نواز شریف کی حالت پھر بگڑ گئی
سابق وزیر اعظم اور قائد ن لیگ محمد نواز شریف کی حالت پھر بگڑ گئی۔ ان کے پلیٹ لیٹس دوبارہ 55 ہزار سے کم ہو کر 38 ہزار رہ گئے ہیں۔ فاسٹنگ شوگر میں بھی 230 تک اضافہ ہو گیا ہے، میڈیکل بورڈ نے ادویات میں معمولی تبدیلی کی ہے۔
نوازشریف کا کریٹینن 1.4 سے 2 کے درمیان کم زیادہ ہو رہا ہے جو نوازشریف کے گردوں کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کے طبی معائنہ کے بعد نواز شریف کے خون کے نمونے پتھالوجی لیبارٹری تجزیے کے لیے بھجوا دیے۔ پلیٹ لیٹس برقرار رکھنے کے لیے دیے جانے والے انجکشن بند کر کے گولی شروع کرنے کا فیصلہ ہوا ہے جبکہ شوگر لیول کنٹرول میں آنے کے بعد پی ای ٹی سکین بھی کیا جائے گا۔ میڈیکل بورڈ کے ذرائع کے مطابق نواز شریف کے پلیٹ لٹس میں کمی پر میڈیکل بورڈ کے ارکان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میڈیکل بورڈکے ذرائع کے مطابق بلڈ ٹیسٹ کے لیے دوبارہ سیمپل بھیجے ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق نواز شریف نے پہلی بار ڈاکٹرز کی نگرانی کے بغیر واک بھی کی، نواز شریف کو دل کی دوسری ادویات سمیت خون میں کلاٹ ختم کرنے والی دوا کلوپیڈو گرل بھی شروع کروا دی گئی ہے۔ سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر محمود ایاز نے کہا ہے کہ نواز شریف کی طبیعت دن بدن بہتر ہو رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم کے دل، گردے، بلڈ پریشر اور شوگر کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔
دوسری طرف ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سابق وزیر اعظم کی صحت پر تشویش کا اظہار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی صحت ناساز ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے اسٹیرائیڈز کم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن خون میں پلیٹ لٹس میں دوبارہ کمی ہوگئی۔ گزشتہ روز پلیٹ لٹس کی تعداد 38 ہزار تک پہنچ گئی تھی اس لیے بغیر کسی تاخیر کے سابق وزیراعظم کی بیماری کی تشخیص ضروری ہے۔


