محمود خان اچکزئی نے دھرنے والوں سے کیا کہا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


 پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چئیرمین محمود خان اچکزئی نے آج رات دھرنے کے شرکاء سے مختصرخطاب کرتے کہا، اگر وہ لوگ چاہتے ہیں کہ مولانا کا یہ دھرنا ختم ہو جائے، اگر وہ لوگ چاہتے کہ میاں محمد نواز شریف لندن چلے جائیں تو اس کا طریقہ بہت آسان ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور پارلیمان سے دو نمائندے تشریف لائیں، چیف جسٹس اور ان کا ایک ساتھی، آرمی چیف اور ان ایک ساتھی، عمران خان اور ان کا ایک ساتھی، یہ مان لیں کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے، ہم نے دھاندلی کی ہے اور اس دھرنے کے شرکاء اور مولانا فضل کو یقین دلائیں کہ آج کے بعد پاکستان میں آئین کی حکمرانی ہو گی، پارلیمان طاقت کا سرچشمہ ہو گی، اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی، تو میاں صاحب کو لندن جانے اور مولانا فضل الرحمن کو گھر جانے پر راضی کرنا میرا کام ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز پشتو کے ایک شعر سے کیا جس میں دھرنے کے شرکاء کو خوش آمدید کہا گیا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ طاقت سے اب کسی کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہم یہاں اس حکومت کے خاتمے کے لئے آئے ہیں۔ انہوں نے پہلے سے نامزد کردہ لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ حلف اٹھا کر کہیں کہ دھاندلی نہیں کی گئی۔ پرویز خٹک ہمارے دوست ہیں، آج انہوں نے کہا تھا کہ “ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور ہر آئینی اور قانونی مطالبہ ماننے کو تیار ہیں”۔ محمود خان کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمن اور میاں محمد نواز شریف کے ساتھ جھگڑا کرنے کو تیار ہوں گے اگر انہوں نے کوئی غیر آئینی مطالبہ کیا۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں آئین کی بالادستی ہو گی، غیر جانبدار انتخابات ہوں گے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔ عوام جسے چاہیں منتخب کریں بھلے میں اور مولانا دونوں ہار جائیں۔

اس موقع پر انہوں نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا، کہ کوہاٹ میں ایک نیم پاگل شخص کے ہاتھ میں ایک لکڑی کی تلوار ہوا کرتی تھی، جب وہ خوش ہوتا تو تلوار ہلا کر کہتا پاکستان زندہ باد اور جب کبھی ناراض ہوتا تو کہتا پاکستان ڈھینج گڑنجا۔ انہوں نے ایک مخصوص سمت میں اشارہ کرتے ہوئے محمود خان نےکہا، ارے بھائی پاکستان کا ڈھینج گڑنجا مت کریں، آئیں! اسے ایک ملک بنائیں۔ پارلیمان کو طاقت کا سرچشمہ بناتے ہیں۔ یہ پارلیمان خارجہ اور داخلہ پالیسیاں طے کرے۔

انہوں نے کہا، ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان منتخب ہو کر وزیراعظم بنیں۔ یہاں دھاندلی ہوئی ہے، یہ منتخب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں، “قانون حرکت میں آجائے گا”۔ اس کا جواب دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا، جس دن قانون حرکت میں آئے گا، ہمیں یہاں کھڑے ہونے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ قانون خود ہی دھاندلی کرنے والوں کو نیچے پھینک دے گا۔ انہوں نے کہا جو آدمی اپنی قیمت لگواتا ہے وہ یہاں وزیر بنا دیا جاتا ہے اور جو اپنے آپ کو نہیں بیچتا اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ایسا اب نہیں چلے گا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا، ستر سال میں یہاں جو کچھ ہوا ہے ہم معاف کرنے کے لئے تیار ہیں، آئیں خدا کو حاضر ناظر جان کر ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہم نے اس ملک پاکستان کو یہاں کے عوام کے رائے دہی کی بنیاد پر آئین و قانون کے مطابق چلانا ہے، اس دھرنے کے یہی مطالبات ہیں، میاں محمد نوازشریف کے یہی مطالبات ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ مسلم لیگ بہت اچھی جماعت ہے لیکن ہم اس مسلم لیگ کو مانتے ہیں جس کی رہبری میاں محمد نواز شریف اور مریم بی بی کرتی ہیں۔ اس مسلم لیگ کے ساتھ ہم تھے، اس کے ساتھ ہم رہیں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام ” ووٹ کو عزت دو” سے کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •