حصول انصاف میں قانونی پیچیدگیاں


عدل و انصاف معاشروں کی بہتری، خوشحالی اور امن کے لئے عمارت کی طرح بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس معاشرہ یا ریاست کا نظام انصاف ناقص ہو یا کمزور پڑ جائے تو اس معاشرہ اور ریاست کی جڑیں ہلنے لگتی ہیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسے معاشروں اور ریاستوں کی عمارت دھڑام سے زمین بوس ہوجاتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ ”کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم و نا انصافی کا نظام نہیں چل سکتا“۔ نظام اگرچہ گھر کی چار دیواری کا ہی کیوں نہ ہو اگر نا انصافی پر مبنی ہے تو گھر کا نظام بھی نہیں چل سکتا۔

 اسلامی تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں کہ کئی مرتبہ قاضی نے مسلمانوں کے بجائے کسی کافر کے حق بھی فیصلہ سنا دیا۔ وقت کے خلیفہ کے خلاف بھی فیصلے آتے رہے ہیں۔ اسلامی تاریخ کے جس دور کو سنہری دور کہا جاتا ہے یا جسے عروج کا دور کہا جاتا ہے اس دور کی دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ بنیادی وجہ عدل و انصاف کا اعلی نظام بھی ہے۔ تبھی تو کفار بھی اپنے معاملات میں مسلمانوں کو بطور منصف یا ثالث مقرر کیا کرتے تھے۔

 تاریخی حوالے دینے کی حاجت اس لئے بھی نہیں کیونکہ یہ ایسی انوکھی بات نہیں جو کسی کے علم میں نہ ہو۔ یقیناً ہر کسی نے ایسے واقعات پڑھ رکھے ہیں۔ یہاں صرف انصاف کی اہمیت کو اسلامی نقطہ نظر سے پیش کرنا مقصود تھا۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ بحیثیت اسلامی ریاست کیا پاکستان کا نظام انصاف اس خصوصیت کا حامل ہے کہ جس سے انصاف کی توقع کی جاسکے؟ اگر آپ یہی سوال گلی کوچے کے کسی ان پڑھ آدمی سے پوچھ لیں۔ پاکستان میں کسی بھی شعبہ کے چاہے مرد و عورت، چھوٹا بڑا کوئی بھی ہو، معاشرے کے کسی بھی فرد سے سوال کریں کہ کیا آپ پاکستانی عدالتوں سے انصاف کی امید رکھتے ہیں؟

 یقینا جواب غیرتسلی بخش آئے گا۔ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو ہر دور میں ایک طبقہ نے عدالتوں کے کردار کو بہت سراہا ہے۔ جبکہ دوسرا طبقہ عدالتوں سے مایوس نظر آیا ہے۔ جنرل ایوب کے مارشل لاء پر نظر دوڑائیں جس کے جواز میں سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت پیش کیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے جنرل ایوب اینڈ کمپنی بہت خوش تھے۔ مگر جس سیاسی گروہ کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے وہ عدالتوں سے مایوس نظر آئے۔

 تاریخ کا ایک اور بہت بڑا سانحہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ہے۔ جسے قتل کے مقدمہ میں شریک جرم ٹھہرا کر پھانسی دی گئی۔ اس سانحہ میں بھی جنرل ضیاء الحق اینڈ کمپنی عدالتوں سے بہت خوش تھے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما عدالتی فیصلے سے مایوس ہی نہیں بلکہ شدید غصے کا اظہار بھی کرتے رہے اور ابھی تک ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے دن کو ”عدلیہ کا یوم سیاہ“ کے طور پر مناتے ہیں۔ مزید یہ کہ بھٹو کی پھانسی کو جوڈیشل مرڈر (عدالتی قتل) کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

 ایسے سینکڑوں مقدمات ہیں جن میں عدلیہ نے انتہائی مایوس کن فیصلے دیے ہیں۔ جس کی حالیہ مثال سانحہ ساہیوال کا فیصلہ ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ عدالتیں ایسے فیصلے کیوں سناتی ہیں کہ جن کی وجہ سے عدل و انصاف کے نظام سے مایوسی پھیلتی ہے؟ کیا عدالتیں اپنی من مانی کرتی ہیں یا ان کے پاس کوئی جواز بھی ہوتا ہے؟

ان دو سوالات کے جوابات ہاں اور نہ میں نہیں دیے جا سکتے۔ قانون کی زبان میں ایک چیز ہے جسے ”گڈ فیتھ“ (عدلیہ کی نیک نیتی) کہا جاتا ہے۔ اگر آپ یہ کہہ دیں کہ پاکستان کی عدالتیں ہی جانبدار ہیں یا ججز کرپٹ اور نا اہل ہیں۔ پھر تو قانون کی بحث ہی ختم ہوجاتی ہے۔ مگر ہم یہاں اسی ”گڈ فیتھ“ کے اصول پر بات کریں گے تاکہ قانونی پیچیدگیاں سمجھ آ سکیں۔ آپ یقین کر لیں کہ عدلیہ گڈ فیتھ میں کام کرتی ہیں۔ عدالتیں اپنا ہر فیصلہ قانون کی رو سے مکمل طور نیک نیتی پر سناتی ہیں۔

 اس اصول کی بنیاد پر ہم عدلیہ اور ججز کی کارکردگی پر شک نہیں کرسکتے اور ہر اعتبار سے عدلیہ کے امیج کو بہتر تسلیم کرلیتے ہیں۔ ہم نے فرض کرلیا کہ عدلیہ اپنی پوری کوشش کرتی ہے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ مگر قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے کچھ مظلوم اور بے قصور لوگ سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ گڈ فیتھ کے اصول کو بنیاد بنانے کے بعد آپ قانون اور اس ذریعہ یا طریقہ کو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔ جس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اکثر مجرم بری ہوجاتے ہیں اور کئی مرتبہ بے قصور لوگ پھانسی چڑھ جاتے ہیں۔

 قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنے سے پہلے آپ ایک بھارتی وکیل کا مختصر تجزیہ سن لیں۔ کسی پروگرام میں بھارتی وکیل سے کسی نے سوال کیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے لہذا پاکستان بہت ترقی کر رہا ہے آپ اس پر کیا کہنا چاہیں گے؟ بھارتی وکیل نے ایسا جواب دیا جو ہم سب کے لئے شرمندگی کا باعث ہے۔ بھارتی وکیل نے جواب دیا کہ ”پاکستان کیا خاک ترقی کر رہا ہے جو ابھی تک گوروں کے بنائے ہوئے فرسودہ قانون پر گزارا کر رہا ہے۔ جبکہ بھارت اپنے تمام قوانین مکمل طور تبدیل کر چکا ہے۔

بھارتی وکیل کا تنقیدی جواب ہمارے لئے جہاں باعث شرم ہے وہاں ہمارے لئے ایک مثبت پیغام بھی ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ بھارتی وکیل کی بات کس حد تک درست ہے۔ دنیا جہاں میں رائج نظام عدل و انصاف دو طرح کے ہیں۔ ایک فوجداری جو جرائم اور ان کی سزاوں سے متعلق ہے۔ اور دوسرا دیوانی جو سول مقدمات سے متعلق ہے۔ جسے ہم عوامی فہم اور زبان میں جائیدادوں کے مقدمات کہتے ہیں۔ فوجداری اور دیوانی مقدمات دونوں کے لئے حصول انصاف کا ایک مخصوص طریقہ کار ہے جسے ضابطہ قوانین کہا جاتا ہے۔

 پاکستان میں فوجداری مقدمات کے لئے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 (سی پی سی) اور حصول انصاف کے طریقہ کار کو مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 (سی آر پی سی) کہا جاتا ہے۔ دیوانی مقدمات میں حصول انصاف کے طریقہ کار کو مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908 (سی پی سی ) کہا جاتا ہے۔ اب آپ ان کا سن تاریخ ہی دیکھ لیں کہ یہ ضوابط قوانین کس دور میں بنے اور کب سے برصغیر پاک و ہند میں رائج ہیں۔ جبکہ بھارت نے اپنے تمام قوانین نئے انداز سے مرتب کرلئے ہیں اور پاکستان ابھی تک انہی قوانین پر گزارا کر رہا ہے۔ جب بھی کوئی مقدمہ درپیش آتا ہے اس کے لئے جو ضابطہ قوانین یا حصول انصاف کے طریقہ کار کی پیچیدگی ہے، پر نظر دوڑائیں تو عام شہری مایوس ہی ہوجائے۔ اور یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ پاکستانی عدالتوں سے انصاف ملنا ایسا ہی ہے جیسے چاند کی تپش پر سالن گرم کرنا۔

Facebook Comments HS