چنری کے نیچے کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دپٹا کہہ لیں، اوڑھنی یا چنری، اس سے مراد ڈھائی گز کا وہ کپڑا ہے جسے اوڑھنے کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ لڑکی پرہیز گار، نیک اورصالحہ ہے جبکہ جینز شرٹ پہننے والی یا  بنادپٹے والی لڑکی کو دیکھ کر اسے بے شرم، بے حیا جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔  ہمارے ہاں لڑکیوں پر معاشرتی دباؤ اس قدر ہے کہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں انہیں دوپٹے کو گلے کا پھندہ بنا کر رکھنا ہی پڑتا ہے۔

اس چنری کی پابندی بعض گھرانوں میں اتنی سخت ہوتی ہے کہ گھر کے اندر بھی وہ اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتیں۔ مشترکہ خاندان میں کچن میں کام کرتے ہوئے خواہ یہ چنری کام میں رکاوٹ ڈالے لیکن اسے اتار کر سائیڈ پررکھنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ آئے دن موٹر سائیکل کے پہیوں میں چنری کے پھنس جانے کےبعد لڑکیوں کے گرنے کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

 بناچنری کے باہر نکلنے والی لڑکی پر پہلا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ وہ مردوں کو دعوت عام دے رہی ہے کہ وہ اسے گھوریں۔ دوسری طرف مرد لباس کے معاملے میں اپنی مرضی کامالک ہے۔ اکثر مرد گھرکے اندر بنیان اور شلوار پہنے رہتے ہیں اور کئی بنیان پہننےکا تکلف بھی نہیں کرتے۔ گلی محلوں میں جہاں گھر سے باہر بیٹھنے کا رواج ہوتا ہےوہاں باہر بھی یہی انداز اپنایا جاتا ہے۔

دپٹے کی حمایت میں پہلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ مردوں کی ہوس ناک نظروں سے بچاتا ہے۔ جو فاضل دوست اس دلیل کو درست سمجھتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جو نظریں پورے بدن کا ایکس رے کر سکتی ہوں ان کے لیےباریک سی چنری کیا حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے باوجود نہ جانے کیوں ایسے مرد بار بار یہجاننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اس باریک کپڑے کے نیچے قدرت کے کون سے راز پوشیدہ ہیں۔

گذشتہ دنوں مال روڈ پر چند بیبیوں کو بغیر دپٹےکے دیکھ کر میرے ساتھ ساتھ چلنے والے ایک شخص کے منہ سے استغفار کے الفاظ سن کرمیں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بڑی ناگواری سے کہا: ” دیکھ رہے ہیں آپ، یہ لڑکیاں ایسے کپڑے پہن کر باہر نکلیں گی تو ہمارا ایمان تو خراب ہو گا۔”

“حضرت! آپ کا ایمان اتنا ہی کمزور ہے کہ کسی لڑکی کو چنری کے بغیر دیکھ کر جاتا رہے۔” غالباً انہیں یہ جواب پسند نہیں آیا تھا لہٰذا تیز تیز قدم اٹھاتے آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہ رویہ اپنی خباثتوں کوجواز مہیا کرنے کی کوشش کے سوا کچھ ظاہر نہیں کرتا۔ اگر کسی شخص میں سیلف کنٹرول یا اخلاقیات کا کوئی پہلو نہیں تو وہ انسان کہلانے کا بھی حق دار نہیں۔ پھر اسےکوئی حیوان، جانور یا درندہ کہنا ہی مناسب ہے۔

کہیں پر جنسی ہراسانی کا واقعہ ہو تو فوراً یہی بات کہی جاتی ہے کہ لڑکیاں پردے میں رہیں تو ایسے واقعات کم ہوں۔ ریپ کا واقعہ ہوتوبھی تان اسی پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ حالاں کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیا جائے تو جنسی ہراسانی اور ریپ کے واقعات میں نشانہ بننے والی لڑکیوں کے لیے ان کا محض لڑکی ہونا ہی کافی تھا۔ ان میں ہر عمر، رنگ، نسل کی لڑکیاں شامل ہیں۔ باپردہ اور برقع پہننےوالی بھی اور عبایہ لینے والی بھی۔ حتیٰ کہ ہوس کے درندوں نے مر جانے والی کو بھی نہیں چھوڑا۔ قبر سے نکال کر زیادتی کرنے کا واقعہ بھی یہیں رونما ہوا تھا۔

در حقیقت اصل خرابی کہیں اور ہے۔ غلط دوا خواہ کتنی ہی باقاعدگی سے کھائی جائے وہ مرض کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ مرض کی درست تشخیص کے بعد صحیح دوا سے بیماری کا علاج ممکن ہے۔ لڑکیاں خواہ کچھ بھی کر لیں اور کچھ بھی پہن لیں جب تک پراگندہ ذہنوں کا علاج نہیں ہو گا تب تک ہراسانی اور ریپ کےواقعات کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک لڑکی اگر جینز شرٹ میں یا بغیر چنری کے باہرنکلتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بد کردار ہے اور کسی کو اسے گھورنے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ حدود و قیود کے مطابق اپنی مرضی کا لباس پہنے۔

یہاں یہ وضاحت کر دینا بھی ضروری ہے کہ کسی دوسرے فرد کے لیے حدود و قیود کا تعین کرنا فرد واحد کا کام نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہرشخص اپنی مرضی کی حد لگا کر اسے نہ صرف درست سمجھتا ہے بلکہ اسے نافذ کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ کسی کے نزدیک لڑکی برقعے میں اس طرح پوشیدہ ہونی چاہیے کہ پتا نہ چلے کہ برقعے میں کیا ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اصل پردہ عبایہ ہے۔ کوئی شلوار، قمیص اور چنری والی لڑکی کو درست سمجھتا ہے مگر جینز شرٹ کو بے حیائی سےتعبیر کرتا ہے۔

چنانچہ اگر نظر کی اصلاح کر لی جائے تو تمام الجھنیں ایک آن میں ختم ہو سکتی ہیں وگرنہ ہوسناک نظریں یہی ڈھونڈتی رہیں گی کہ چنری کے نیچے کیا ہے۔

آخر میں افسانہ نگار سیمیں درانی کی لکھی ہوئی چند سطریں پیش خدمت ہیں۔

جنس نایاب

میں جنسِ ارزاں نہیں

میں جنسِ نایاب ہوں

خواہ کوٹھے پر بیٹھوں

یا مزار کے منبر پہ

یہ تمہاری نظر ہے

ہیچ، بازاری اور ننگی

شر بھری نظر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •