایک بار پھر اہل پاکستان کو ماضی جیسی افسوسناک صورت حال کا سامنا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمع ہونے والے لوگ اگر ایک لاکھ یا اس سے زیادہ بھی ہوں تو بھی وہ ملک کے 9 کروڑ ووٹروں کی نمائیندگی نہیں کرسکتے۔ لیکن ایک مقام پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے والا لیڈر، وہ مطالبات منوا لیتا ہے جو ووٹ کی پرچی پر پسند کی پارٹی یا امید وار کے نام پر مہر لگانے والا ووٹر تسلیم نہیں کروا سکتا۔ مولانا کے مطالبات اور دلائل کی حمایت کی جائے یا ان کی تنقیص، اس بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ جلوس اور ہجوم کی سیاست سے کسی بھی معاشرے میں جمہوری روایت کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان کو ضرور عسکری عناصر کی حمایت بھی حاصل رہی ہوگی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تحریک انصاف نے 2018 کے انتخاب میں پونے دو کروڑ ووٹ لئے تھے۔ اب چند ہزار یا چند لاکھ کا مجمع اسے دیوار سے لگانے کے لئے تیار کھڑا ہے۔ اسے بہرصورت نہ تو جمہوریت کا نام دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس طریقے سے جمہوریت مستحکم ہوگی۔ لیکن یہ صورت حال پیدا کرنے میں عمران خان اور تحریک انصاف کو بری الذمہ نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1310 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali