جناب من، یہ وہی مقدس ادارہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں تو خیر کبھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ذرا برابر بھی تامل نہیں ہوا کہ مولانا اول و آخر ایک جہاندیدہ اور فہمیدہ سیاستدان ہیں۔ جنہیں اس امر میں شک تھا وہ بھی آج مان رہے ہیں کہ مولانا ایک باکمال اور بے مثال سیاستدان ہیں۔ انہوں نے نہ صرف عوام کے مخصوص ٹولے میں اپنے بارے میں راسخ تاثر کو غلط ثابت کیا بلکہ ایک تیر سے کئی شکار کر ڈالے۔

ان کا پہلا کمال یہ ہے کہ آزادی مارچ میں ن لیگ اور پی پی جیسی بڑی پارٹیوں سمیت ملک کی نو دیگر جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور مرکزی قاٸدین سے معرکتہ الارا خطابات کروا ڈالے۔

دوسرا کمال یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعظم کو اس قدر برافروختہ و مضطرب کر دیا کہ انہوں نے حسب سابق تقریر کے دوران اخلاق و شاٸستگی کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔

تیسرا کمال یہ کیا کہ اپنی شاٸستہ تقریر سے وزیراعظم کو اس قدر خوفزدہ کر دیا کہ انہوں نے خود مولانا کا خطاب سن کر جناب پرویز خٹک کو راہبر کمیٹی سے مذاکرات کرنے کا حکم دے دیا۔

عوامی تاثر تو یہ تھا کہ اول تو مولانا آزادی مارچ کا پنگا نہیں لیں گے اور مک مکا کر کے اعلان واپس لے لیں گے اور اگر نادانی میں مارچ شروع بھی کردیا تو قابل ذکر بندے نہیں لا سکیں گے۔ مگر مولانا نے جب پی پی اور ن لیگ کی جزوی چشم پوشی یا سیاسی حکمت عملی کے باوجود سکھر سے اسلام آباد تک لاکھوں کی تعداد پر مشتمل پر جوش و پر عزم  مظاہرین پر مشتمل منظم جلوس لا کر دکھا دیا تو مولانا کے سیاسی حریفوں کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کے پشتی بان بھی تلملا اٹھے۔

مولانا کی طرز سیاست کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ ادارے جو اس سے پہلے نہ صاف چھپنے اور نہ سامنے آنے کا کردار ادا کیا کرتے تھے وہ بھی اب جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تُو ہے کہ مصداق بالکل نمایاں بلکہ کھل کر سامنے آ گئے۔

مولانا کا تیر بالک ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور ان کی تقریر کے جواب میں حسب توقع ڈی جی آٸی ایس پی آر کا استفہامیہ آ گیا کہ مولانا کس ادارے کی بات کر رہے ہیں؟

مولانا کی سیاسی اداؤں کی ستاٸش نہ کر کے سیاسی کم نگاہی اور بے ذوقی کا ثبوت کیسے دوں کہ جنہوں نے گولہ کہیں داغا، دھواں کہیں سے اٹھ رہا ہے۔

ویسے تو ڈی جی صاحب سیاسی و عسکری حرکیات پر نظر رکھتے ہیں۔ اس لیے انہیں بخوبی اندازہ ہو گا کہ مولانا صاحب نے ہمارے کس مقدس ادارے کی طرف اشارہ کیا ہے مگر اس کے باوجود ہم اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ ان کی خدمت میں وضاحت پیش کریں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

ڈی جی صاحب مولانا نے ہمارے ملک کے اسی عظیم ادارے کی طرف اشارہ کیا ہے جس کے ایک ذیلی ادارے کے سربراہ کے طور پر آپ نے گذشتہ سال فرمایا تھا کہ 2018 ملک میں تبدیلی کا سال ہو گا۔

یہ وہی ادارہ ہے جس کے بارے میں فیض آباد دھرنا کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسی آئینی حدود سے تجاوز کا فیصلہ دے چکے ہیں۔

اس ادارے کی گراں قدر قومی، ملی اور ملکی و سیاسی خدمات کے باوجود ہمارے کچھ عاقبت نااندیش اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھا کر اسے سر عام سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •