جلسہ ملتوی نہیں ہوا: مولانا فضل الرحمٰن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ اور آزادی مارچ کے روحِ رواں مولانا فضل الرحمٰن نے آج کے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے ملتوی ہونے کی تردید کر دی۔ گوجر خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا پروگرام ہے جس کے بارے میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کب اور کیا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام قافلے اپنے وقت اور ترتیب کے مطابق اسلام آباد پہنچیں گے، آزادی مارچ، مارچ رہے گا، اس میں دھرنا بھی ہے سب کچھ ہے۔

 سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا ہے کہ کنفیوژن پھیلایا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں جلسہ ہے یا دھرنا؟ یہ اسلام آباد میں بھی مارچ ہی رہے گا، مارچ میں جلسہ بھی ہے اور دھرنا بھی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تیز گام کو پیش آنے والے حادثے پر بہت دکھ اور رنج ہے۔  انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، تحقیقات کی جائے کہ یہ حادثہ ہے یا دہشت گردی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اس موقع پر ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے مغفرت کی دعا بھی کی۔

مولانا فضل الرحمٰن اپنے خطاب کے بعد گوجر خان سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے۔  دوسری جانب پشاور موٹر وے سے جے یو آئی ف اور اے این پی کے قافلے اسلام آباد میں داخل ہونے لگے۔

واضح رہے کہ کچھ دیر قبل مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال اور مریم اورنگ زیب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سانحہ تیز گام کے باعث اپوزیشن نے مشترکہ طور پر آزادی مارچ کا اسلام آباد میں آج ہونے والا جلسہ کل تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آج سانحہ تیز گام کا بڑا حادثہ رونما ہوا ہے اور متاثرین سے اظہارِ یک جہتی کے لیے جلسہ کل تک کے لیے ملتوی کیا گیا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر کل جمعے کے بعد جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، قافلے آج اسلام آباد پہنچ کر قیام کریں گے۔

احسن اقبال کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کی جانب سے پارٹی صدر شہباز شریف کے ساتھ نون لیگ کی مرکزی قیادت، صوبائی صدور جلسے میں شریک ہوں گے۔  نون لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اپوزیشن کا آج ہونے والا جلسہ ملتوی ہوگیا ہے، تاہم آزادی مارچ آج جلسہ گاہ پہنچے گا اور جلسہ کل کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •