کیا قافلہ جاتا ہے…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں صحافت پر ان دنوں عجب پیمبری وقت آن پڑا ہے۔ ابھی تھوڑے دن پہلے ہیرلڈ جیسے شان دار جریدے کے بند ہونے پر افسوس کیا جارہا تھا کہ اتنے میں نیوز لائن کی سناؤنی آگئی۔ صحافت کے شعبے سے اب اس طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ پرانا شعر یاد آگیا، وہ بھی ٹکڑے ہوکر:

کیا قافلہ جاتا ہے جو تو بھی چلا چاہے

نیوز لائن بہت عمدہ رسالہ ہے مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ محض ایک رسالے کی بات نہیں۔ آزاد و خودمختار تجزیے پر مبنی صحافت کا پورا ایک انداز نشانے پر آگیا ہے اور اسے ختم کیا جارہا ہے۔ ساحل پر کھڑے ہوکر تماشا دیکھنے والے بہت سے ہیں مگر ڈوبتی کشتی کو سنبھالنے کے لیے پانی میں پائوں رکھنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔

ایک عرصے سے لوگوں کو اندازہ تھا کہ نیوز لائن مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے رسالے کی انتظامیہ نے تبدیلیاں لانے کی کوشش کرکے بھی دیکھ لیا مگر خسارہ بڑھتا ہی رہا۔ یہاں تک کہ بند ہونے کی نوبت آگئی۔ لفافے والی صحافت کے اس دور میں جب چند ایک صحافیوں کو ملنے والے معاوضے معلوم ہونے پر آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بھاری رقم اور تحفے تحائف کا سلسلہ ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے، اس دور میں حیرت ہوتی ہے کہ کوئی رسالہ مالی مشکلات کا اس حد تک شکار ہوکر رہ جائے۔ جائداد بنانے والے ٹائیکون کا ایک اشارہ ان کے سارے مسائل حل کر سکتا تھا۔ مگر نیوز لائن نے اپنی فکر کی آزادی کو برقرار رکھا اور اب اسی کی قیمت چکا رہے ہیں۔ آزاد بندوں کی یہ دُنیا نہ وہ دنیا۔ پاکستان کی صحافت کی تاریخ میں ایک معتبر حوالہ بن کر یہ رسالہ اپنا سفر ختم کر لے گا۔ لیکن میں سوچتا ہوں، اس کی جگہ لینے کے لیے کون آگے بڑھے گا؟

نیوز لائن کی بندش پر افسوس کیا جارہا ہے تو مجھے وہ زمانہ یاد آرہا ہے جب نیوز لائن پہلی بار نکلا تھا اور کس آن بان سے نکلا تھا۔ پاکستان کی بڑی دلیر اور باہمّت صحافی خاتون رضیہ بھٹی ہیرلڈ سے وابستہ تھیں مگر سیاسی معاملات پر ان کا ہیرلڈ کی انتظامیہ سے اختلاف ہوگیا۔ بے نظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوکر آئی تھیں اور رضیہ بھٹی کا موقف ان کی حمایت کا تھا۔ ہیرلڈ کی انتظامیہ مخالفانہ روّیہ رکھتی تھی اور اسی کی ترویج چاہتی تھی۔ رضیہ بھٹی نے استعفیٰ دے دیا اور ان کے ساتھ ہیرلڈ کی ٹیم بھی چھوڑ چھاڑ کر چلی آئی۔ رضیہ بھٹّی نے پھر نیوز لائن نکالا اور پہلے ہی شمارے میں نئی وزیراعظم کا انٹرویو شائع کیا۔ رضیہ بھٹّی کے ساتھ کام کرنے والوں میں ریحانہ حکیم اور کئی نام ایسے تھے جنہوں نے ہیرلڈ کا معیار برقرار رکھا تھا۔ انہوں نے نیوز لائن کے لیے وہی معیار قائم کرکے دکھایا۔

نیوز لائن کا وہ پہلا شمارہ مجھے آج تک یاد ہے۔ رسالے کے شروع میں رضیہ بھٹی کا اداریہ تھا۔ مختصر اور جامع۔ وہ ایک صفحہ پورا بھی نہ بھرتی تھیں۔ خالی جگہوں کے درمیان گنے چُنے الفاظ پوری بات کہہ دیتے تھے۔ پہلے شمارے کے اداریے پر جولائی ۱۹۸۹ء کی تاریخ درج ہے۔ ’’نیوز لائن کیوں؟‘‘ کے عنوان سے انہوں نے لکھا کہ آزادی کے بیالیس برس تک سفر کرتے ہوئے اس قوم نے اپنی پیدائش کے وقت قائم ہونے والی امیدوں سے مال تجارت کی طرح کا سلوک کیا ہے۔ پاکستانیوں کی پوری ایک نسل کے لیے خوف، تشدّد، مطلق العنان آمریت معمول بن گئے ہیں کیوں کہ وہ ان کا کوئی متبادل نہیں جانتے۔

’’پاکستان کی صحافت بھی قوم کی اس حالت میں برابر کی شریک مُجرم ہے۔ جب اسے بولنا چاہیئے تھا تب وہ خاموش رہی، جب اسے استقامت اور دُرست روّیہ اختیار کرنا چاہیئے تھا اس وقت دھوکے بازی دکھائی اور جسے ہمّت سے کام لے کر راہ راست پر چلنا چاہیئے تھا اس نے سپر ڈال دی۔

اس کے باوجود، اس قوم کی طرح صحافت میں اتنا دم باقی ہے کہ دوبارہ اٹھ کھڑی ہو …. ہم حقیقت کو دیکھ رہے ہیں، اس کے باوجود امید کا دامن چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔‘‘

یہ پہلا اداریہ ہی نہیں ایک منشور عمل بھی تھا۔ رضیہ بھٹّی نے اس جذبے کی وضاحت کر دی جس کے تحت یہ رسالہ نکالا گیا تھا اور بے باک حق گوئی سے اپنی مکمل وابستگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ ان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم کا منشور تھا اور اسی مقصد کے لیے قارئین سے تعاون کی درخواست بھی کی۔ بلند حوصلے اور عزم کے ساتھ یہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز تھا۔ یہ جدوجہد ختم نہیں ہوسکتی، اسے جاری رہنا چاہیئے۔ اداریے کے شروع میں درج تاریخ مٹا کر اگر کوئی آج کی تاریخ لکھ دے تو یہ پوری تحریر اس قدر معنی خیز اور مناسب معلوم ہوگی۔ اس دور کو نیوز لائن کے اس جذبے کی ضرورت ہے۔

razia bhatti

اس اداریے میں رضیہ بھٹی نے کارکن صحافی (’’ورکنگ جرنلسٹ‘‘) کا ذکر چھیڑا تھا۔ اس کے مخصوص اسلوب کے مطابق اس بات میں بہت گہرائی تھی، محض اتفاق نہ تھا۔ نیوز لائن کے لیے یہ اہتمام کیا گیا کہ اس میں کام کرنے والے صحافی ہی اس کے مالک ہوں گے۔ اس پر کسی سیٹھ کی اجارہ داری نہیں ہوگی۔ اس طرح صحافی پوری بے باکی سے اپنا کام کر سکیں گے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مالی مشکلات کا سبب بھی یہی آزادانہ و خود مختار پالیسی بنی۔ اگر اس رسالے کو بھی کوئی ’’گاڈ فادر‘‘ میسّر آجاتا تو سب کے وارے نیارے ہو جاتے۔ مالی مسائل کی وجہ سے کئی منصوبے ادھورے رہ گئے۔ مجھے یاد ہے کہ نیوز لائن کی ایک اردو اشاعت کا بھی ارادہ تھا۔ بہت دن تک تیاری چلتی رہی۔ پھر سارے منصوبے ٹھپ ہوگئے۔

جب رضیہ بھٹّی، ریحانہ حکیم اور ان کی پوری ٹیم نے ہیرلڈ چھوڑ کر نیوز لائن کی داغ بیل ڈالی تو ان کے پیچھے پیچھے میں نے بھی ادھر کا رخ کیا۔ یعنی جب ہم بھی چلے ساتھ چلا ریچھ کا بچّہ! ادبی معاملات پر مضامین، تبصرے اور انٹرویو کاسلسلہ شروع کیا تھا وہی سلسلہ اب ہیرلڈ کے بجائے نیوز لائن کی طرف موڑ دیا۔ ان لوگوں سے جو تعلق خاطر قائم تھا، اس کا تقاضہ یہی تھا۔ پھر میں ان کے لیے مسلسل لکھتا رہا۔

کلفٹن کے علاقے میں ایک فلیٹ میں نیا دفتر قائم کیا گیا۔ پھر وہ فلیٹ بھی بدلا۔ آنے جانے والوں کا سلسلہ یہاں بھی اسی طرح چلتا رہا۔ اس دفتر میں اتنی باقاعدگی اور اس قدر آزادی سے جاتا تھا جیسے میں بھی اس گھر کا ایک فرد ہوں۔ ایک کونے میں ریحانہ حکیم کا ڈیسک تھا اور وہ اسی طرح باوقار سادگی کے ساتھ بیٹھی رہتی تھیں۔ یہاں میری ملاقات خدا بخش ابڑو سے ہوتی تھی جو تصویروں کے درمیان بیٹھے رہتے تھے، خود کم بولتے تھے مگر ان کی تصویریں، خوب بولتی تھیں۔ اسی طرح حسن مجتبیٰ سے بھی سلام دعا ہوئی۔ یہیں میری ملاقات نعمان نقوی سے ہوئی جن کے اندر ایک اضطراب سا بھرا ہوا تھا لیکن شاید انہیں خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ طوفان ان کو کس رُخ پر لے جائے گا۔ اس ٹیم کے تازہ واردان میں نفیسہ شاہ اور محمد حنیف شامل ہوئے جن پر رضیہ بھٹّی کو بہت فخر تھا۔ دونوں نے آگے چل کر اپنے میدان میں نام کمایا۔ خود رضیہ بھٹی کو بہت سی ادارتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک سیاسی جماعت نے باقاعدہ نام لے کر اس کو دھمکایا مگر رسالے نے ان پر تنقید اور اس کے آمرانہ انداز کو عوام کے سامنے بے نقاب کرتے رہنے کا کام نہیں چھوڑا۔

نیوز لائن کا زیادہ تر حصّہ تجزیاتی مضامین پر مشتمل ہوتا، ہیرلڈ کی طرح۔ ان مضامین کی بنیاد خبر پر ہوتی یا کسی ایسی بات پر جو خبر نہ بن سکی۔ بیان بازی یا جذبات کی مار سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ پھر اس میں ایسے موضوعات کو چنا گیا جو ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی، سیاسی دخل کی وجہ سے اداروں کی تباہی، تعلیم کی زبوں حالی، مختلف علاقوں میں جرائم کی وارداتیں اور ان کے پیچھے عوامل، شہری مسائل، حالات حاضرہ میں بین الاقوامی صورت حال کا ملکی معاملات پر اثر، جنسی میلانات اور نوجوانوں پر ان کے اثرات، ٹریفک کا دبائو اور معاشرتی معاملات میں بگڑتی ہوئی کارکردگی، خواتین کے مسائل، صحت عامہ دور دراز کے دیہات اور اُن کی مشکلات اس رسالے کے کتنے ہی مضامین کو انعامات سے نوازا گیا (اور دشنام سے بھی!) کئی مضامین آج بھی حوالے کی سی اہمیت رکھتے ہیں۔

Rehana Hakim

دیکھتے ہی دیکھتے نیوز لائن مستحکم ہوگیا۔ مگر رضیہ بھٹّی کی صحت خراب ہونے لگی۔ یہاں تک کہ وہ تمام تر ڈیڈ لائنز کی فکر سے بے نیاز ہوکر یہ دنیا چھوڑ گئیں۔ ایک دھڑکا سا ہوا کہ رضیہ بھٹّی کے بغیر یہ رسالہ کیسے چلے گا، بند ہو جائے گا۔ تب ریحانہ حکیم نے اس کو سنبھالا۔ ریحانہ حکیم اپنے مزاج کے اعتبار سے کم آمیز ہیں اور شہرت سے دور رہتی ہیں۔ رسالے میں پہلے بھی وہ بڑا اہم کردار ادا کرتی تھی، اب انہوں نے تمام تر ذمہ داری اٹھا لی اور آج تک اسے نبھاتی چلی آ رہی ہیں۔ پہلے ہیرلڈ اور پھر نیوز لائن کے لیے جو کچھ میں لکھتا تھا، میرا واسطہ سب سے پہلے ریحانہ حکیم سے پڑتا تھا۔ ان کے ساتھ بات چیت مجھے بہت پسند تھی۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ بظاہر خاموش اور پُرسکون نظر آنے والی اس باوقار شخصیت میں کس قدر گہرائی اور کس درجے فہم و فراست موجود ہے۔ انہوں نے اپنا پبلک پروفائل جان بوجھ کر محدود رکھا اس لیے ان کا نام زیادہ نہیں لیا جاتا مگر میرے لیے آج بھی وہ پاکستانی صحافت کی بے حد محترم شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کا احترام اور ان کی خفگی کا خوف میرے دل میں آج بھی اس طرح قائم ہے۔

زندگی کے راستے پھر مجھے کسی اور طرف لے گئے۔ نیوز لائن کے لیے لکھنے کا معمول باقی نہیں رہا حالاں کہ خواہش آج بھی ہے۔ لوگوں سے سُنا کہ مالی معاملات ایک ٹیلی وژن نیٹ ورک نے سنبھال لیے ہیں اور دفتر وہاں منتقل ہو گیا ہے۔ کئی بار ارادہ کیا لیکن وہاں جانے کا موقع نہیں ملا۔ چندریگر روڈ کا یہ حصّہ اب میرے لیے کوئے ملامت بن کر رہ جائے گا۔ مگر شہر والوں کو کون سمجھائے کہ یہ میرا ذاتی نقصان سہی، یہ اجتماعی نقصان ہے کہ ایک روشن باب دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ شعر رسالوں کے لیے تو نہیں کہا گیا تھا کہ موت سے کس کو رستگاری ہے۔ لیکن سوال یہی ہے، اب کس کی باری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •