ہم نے جان ہتھیلی پر رکھ لی ہے: مولانا فضل الرحمٰن کا ڈی چوک، وزیراعظم ہاؤس نہ جانے کا اعلان
مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے ایک موقع پر آب دیدہ ہوگئے اور کہا کہ ہم نے جان ہتھیلی پر رکھ لی ہے، کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کریں گے۔
اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے ڈی چوک اور وزیراعظم ہاوس نہ جانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ماضی میں ڈی چوک خرافات کی جگہ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مجمع کے لیے ڈی چوک بہت تنگ جگہ ہے، یہ کھلی جگہ ہے، عمران خان سن لو، یہ تحریک پیچھے نہیں ہٹے گی، ہم آگے کی جانب پیش قدمی کریں گے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ الیکشن کمیشن جاکر شکایت کریں، الیکشن کمیشن تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بے بس نہ ہوتا تو عوام کی اتنی بڑی تعداد یہاں نہ ہوتی، فیصلہ کیا ہے کہ کسی ٹریبونل، الیکشن کمیشن یا عدالت میں نہیں جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ طے ہوا تھا کہ الیکشن 2018 ء کی دھاندلی کی تحقیقات پارلیمانی کمیٹی کرے گی، اس پارلیمانی کمیٹی کا ایک سال سے کوئی اجلاس نہیں ہوا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اسلام آباد کی پوری تاریخ کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہے، مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں، قوم کی امانت کا ہے، آج عوام یہاں خود جمع ہو کر اپنی امانت واپس لینے کی جنگ کررہے ہیں۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ الیکشن 2019 ء کے نتائج کے مطابق دھاندلی کے باوجود حزب اختلاف کے ووٹ حکومتی بینچ کے ووٹوں سے زیادہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عام تاثر ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کے جذبات مدھم پڑجاتے ہیں جبکہ آزادی مارچ کے شرکاء کا جوش و خروش بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ آزادی مارچ کے شرکاء نظم و ضبط کی پابندی کے ساتھ قائدین کے خطابات سن رہے ہیں مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ مجھے اشتعال دینے والے میرے خیر خواہ نہیں ہیں، جے یو آئی واحد جماعت ہے، جس نے مذہبی نوجوان کو اعتدال کی راہ دی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا، اس کے سوا تمہارے پاس کوئی اور چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا، یہ اپنا حساب دینے کے لیے کسی ادارے کے سامنے پیش ہونے کو تیار نہیں، 5 سال ہوگئے ہیں الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں کرسکا۔


