مسئلہ کشمیر سے متعلق چند سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک اور بھارت کے درمیان اختلافات اور تناو کی بنیادی وجہ ابتداء ہی سے مسلئہ کشمیر چلا آرہا ہے۔ اس کے مناسب حل تک نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں تناو کا عنصر بر قرار رہے گا  بلکہ علاقائی سیاست پر اس کے اثرات پڑتے رہیں گے۔

 اس کے حل یا تصفیے کے لیے مختلف طرز کی کاوشیں بھی شروع سے ہوتی رہی ہیں

جنگوں اور جھڑپوں کے طریقے بھی آزمائے گئے ہیں اور پر امن سیاسی ذرائع سے بھی مختلف اوقات بروئے کار لایا جاتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کاوشوں، تیسرے ملک کی ثالثی اور دونوں فریقین کے درمیان باہمی اعلی سطح مذکرات، معاہدے اور اعلانات کے باوجود اس کا کوئی ٹھوس اور مثبت نتیجہ نہیں آ سکا ہے۔بلکہ گزشتہ 5 اگست سے نریندر مودی کے اقدامات سے کشمیر کا مسئلہ نیا رخ اختیار کرکے مزید پیچیدہ ہوگیا ہے ۔مودی کے ان یکطرفہ اقدام کے خلاف پاکستان کا فوری ردعمل فطری ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان عالمی سطح پر سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی دباو ڈالنے کی اپنی تگ و دو کر رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ ملک کے اندر کشمیر کے بارے میں منعقد جلسے جلوسوں اور ریلیوں میں ” کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے کا نئے جذبے کے ساتھ اعادہ بھی کیا جا رہا ہے۔

 یہاں اسی حوالے سے پاکستان کے تناظر سے مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق چند سوالات خالص اکیڈمیک مقصد کے تحت قارئین کے غور و فکر اور رائے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں

1۔ “کشمیر بنے گا پاکستان ” کا روایتی دعوی اور نعرہ کیا کبھی حقیقت میں بدل سکتا ہے؟

2۔اس کا حقیقت بنائے جانے کا موثر اور نیتجہ خیز ذریعہ کیا ہو سکتا ہے۔۔جنگ یا سیاسی اور سفارتی تگ و دو؟

3۔ کیا پاکستان کے لیے جنگ سے اس کے حصول کا امکان ہے؟

4۔ کیا سیاسی یا سفارتی ذرائع سے بھارت کو بامعنی مذاکرات کے لیے آمادہ کیا جا سکتا ہے؟

5۔ کیا موجودہ صورت حال میں پاکستان بھارت پر موثر سیاسی اور سفارتی دباؤ ڈالنے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے؟

6۔کیا بدلے ہوئے حالات میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کرائے جانے کی توقع ہو سکتی ہے؟

 7۔ کیا پاکستان کا محض اقوام متحدہ کی ماضی کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر اصرار کرنا حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز اپروچ قرار دیا جا سکتا ہے؟

8۔استصواب رائے کے روایتی موقف کے علاوہ کیا کوئی دوسرا ممکنہ حل ہو سکتا ہے جو پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے قابل قبول ہو؟

 9۔کیا کشمیر کی مستقل تقسیم کی بنیاد پر تصفیے کی کوئی صورت نکل سکتی ہے؟

10۔کیا کشمیر کی مستقل تقسیم پر کشمیریوں کی اکثریت راضی ہو جائے گی۔؟

 11۔ اگر کسی بھی طرح کے پرامن سیاسی اور سفارتی کاوشوں سے بھارت کوئی لچک نہیں دکھاتا ہے تو کیا پاکستان کوئی مزید آپشنز بروئے کار لا سکتا ہے؟

 12۔کیا نئے حالات میں پاکستان کشمیر میں جہادی عناصر کو سپورٹ کرنے کا خطرہ مول لینے کی سکت رکھتا ہے؟

13۔ (سیاسی اور سفارتی سطح پر اپنی موجودہ کاوشوں کی موثر نتیجہ خیزی نہ ہونے باوجود پاکستان کشمیر کا مقدمہ لڑنے کی پوزیشن میں رہ سکتا ہے بشرطیکہ کشمیری کرفیو اٹھائے جانے کے بعد موثر مزاحمتی تحریک شروع کریں) تاہم اگر اس قسم کی تحریک نہ اٹھ سکی تو کیا اس صورت میں پاکستان کشمیر کاز کے حوالے سے مضبوط کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں رہ سکتا ہے؟

14۔اگر مقبوضہ کشمیر میں وہاں کی اکثریت نے تھرڈ آپشن (خود مختار کشمیر ) کے حق میں مزاحمتی تحریک شروع کی تو کیا پاکستان ان کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا؟

15۔اگر کسی وقت تیسرے اپشن (خود مختار کشمیر) کے مطالبے کے حق میں وسیع سطح پر حمایت یا دباؤ شروع ہوا تو کیا پاکستان اپنے روایتی موقف سے بدستور وابستہ رہے گا؟

16۔کیا پاکستان کی کوئی بھی حکومت پوری قوم کو اعتماد میں لیے بغیر تیسرے آپشن کے مطالبے کی حمایت کر سکے گی؟

17۔کیا اس تیسرے آپشن کے سلسلے میں قوم کے تمام موثر حلقوں اور طبقوں کی حمایت کا حصول کسی حکومت کے لیے مستقبل قریب میں ممکن ہو سکتا ہے؟

 18۔اور اس کے ساتھ ایک اہم سوال یہ کہ۔۔۔۔۔کیا بھارت اور پاکستان کی ریاستیں اپنی معاشی اور سٹرٹیجک مفادات کے پیش نظر خودمختار کشمیر کے آپشن کی حمایت کرنے کی متحمل ہو سکتی ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •