بے غیرت صغری یا قاسم؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاسم جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ رہا تھا۔ اب قاسم کے ابا اکثر قاسم کو ڈانٹ کرکہتے کہ وہ اب شلوار بنیان پہن کر گلی میں مت نکلا کرے گھر میں بھی قمیض پہن کر رہا کرے۔  قاسم کی داڑھی اور مونچھ کے بال بھورے سے کالے ہونا شروع ہوگئے تھے۔  قاسم کی روٹین میں شامل تھا روزانہ صبح شام اسٹیڈیم جا کر ورزش کرنا اور گوگے پہلوان سے کبڈی کے داٶ پیچ سیکھنا۔ ہر روز کلو دو کلو دودھ پیتا بادام رگڑتا، قیمہ، سبزیاں اور پھل قاسم کی خوراک تھے۔

قاسم کے سرخ گال چھریرا بدن مضبوط بازو اور اٹھا ہوا ببرشیر جیسا سینہ قاسم کے لیے قدرت کے انمول تحفے تھے۔  اچھی خوراک دن رات کی محنت اور پہلوانی کاشوق قاسم کے جوبن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جادوئی کشش پیدإ کررہے تھے۔  قاسم کے اماں ابا اور تینوں بھائی قاسم کی خواک ورزش اور رہن سہن کا بہت خیال رکھتے۔  انھیں یقین تھا کہ ان کا بیٹا ایک دن بہت بڑا نامی گرامی پہلوان بنے گا۔

ایک روز ان کی بستی میں خوب بارش ہوئی۔ بستی کی کچی گلیوں میں بارش کا پانی نالوں کی طرح بہنے لگا۔ موسلا دھاربارش کے تھم جانے کے بعد کیچڑ بھری گلیوں میں گزرنا محال ہو گیا۔ مگر قاسم کو تو ہرحال میں اسٹیڈیم جانا اور کسرت کرنا تھی۔  قاسم ٹراوزر شرٹ پہن کر گھر سے نکلا۔  دیواروں کے ساتھ ساتھ سنبھل سنبھل کر قدم رکھتا قاسم اسٹیڈیم کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک اس کا پیر ایک جھاڑو پہ أگیا اور ایک نسوانی أواز نے قاسم کو چونکا دیا۔  یہ سجوار خان کا گھر تھا۔ سجوار خان بنا ریاست خود کو نواب سمجھنے والا وڈیرہ قسم کا جھگڑالو انسان تھا۔

شاید سجوار خان کے پرکھوں میں کبھی کوئی رئیس رہا ہوگا۔  مگر اب اس کے گھر میں تکبر اور غربت کے علاوہ دوسری کوئی چیز اثاثہ نہ تھی۔ سجوار خان کا ایک ہی بیٹا تھا مکھی جان جس کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی اور یہ مکھی کی نئی نویلی دلہن کی أواز تھی جس نے اچانک جھاڑو پہ قاسم کا پیر أجانے کی وجہ سے اسے بلاوجہ بے غیرت کہہ دیا تھا۔  اب قاسم ہر وقت سوچتا رہتا کہ یار میرا قصور کیا تھا؟ میں تو سیدھا سیدھا اپنے رستے جارہا تھا۔

میں نے جان بوجھ کے تو جھاڑو پہ پیر نہیں رکھا تھا۔  قاسم جب رات کو سونے کے لیے أنکھیں بند کرتا تو سارا منظر قاسم کی أنکھوں کے سامنے أجاتا۔  مکھی خان کی بیوی کے الفاظ قاسم کے کانوں میں گونجنے لگتے۔ أخر ایک دن قاسم نے فیصلہ کیا کہ میں مکھی خان کی بیوی سے بدلہ لوں گا۔  پہلوان قاسم کا دماغ جیسے بدلے پہ أکر رک گیا۔  کہتے ہیں ناں کہ ”پہلوانوں کا بھی عقل سے بیر ہوتا ہے“ خیر اب قاسم جب بھی اس گلی سے گزرتا تو سجوار خان کے گھر کے کھلے دروازے میں جھانکتا اور لمحے بھر کو رکتا اور چل دیتا۔

ایک دور بار مکھی خان کی بیوی نے نوٹ کیا کہ یہ لڑکا ہمارے گھر کے دروازے میں جھانکتا بھی ہے اور رکتا بھی ہے۔  پرکشش پہلوان قاسم کی بھری بھری نوخیز تازہ جوانی کی کشش تھی یا حادثہ کہ ایک دن مکھی خان کی بیوی نے قاسم کو روک لیا اور سرائیکی میں پوچھا (کاکا تیکو کیا مسئلہ ہیہ) جوان تجھے کیا مسئلہ ہے۔  (ساکوں جاندا ہیں اساں کون تھی نے ہاں) ہمیں جانتے ہوں ہم کون لوگ ہیں۔  (کپ کے نینہہ تلے ڈے ڈیسوں۔  اتنا مرد ہینہ تاں راتی گھرے أونجیں ) تمھارے ٹکڑے کرکے دیوار میں دفن کردیں گے اتنے بہادر ہو تو رات کو گھر أ جانا۔

 اب گالی کا بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ قاسم کو ایک نئے چیلنج کا بھی سامنا تھا۔  حالات مزید سنگین ہوگئے۔ مگر قاسم ہر حال میں گالی کا بدلہ لیناچاہتا تھا۔  قاسم عجیب کیفیت میں مبتلا تھا کئی دن تک وہ اسٹیڈیم جا کر محنت کرنے کی بجائے اسٹیڈیم کی سیڑھیوں پہ بیٹھا یہی سوچتا رہتا کہ اب وہ کیا کرے گالی کے ساتھ اب مکھی کی بیوی نے قاسم کی مردانگی کو للکارا تھا اور پہلوانوں کے پاس مردانگی کے زعم کے علاوہ ہوتا ہی کیا ہے۔

قاسم کے لیے ایک ایک پل ایک ایک دن پہاڑجیسا ہو گیا تھا۔  قاسم اپنی بے عزتی اور چیلنج کا تذکرہ بھی کسی سے نہیں کرسکتا تھا اور اس ذلت کو سہہ جانا بھی اس کے بس میں نہ تھا۔ أخرایک دن قاسم نے اپنے ابا سے کہا کہ وہ اپنے استاد کے ساتھ کسی دور شہر میں کبڈی کا میچ دیکھنے جانا چاہتا ہے ہو سکتا ہے رات وہیں رکنا پڑے۔  بہت منت سماجت کے بعد اماں کی سفارش سے قاسم نے رات گھر سے باہر گزارنے کی اجازت لے لی۔

ٹھنڈا میٹھا موسم تھا۔  رات کے پچھلے پہر ٹھنڈ ہوجایا کرتی۔ لوگ باہر صحن میں سوتے تھے مگر ہلکی پھلکی چادریں کمبل بھی لیتے۔  شام کو تیاری کرکے قاسم گھر سے نکلا اور رات دیر تک اپنے دوست اور ساتھی پہلوان جھورے کی بیٹھک میں سی ڈی ٹی وی پہ کبڈی کے میچ دیکھتا رہا۔  رات تقریباً دو بجے قاسم نے جھورے سے اجازت لی اور وہاں سے سجوار خان کے گھر کی طرف چل نکلا۔ چاند کی بارہویں رات تھی ہر طرف چاند کی دودھیا روشنی کسی الہڑ مٹیار کے حسن پہ پڑتی صبح کے سورج کی أوارہ کرنوں جیسی بھلی محسوس ہورہی تھی۔

لوگ اپنے گھروں میں بتیاں بجھائے پرلطف نیند کی وادیوں میں محوسرور تھے اور ایسے عالم میں بدلے کی أگ میں جھلستا ہوا قاسم چوروں کی طرح پھونک پھونک کرقدم اٹھاتے سہما سہما کبھی أگے دیکھتا اور کبھی پیچھے۔  مگر مکھی خان کی نئی بیاہی دلہن کے ہتک أمیز الفاظ اور مردانگی دیکھانے کا چیلنج قاسم کو کوئی بھی حد پار کرجانے پہ اکسا رہے تھے۔  سجوار خان کے گھر کے ساتھ زیرتعمیر مسجد کی اینٹیں اٹھا کر قاسم نے دیوار کے ساتھ تھڑہ بنایا اور اینٹوں پہ چڑھ کردیوار کی دوسری جانب گھر میں نظر دوڑائی کھلی حویلی کے صحن میں چاند کی روشنی میں دو جگہ الگ الگ دو دو چارپائیوں پہ لوگ سوئے ہوئے تھے۔

  قاسم نے بغیر سوچے سمجھے دیوار کے اوپر ہاتھ رکھ کر چھلانگ لگائی اور اگلے ہی لمحے قاسم حویلی کے اندر تھا۔  اب کیسے پتہ چلے کہ مکھی اور اس کی بیوی کن چارپائیوں پہ ہیں اور سجوار خان اور اس کی بیوی کن پہ کیوں کہ چاروں نے منہ پر کھیس لے رکھے تھے۔  قاسم نے اب چارپائیوں کے نیچے پڑے جوتوں سے اندازہ لگایا کہ مائی بابا کہاں ہیں اور مکھی اور اس کی بیوی کہاں۔

ہاں سنہری تلے والی چپل یہی مکھی کی بیوی ہے۔  قاسم نے ہاتھ سے مکھی کی بیوی کے منہ سے ہلکا سا کھیس سرکایا تو اس نے أنکھیں کھول دیں شاید ساتھ والی چارپائی پہ سوئے اپنے خاوند کی منتظر تھی۔ أنکھیں کھولتے ہی جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور سرگوشی سے کہا (توں تاں سچ مچ ہی أ گیا ہیں) تم تو سچ مچ ہی أگئے ہو۔  قاسم نے بغیر منہ کھولے کندھے اچکا دیے۔  مکھی کی بیوی چارپائی سے اٹھی۔  چلنے لگی تو اس کے پراندے میں لگے موتی سلمے ستارے اورجھالروں نے کھن کھن کی أواز پیدا کی تو قاسم نے کہا پہلے پراندے کو تو سنبھالو۔

مکھی نے مسکرا کر پراندے کو اکٹھا کرکے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ مکھی کی بیوی نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ قاسم کو ہاتھ سے پکڑ کر بیڈ پہ بٹھادیا۔  خود فریج سے سیب نکال کر لے أئی پلیٹ میں کاٹ کر قاسم کے سامنے رکھ دیا۔ قاسم نے سیب کا ایک ٹکڑا اٹھا کر اس سے کہا جی جناب میں تمھارے گھر أگیا ہوں۔  اب کاٹ کر دیوار میں چنوا دو۔ جس پر مکھی کی بیوی نے ہنستے ہوئے کہا۔ (جواناں پہلے اپنا ناں تے ڈسا) جوان پہلے اپنا نام تو بتاٶ۔

قاسم نے کہا تمھیں نام سے کیا تم نے گھر أنے کا چیلنج کیا تھا۔  لو میں أگیا ہوں۔ مکھی کی بیوی نے کہا (حالی تک ناراض ہیں؟ نام تاں ڈساں) ابھی تک ناراض ہو نام تو بتاٶ۔ (میرا نام تاں صغری ہے ) میرا نام تو صغری ہے۔  قاسم نے سیب کو دوبارہ پلیٹ میں رکھتے ہوئے کہا میرا نام قاسم ہے۔  صغری نے قاسم کے کندھے پرہاتھ رکھتے ہوئےکہا (بندہ توں دلیر ہیں میں تیری قدر کریساں ڈسا کیا سیوہ کراں) تم دلیرأدمی ہو میں تمھاری قدرکروں گی بتاٶ کیا خدمت کروں اور قاسم کے ساتھ جڑکر بیٹھ گئی اور قاسم کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔

قاسم اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔  قاسم کو اپنے بدن میں بجلی کی سی لہریں انگڑائیاں لیتی محسوس ہوئیں۔  پہلی بار قاسم خوف سے یا گردش خون تیز ہوجانے سے تھرتھرانے لگا۔ صغری بیڈ پہ لیٹ چکی تھی مگر قاسم تھرتھر کانپ رہا تھا۔ قاسم کی حالت دیکھ کر صغری نے خود ہمت کی اور قاسم کو بازو سے پکڑ کر کھینچ لیا۔  پلک جھپکتے ہی صغری کپڑوں سے باہر تھی۔ قاسم سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ أخر ہو کیا رہا ہے۔  برہنہ لیٹی صغری کو دیکھ کر قاسم نے کہا میرے ایک سوال کا جواب دو۔ صغری نے کہا (تیڈے سب سوالاں دا جواب ڈیساں میڈے نزدیک تاں أ اتھاں لیٹ تاں سہی) قاسم نے کہا نہیں پہلے یہ بتاٶ بے غیرت میں ہوں کہ تم اس سے پہلے کہ صغری کچھ بولتی قاسم نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا، بے لباس صغری کو أئینہ دکھا کر بھاگ نکلا اور باہر والی دیوار پھلانگ کر گلی میں چلا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •