پھول اور پھل کے درمیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونیورسٹی میں آج رجھا کا پہلا دن تھا۔ ایف ایس سی میں ڈاکٹر بننے کے سپنے، دن اسکول، شام اکیڈمی اور رات دیر گئے تک گھر میں پڑھائی، یوں لگتا تھا کہ انسان نہیں روبوٹ ہے، جس کے اوقات مقرر کر دیے گئے ہیں، اِدھر ادھر ہٹنانا ناممکن ہے۔ بہت قریب پہنچ کر داخلہ نہیں ہو سکا۔ میرٹ میں صرف ایک آدھ نمبر کی کمی رہ گئی۔ اب اس نے سوچا تھا کہ آسان سے مضامین لے کر یونیورسٹی کی زندگی سے لطف اندوز ہونا ہے۔ اردو ادب میں داخلہ لے لیا۔ اب پابندیاں، نہ نمبر وں کے حصول کی دوڑ۔
ستمبر کے دن تھے، کلاس روم میں ہلکی ہلکی گرمی کا احساس۔ مخلوط تعلیم کا پہلا دن۔ کلاس میں اکثریت لڑکیوں کی تھی۔ زیادہ تر سمٹی سمٹائی۔ لڑکے بھی دبکے بیٹھے تھے جیسے ڈربے میں چوزے بند ہیں۔ اپنی جگہ سے کم کم ہلتے ہوئے۔ کچھ ہی دنوں میں اعتماد بحال ہونا شروع ہو گئے۔ کھچا کھچ بھرے کلاس رومز۔ زیادہ تر ہم جماعتوں کا تعلق بڑے بڑے گھرانوں سے تھا۔ ان کا چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا، باتیں کرنا، سب میں ان کے پر اعتماد ہونے کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ نرم نرم مگر مضبوط خال و خط، چمکتے دمکتے چہروں کے مالک، ان کی ایک ایک حرکت اور رویے سے جھلکتا اعتماد اس کو اور متزلزل کر دیتا تھا۔
وہ خوبصورت تھی نہ بدصورت، سانولی رنگت، لیکن وہ لڑکی تھی اوراس ابھرتی عمر کی جس میں چال ڈھال اور ناز و انداز کسی کو بھی لبھا لیتے ہیں۔ بہت سی خوبرو لڑکیوں کی موجودگی کے باوجود اس کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ذہین تھی اورپڑھائی پر توجہ بھی پوری دیتی۔
یونیورسٹی کے اساتذہ سکول سے بہت مختلف تھے۔ جاذب نظر، وسیع ذہن اور متاثر کن شخصیت کے مالک۔ کلاس کا ماحول بھی دوستانہ اور کھلا کھلا۔ لیکن پورے شعبہ کی جان تھے، یوسف ثانی۔
سینئر کلاس کے طالب علموں نے ان کے بارے میں ایسی باتیں بتائیں کہ لگتا تھا وہ کوئی فلمی ہیرو ہے۔ جب وہ پہلی کلاس لینے آئے توپتا چلا کہ بہت کم بتایا گیا ہے۔
لمبا قد، کالے سیاہ ہلکے سے گھنگھریالے بال، سینہ چوڑا، آدھے آستینوں کی قمیض، گلے سے جھانکتے ہوئے سینے کے ہلکے ہلکے بال، بازؤوں کی مچھلیاں ابھری اور تنی ہوئی، پتلی چیتے جیسی کمر، پیٹ ریڑھ کی ہڈی کی طرف کھنچا ہوا، مردانہ ٹھوس آواز، موٹی موٹی نیم خوابیدہ سی پر فسوں آنکھیں، جن کے سامنے تمام جادو ہیچ تھے۔ یہ آنکھیں کسی بھی عورت کو تحت الثریٰ سے کھینچ کر باہر نکال لیتی تھیں۔ یوسف کے کلاس روم میں آتے ہی یوں لگا جیسے مثنوی سحرالبیاں کا شہزادہ بے نظیرشاہانہ متانت و تمکنت اور نازو اندازکے ساتھ چلتا ہوا آرہا ہے۔ اس کو دیکھ کررجھا کا دل بھی بدر منیر کا باغ بن جاتا ہے جس کے کواڑ بے آواز وا ہوتے جاتے ہیں۔ جوں جوں وہ بولتا وہ اس کی ذات میں گم ہوتی جاتی، اس کو مسلسل دیکھتے رہتی۔ اسے اور کچھ سوجھتا ہی نہ، وہ اپنے حواس کھو بیٹھتی۔ جب وہ شعر مکمل کر کے سانس لیتا تو لگتا زندگی ہی مکمل ہو گئی ہے۔
اس کی آنکھوں سے نکلتی برقی لہریں اس کے روں روں میں جڑوں تک اتر جاتیں اور رجھا کویوں محسوس ہوتا کہ ان لہروں کا ایک شکنجہ سا اس کو چاروں طرف سے جکڑ ررہا ہے۔ مسلسل بولنے سے بھی وہ تھکتا نہیں تھا، صرف پسینے کے کچھ قطرے اس کی اونچی پتلی نوکیلی ناک کے سرے پر ابھرنا شروع ہو جاتے اور وہ نم آلودہ ناک اس کے جسم میں کہیں دور تک چبھ کر اپنا کام کر جاتی۔
کچھ دنوں کے بعد رجھا نے دوسری لڑکیوں کے ساتھ اس کے دفتر میں جانا شروع کردیا۔ یوسف بات چیت میں تیز تھا۔ اردو ادب پر اس کومکمل عبور حاصل تھا اور کسی بھی موضوع پر بے تکان بولتا تھا۔ بہت سی طالبات اس کی قربت حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرتی رہتی تھیں لیکن وہ کسی سے بے تکلف نہیں ہوتا تھا۔ وہ اس سے خوف زدہ بھی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ساتھ کھل کر بات کرنا شروع کردی۔ اشعار کا معنی پوچھتے وقت بار بار اس کی طرف دیکھتی ۔ یوسف غزل کے اجمال و اختصار اور اشارے کنائے کا ذکر کرتا تو اسے لگتا کہ بیان اس کا ہی ہو رہا ہے۔ اپنے خوف پراس نے کچے اعتماد کا خول چڑھا لیا تھا۔ اب وہ ڈرتے ڈرتے اس کے کمرے میں اکیلی بھی گھس جاتی۔ پھر اس نے اسے فون بھی کرنا شروع کردئیے۔
باتوں باتوں میں وہ بے باک ہونا شروع ہو گئی۔ جب ٹیلیفون پر جوان لڑکی خود چھیڑ رہی ہو تو آدمی بھی کھل جاتا ہے۔ ان کے درمیان تکلف کی دیواریں ہٹتی گئیں، حجاب کے پردے چاک ہوتے گئے۔ یوسف کو پتا بھی نہیں چلا کہ وہ کب اور کیسے اس کی طرف راغب ہو گیا اور وہ چپکے سے اس کے دل کے آنگن میں اتر آئی۔
ایک شام اس نے یوسف کو پھولوں کی نمائش میں بلا لیا۔
رجھا نے سرخ ٹائیٹ جینز کے ساتھ گلابی رنگ کی ڈھیلی ڈھالی شارٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جو اس کے جسم کی قیامتوں کو چھپانے کی بجائے اور ظاہر کر رہی تھی۔ وہ اچھی لگ رہی تھی، اتنی جتنی ایک جوان لڑکی اچھی لگ سکتی ہے۔ جوان لڑکی بہت ظالم حقیقت ہوتی ہے، کم بخت بڑی آسانی سے پہلو میں آگ لگا دیتی ہے۔ اس کے بھرے بھرے ہونٹ یوسف کے دل میں گدگدی کررہے تھے۔ اس کے جذبات پروین شاکر کی غزلیں بن کے یوسف کے پاؤں تلے بچھتے جا رہے تھے۔ یوسف کی طرف اٹھتی ہو ئی ہر نگاہ وقف عبودیت تھی۔
رجھا کا بدن تپ رہا تھا۔ اس پر ایسی خماری چھائی ہوئی تھی کہ جیسے بہت کچھ پی کے آئی ہے۔ پھولوں کی کیاریوں کے درمیان وہ یوسف کی طرف جھک کریوں چل رہی تھی جیسے لالے کی ٹہنی بارش میں پھول کے وزن سے ڈھلک گئی ہو۔ وہ لڑ کھڑا رہی تھی۔ چلتے چلتے وہ یوسف کے ساتھ یوں چمٹ جاتی تھی جیسے اگر اسے سہارا نہ ملا تو وہ اس کی گود میں ہی گر پڑے گی۔
دسمبر کی چھٹیاں تھیں۔ سردیوں کی بارش کا بھیگا بھیگا دن، وہ اپنے گھر کے برآمدے میں کمبل اوڑھے لیٹا اخبار پڑھ رہا تھا۔ فون آیا، رجھانے بلا یا تھا۔ اس کی بیوی کو اندازہ تو تھا ہی، آج اس نے دونوں کو باتیں کرتے سن لیا۔ پوچھا، ”کون ہے؟“
یوسف نے جواب دیا، ”ایک طالبہ۔ “
وہ چونک گئی، ”تم اپنی سٹوڈنٹ سے کیسی باتیں کر رہے تھے؟“
یوسف بولا”وہ کسی شعر کا مطلب پوچھ رہی تھی۔ “
”اور یہ بھی کہہ رہی تھی کہ آ کر سمجھا جاؤ؟“بیوی نے طنزیہ سوال کیا۔
”اور وہ بھی ایسے موسم میں؟چھٹی کے دن۔ “
”دیکھو۔ آپ ایک استاد ہیں۔ معاشرہ میں آپ کاایک اہم مقام ہے۔ “
”میں کچھ نہیں کہوں گی۔ اس عمر میں سمجھایا نہیں جاتا۔ حقیقتیں خود منہ کھولے انسان کو کاٹنے کو دوڑتی ہیں۔ سچ چیخ چیخ کر کان پھاڑ رہا ہوتا ہے۔ خوشیاں اور مشکلات انسان کو زندگی کے سفر میں زاد راہ مہیا کر رہی ہوتی ہیں۔ فیصلہ انسان خود کرتاہے کہ اس نے اپنا لئے کیسا مستقبل چننا ہے۔ جنہیں حقیقت دکھائی نہیں دیتی، سچ سنائی نہیں دیتا، وہ زمانے کا سامنا نہیں کرسکتے۔ انہیں منہ چھپا کرجینا پڑتا ہے۔ اور اس طرح جینا زندگی نہیں موت ہے۔ کیا تم زندہ رہتے ہوے موت کے ساتھ گذارا کر سکتے ہو؟“
اتنا کہہ کر وہ چلی گئی۔
وہ اس کے دوسرے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ صبح سے وہ کپڑے دھو رہی تھی۔ یوسف نے اسے بارہا منع کیا تھاکہ ان دنوں میں اتنا کام مت کیا کرو۔ کہتا تھا کہ ملازمہ سے کپڑے دھلوا لیا کرو۔ لیکن وہ ہمیشہ ایک ہی جواب دیتی ، ”پہننے والے کپڑوں اور بستر کی چادر کا ایک پردہ ہوتا ہے۔ میں ملازموں کے سامنے وہ کیوں کھولوں؟“ یوسف کی قمیضیں وہ مشین میں بھی نہیں ڈالتی تھی، کہتی تھی کہ اس سے رنگ اڑ جاتا ہے۔ کہتی”میں ان کو اپنے ہاتھ سے مل مل کر دھوتی ہوں تو ان سے اٹھتی تمہاری خوشبو میری تھکاوٹ دور کر دیتی ہے۔ “
یوسف لیٹا اس کو کام کرتے دیکھتا جارہا تھا۔ کپڑے سمیٹ کروہ کمر پر ہاتھ رکھ کراٹھی تو یوں لگا کہ انار کی ٹہنی پھل لگنے سے جھک گئی ہے۔ اب اس کو پہلی باراحساس ہوا کہ ٹہنی پر پھل کا وزن پھول سے زیادہ ہوتا ہے۔
دن ڈھل گیا۔
کام مکمل کرنے کے بعد وہ پر سکون ہو کر سو گئی۔ پورے چاند کی رات تھی۔ آسمان پر چاند سسک رہا تھا۔ کھڑکی سے چھن کر آنے والی چاندنی دل شکستگی میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ خاموش بے حرکت پڑا ہوا تھا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ جب بھی وہ کھڑکی سے باہر دیکھتا تو ساری کائنات چاندنی میں نہائی ہوئی دیکھائی دیتی جیسے بیوہ نے سفید چادراوڑھ رکھی ہو۔
انگاروں کی طرح جلتے ہوئے ستارے کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی سے ہوکر گذرتے جا رہے تھے۔ وہ نیلے آسماں میں اپنی جگہ بدل رہے تھے۔ یوسف منہ پر ایک بیکراں اداسی سجائے، بے سدھ ایک ہی کروٹ پر پڑا اپنی بیوی کے ابھرے ہوے پیٹ کی طرف دیکھتا جا رہا تھا۔
اگلے دن وہ یونیورسٹی سے اپنا تبادلہ کروا کر دوسرے شہر چلا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •