2014 میں عمران خان کے 126 روزہ دھرنے سے ملکی معیشت کو 2969 ارب روپے کا نقسان ہوا
جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کے حقیقی ہدف کے بارے میں کوئی باضابطہ اور واضح اعلان نہیں کیا گیا لیکن ایک بات واضح ہے کہ ماضی میں ہونے والے دھرنوں کے باعث ملک کو کھربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمان نے دھرنا دے دیا تو اس سے پہلے سے سسکتی معیشت آئی سی یو میں چلی جائے گی۔
www.tabadlab.com نامی ویب سائٹ کے مطابق تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے 2014 میں الیکشن دھاندلی کی تحقیقات اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے انصاف کے لئے 126 دن تک دھرنا دیا تھا۔ علامہ طاہرالقادری تو 70 دن بعد ہی دھرنا ختم کر کے چلے گئے تھے لیکن عمران خان کا دھرنا اس کے بعد بھی جاری رہا جس کے باعث ملکی معیشت کو مجموعی طور پر 2969 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومتی تخمینے کے مطابق اس دھرنے کے باعث ملکی معیشت کو روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 24 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ مولوی خادم حسین رضوی نے 2 بار ملک بھر میں پہیہ جام کیا۔ انہوں نے پہلی بار نومبر 2017 میں توہین رسالتﷺ قانون میں ترمیم کے خلاف 20 دن تک فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دیا جبکہ باقی شہروں میں بھی چھوٹے دھرنے ہوئے، اس کے باعث ملکی معیشت کو اوسطاً روزانہ کی بنیاد پر 22 ارب اور مجموعی طور پر 436 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
خادم حسین رضوی نے دوسری بار اکتوبر 2019 میں اس وقت احتجاج کیا جب توہین رسالت ﷺ کیس کی ملزمہ آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے رہا کیا تھا۔ ان کا 3 روز تک جاری رہنے والا یہ دھرنا ملک کو سب سے مہنگا پڑا کیونکہ اس میں شرکا نے جگہ جگہ توڑ پھوڑ کی تھی جس کی وجہ سے معیشت کو 150 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
جولائی 2019 میں شناختی کارڈ کی شرط کے خلاف ملک بھر میں تاجروں نے شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی تو اس ایک روزہ ہڑتال کی وجہ سے معیشت کو 25 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔


