خون آشام دھرنے اور لاشوں کی گنتی


عمران خان نے چودہ اگست 2014 کو چار انتخابی حلقے کھولنے کے بہانے آزادی مارچ کے نام سے اس وقت کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ احتجاج سے قبل حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوا جس کے مطابق احتجاجی مظاہرین ریڈ زون اور حساس مقامات اور عمارات میں داخل نہیں ہوں گے۔ اس احتجاج میں عمران خان کے سیاسی کزن مولانا طاہر القادری بھی ان کے ساتھ تھے۔ آزادی مارچ شروع ہوا۔ مختلف مقامات سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچا۔ امپاٸر ساتھ تھا اس لیے عمران خان اور طاہرالقادری نے حکومت کے ساتھ کیے گٸے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور احتجاجی مظاہرین ہاتھوں میں نوکیلے ڈنڈے، پتھر اور اینٹیں لے کر ریڈ زون میں داخل ہو گٸے۔ سیاسی کزنوں کی گارنٹی دینے والے انگشت بدانداں رہ گٸے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ اور الازہر یونیورسٹی کی متعلم و معلم رہنے کی دعویدار قیادت کے زیر نگرانی بپھرے ہوٸے مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاٶس، سپریم کورٹ اور سینیٹ جیسے مقدس مقامات پر وہ ہڑبونگ اور افراتفری مچاٸی کہ تہذیب کی آنکھیں شرم سے جھک گٸیں اور شرم و حیا و شرافت اپنا منہ چھپانے لگی۔ پی ٹی وی کی عمارت پر باقاعدہ قبضہ کر لیاگیا اور ڈنڈا بردار نقاب پوشوں نے وہاں گھس کر عجیب و غریب حرکتیں شروع کردیں۔ مظاہرین کو کھل کھیلنے کا موقع اس لیے ملا کہ سنا ہے کہ اس وقت کے وزیر داخلہ دھرنا بازوں اور ان کے سرپرستوں سے ملے ہوٸے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سرپرستوں نے سیاسی کزنوں کو جتنی تعداد میں بندے لانے کو کہا تھا وہ اس کا عشر عشیر بھی نہ لاسکے جس کی وجہ سے احتجاج کو دھرنے میں بدل دیا گیا اور 126 دن تک تقریروں کے نام پر لغویات و مغلظات بکی جاتی رہیں اور احتجاج کے نام پر بے حیاٸی، اخلاق باختگی اور ناچ گانے کی بے ہودہ محفلیں برپا کی جاتی رہیں۔ کبھی شلواریں گیلی ہونے کی رکیک و مبتذل پھبتی کسی جاتی اور کبھی گندی شلواریں سپریم کورٹ کی ریلنگ پر لٹکاٸی جاتی رہیں۔ کبھی کفن پوشوں کا ڈراما اور کبھی گورکنوں کا ہنگامہ۔ غرض دھرنے کے نام پر ایک طوفان بد تمیزی تھا جسے دنیا ایک سو چھبیس دن تک دیکھ کر کراہتی رہی۔
عمران خان ہمیشہ امپاٸر کے بل بوتے پر دیے جانے والے دھرنے کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں مگر دھرنے کے دوران میں کچھ دن اور پہر ایسے بھی آٸے کہ جب عمران خان کنٹینر کی چھت پر اکیلے کھڑے بے ربط باتیں کرتے اور حاضرین کی تعداد سو سے بھی کم رہ جاتی۔ اب دھرنا امپاٸر کے لیے بوجھ بن چکا تھا۔ سر شام خوشحال گھرانوں کے مرد و خواتین آکر رقص و سرود کی رنگین محفل جماتے اور تابع فرمان میڈیا دھرنے کی تمام جزٸیات و تفصیلات کو دیکھنے والوں تک پہنچانا قومی فرض سمجھتا۔ دھرنے کی طوالت، یکسانیت اور بے مقصدیت کی مشق لاحاصل نے سرپرستوں کو بھی بیزار کردیا۔ طاہر القادری تو اپنی ویل اور اجرت لے کر چلتے بنے البتہ عمران خان نے سیف ایگزٹ یعنی باعزت راستہ مانگا۔
دھرنے کا ایک سو چھبیسواں روز تھا۔ قدرت نے لاڈلے عمران کو باعزت موقع دے دیا۔ چشم فلک نے دیکھا کہ جب اے پی ایس پشاور کے خرابے سے حرماں نصیب والدین آہ و بکا کرتے ہوٸے اپنے لخت جگروں کے جسموں کی بوٹیاں اکھٹی کر رہے تھے تو عین اس وقت سیکڑوں کلو میٹر دور اسلام آباد کے ڈی چوک سے دھرنے کی صفیں لپیٹی جا رہی تھیں۔ ایک سو چھبیس دن پر مشتمل طویل اور بے مقصد دھرنا بھی ختم ہو گیا اور ایک سو پچاس نونہالان وطن کی ننھی منی زندگیوں کے چراغ بھی گل ہو گٸے۔ جب گھر کو گھر کے چراغ سے ہی آگ لگ جاٸے تو ایسے قومی سانحات رونما ہوتے ہیں۔
مولانا فضل الرحٰمن اور اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ اپنی اصل میں سیاسی کزنوں کے آزادی مارچ اور بعد ازاں دھرنے سے بہت سی مماثلتوں کے باوجود مختلف بھی ہے۔ مماثلتیں یہ ہیں کہ دونوں بظاہرسیاسی نوعیت کے پاور شو ہیں۔ دونوں کے نام یکساں ہیں۔ دونوں انتخابی دھاندلی کے خلاف برپا کیے گٸے ہیں۔ دونوں دوسرے شہروں سے شروع کیے گٸے۔ دونوں کے مظاہرین جوشیلے ہیں۔ بعض حوالوں سے مختلف و منفرد بھی ہیں۔ مثلاً فضل الرحٰمن کے مارچ میں مظاہرین کی تعداد کٸی گنا زیادہ ہے۔ اس میں نو سیاسی پارٹیاں ہیں۔ یہ زیادہ منظم، مرتب اور نظم و ضبط والا ہے۔ تقاریر کا معیار بہتر ہے۔ میڈیا کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔ امپاٸر بظاہر اس بار حکومت کے ساتھ ہے۔ البتہ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ مولانا وزیر اعظم کا استعفا لے سکیں گے اور اپنے معاہدےکی پاسداری کرتے ہوۓ مختص کیے گٸے مقام سے آگے بڑھیں گے یا نہیں؟
لگتا ہے کہ اس بار بھی تمام چیزیں طے شدہ حکمت عملی کے مطابق جاری و ساری ہیں مگر ایک امر میرے لیے حیران کن ہے کہ اس مارچ کے آغاز ہی میں ٹرین میں تقریباً سو بد قسمت پاکستانی زندہ کیوں جل گٸے؟سوختہ تنوں کا آموختہ افتادگان خاک ہی کے ساتھ کیوں دہرایا جاتا ہے؟ کیا مولانا کے آزادی مارچ اور سوختہ جانوں کو زندگی کے کچھ دن اور نہیں مل سکتے تھے؟ دھرنے کا غریبوں کے مرنے سے بھی کوٸی تعلق ہے؟ آزادی مارچ تو انسانوں کی حقیقی آزادی کے لیے ہوتا ہے، انہیں زندگی کی قید سے آزادی دلانے کے لیے تو نہیں ہوتا۔ استغفراللہ استغفراللہ إ جانے انجانے میں، میں بھی کس قدر بہک گیا ہوں بلکہ گمراہ و باغی و برگشتہ ہوگیا ہوں؟مجھ جاہل اور گنوار کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قدرت کے لکھے کو بھلا کون ٹال سکتا ہے؟وزیر ریلوے کہتے ہیں کہ آج کوٸی بات نہ پوچھیں۔ ہمیشہ بس لاشیں گننے دیں اور مجھے علی وزیر کی چند روز پیشتر کی گٸی ٹویٹ یاد آ رہی ہے۔ توبہ توبہ إ پھر فکری گمراہی کی دلدل میں دھنس گیا ہوں۔ کس غدار اور ملک دشمن کے نام سے اپنے قلم اور زبان کو آلودہ کر لیا۔ اللہ مجھے معاف کرنا۔

Facebook Comments HS