سیرل المیڈا نے غلط کیا لکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"irshad

سینئر صحافی سیرل المیڈا نے ڈان اخبار میں ایک خبر کیا شائع کی کہ ایوان اقتدارپر لرزا طاری ہوگیا۔ سیرل کےبیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرکے حکومت نے اپنی جگ ہنسائی کا خود ہی خوب ساماں کیا۔ تردید پر تردید جاری ہورہی ہے لیکن تیر کمان سے نکل جائے توکف افسوس ملنے کے سوا کوئی ترکیب کارگرنہیں ہوتی۔

سیرل المیڈا کی خبر نے یہ موقع ضرور پیدا کیا ہے کہ ریاستی ادارے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ دیانت داری سے ملک کو درپیش مسائل کا تجزیہ کریں۔ ان محرکات یا اسٹرٹیجک اثاثوں کے فوائد اور نقصانات کا ازسر نو جائزہ لیں جن کے سبب دنیا پاکستان سے بے زار اور الگ تھلگ ہوچکی ہے بلکہ اسے بعض اوقات دنیا کے لیے دردسر قرار دیا جاتا ہے۔

سرکاری بیانات پر یقین کرلیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ اعلی سطحی اجلاس میں حکومت اور عسکری قیادت کے مابین طالبان، جماعت الدعوة، جیش محمد اوردیگر امور پر کوئی بحث نہ ہوئی ہو لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاکستان کو بطور ریاست ان مسائل کا سامنا ہی نہیں۔

چند دن قبل حکومت کی طرف سے بیرون ملک بھیجے گئے خصوصی نمائندوں کو واشنگٹن، لندن، برسلزاور دنیا کے تمام اہم دارلحکومتوں میں ایک ہی سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ پاکستان کی سرزمین کیوں دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہورہی ہے اور مذکورہ بالا گروہ کس کی ایما پرڈنکے کی چوٹ کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں؟اس اعتراض پربغلیں جھانکنے کے سوا خصوصی نمائندے اورکر بھی کیا سکتے تھے؟

پاکستان کو جس علاقائی اورعالمی تنہائی کاسامنا کرنا پڑھ رہاہے اس کی ایک بڑی وجہ خارجہ پالیسی پر منتخب حکومت کا عدم کنٹرول ہے۔ عوامی مینڈیٹ کے باوجود وزیراعظم نوازشریف کے لیے حالات ایسے بنا دیئے گئے کہ وہ بتدریج خارجہ امور میں مداخلت سے تائب ہوتے گئے۔ عالم یہ ہے کہ افغانستان، ایران،امریکہ، بنگلہ دیش سب پاکستان سے شاکی ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات روزاول سے ہی کشیدہ ہیں لہذا اس سے خیر کی توقع بعید ہے لیکن یہ باقی دنیا کو کیا ہوا؟ ہر ایک اکھڑا ہوا ہے۔ چین جو پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ بار بار مشورہ دے رہا ہے کہ اپنا گھرٹھیک کروگے تو باہر کی دنیا بھی خاطر میں لائے گی۔ داخلی استحکام نہ ہو تو بیرونی دنیا کے لیے داخلی معاملات میں مداخلت کرنا سہل ہوجاتا ہے۔

سیرل کی خبر میں جن مسائل کا ذکر کیا گیا وہ امور قومی مباحث میں مسلسل زیر بحث آتے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ہو یا نون لیگ کی، سب کا ایک ہی موقف ہے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کو فراہم کردہ سہولتوں اور سرپرستی سے سبکدوش ہونے کا وقت آچکا ہے۔ پاکستان اب یہ بوجھ مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔

کل تک نون لیگ نہ صرف نان اسٹیٹ ایکٹرزکے ناز ںخرے برداشت کرتی تھی بلکہ اس کے کچھ لیڈر ان تنظیموں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلتے اور مخالفین پر اپنی دھاک جماتے تھے لیکن اب نون لیگ کی حکومت کو ادراک ہوچکا ہے کہ ریاستی عملداری اورملک کی معاشی ترقی کے لیے ان عناصر کو لگام دیئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ملکی ترقی مانگے تانگے کے قرضوں اور امداد سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے کثیر غیر ملکی سرمایہ کاری اور مہارت درکارہے۔ یہ سرمایہ کاری اس وقت تک میسر نہیں آسکتی جب تک کہ امریکہ اورمغربی دنیا کے ساتھ تعلقات سازگار نہ ہوں۔ دنیا کے مالیاتی اداروں میں سے اکثر ان کے اشارہ ابرو کے منتظر ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کے پاؤں۔

خلیجی ممالک سے ہماری دوستی کے قصے عام ہیں لیکن وہ بھی عالمی حالات اورماحول کونظراندازکرکےپاکستان کی مدد کو نہیں آسکتے۔ وزیراعظم نوازشریف اوروزیراعلی شہبازشریف دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں اسی نوع کے سوالات ان کا تعاقب کرتے ہیں۔ اگر انہیں اگلےعام الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا ہے تو ملک کے بڑے بڑے مسائل بالخصوص بجلی کی کمیابی، روزگار کے ذرائع میں اضافہ اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بے پناہ مالی وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ یہ وسائل غیر ملکی سرمایہ کاری سے ہی حاصل ہوسکتے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کی کنجی سیاسی استحکام اور سرحدوں پر امن کے ہاتھ میں ہے۔

سوال یہ ہے کہ ان گروہوں کا کیا کیا جائے جو گزشتہ کئی عشروں سے ریاستی اداروں کی ناک کا بال اور ہاتھ کی چھڑی بنے ہوئے ہیں؟ ٹکراؤ سے ملک کے اندر خلفشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ حکمت کا تقاضہ ہے کہ مزید محاذ نہ کھولے جائیں۔ خاص کر اس وقت جب سرحدوں پر کشیدگی ہو لیکن ان تنظیمات کو کھلی چھٹی بھی تو نہیں دی جاسکتی۔ ایسا کرنے سے دنیا کا عتاب نازل ہوتا ہے اور وہ بھارت کی ہمنوا بن جاتی ہے۔ بھارت مظلومیت کی چار تان کر کشمیر میں ظلم ڈھاتا ہے اور دنیا خاموشی سے سب کچھ نظرانداز کردیتی ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں کسی ایک بھی قابل ذکر ملک نے کشمیر پر بھارت کی مذمت نہیں کی۔

ریاستی اداروں کے لیے دو ٹوک فیصلہ کرنا سہل نہیں۔ فی الحال ایک ہی راستہ نظر آتا ہے کہ ان تنظیمات کے پر پرزے کاٹے جائیں۔ جو عناصر سیاسی اورسماجی کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں راستہ دیا جائے اور جو گروہ پرتشدد کارروائیوں سے باز نہیں آتے، ریاست کی عملداری کو قبول نہیں کرتے، انہیں قابو کرنے کے لیے تمام تر تدابیر اختیار کی جائیں۔ طاقت کا استعمال سب سے آخری ہتھیار ہونا چاہیے لیکن ملک کے اندر کسی گروہ یا شخصیت کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنی ریاست قائم کرے، ملکی قوانین کی بھد اڑائے اور ریاستی اداروں کو جوتی کی نوک پر رکھے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت بہت سارے اچھے کام ہوئے۔ جن کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ آج پاکستان میں امن و امان بحال ہوچکا ہے لیکن اب حکومت اور عسکری اداروں کو دوقدم آگے بڑھنا ہوگا اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

سیرل المیڈا کی خبر نے ملکی سطح پر ان موضوعات پر بحث ومباحثے کا ایک غیر معمولی موقع فراہم کیا ہے جن پر عمومی طور پر اہل دانش گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ پاکستانی ریاست کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں منتخب حکومتوں یا پارلمنٹ کی بالادستی اور عسکری اداروں کے ساتھ تعلقات کار میں توازن اور ان کے دائرہ کار کے ازسر نو تعین کا مسئلہ مدتوں سے التواء کا شکار ہے۔ سرکاری سطح پر اس موضوع پر لب کشائی اس لیے نہیں کی جاتی کہ کہیں اداروں اور پارلیمنٹ کے مابین کشیدگی پیدا نہ ہوجائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اداروں کی مضبوطی اور جمہوریت کےاستحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا جب تک ملک کے اندر ان موضوعات پر کھل کر، بغیر کسی ہیجان اور فتوے بازوں کے خوف کے بحث نہیں کی جاتی۔
سیرل المیڈا کی ذات یا ڈان اخبار کی ساکھ پر انگلی اٹھانا ایک کار لاحاصل ہے۔ سیرل ایک ثقہ اور ذمہ دار صحافی ہیں۔ ڈان اخبار کے بارے میں دوست دشمن سب مانتے ہیں کہ یہ ایک معتبر اور ذمہ دار اخبار ہے جو کہ خبر کی صداقت چانچے بغیر کچھ نہیں چھپتا۔ اسی لیےقارئین کی ایک بڑی تعداد ڈان پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتی ہے۔ حکومت سے گزارش ہے کہ وہ ڈان سے سینگ اڑانے اور سیرل جیسے ذہین تجزیہ کاروں کی تضحیک کرنے کے بجائے اپنے منجھی تھلے ڈانگ پھیرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 134 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood

One thought on “سیرل المیڈا نے غلط کیا لکھا؟

  • 15/10/2016 at 7:42 am
    Permalink

    سرل المیڈا سینئر صحافی نہیں ہیں مگر ہوجائیں گےاگر جونئیر بھی ہیں تب بھی انہیں لکھنے اور کہنے کا اختیار حاصل ہے

Comments are closed.