چودھری نثار اب سیرل المیڈا سے لیک چیک کروائیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"puncture-2\"

چودھری نثار علی خان صاحب نے کہا ڈان کے صحافی سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نے ان کو یہ خبر لیک کی۔

انھوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ صحافی کبھی اپنے ذرائع نہیں بتاتے۔ ’ہمارے پاس شواہد ہیں۔ ہم ان سے ذرائع کے بارے میں نہیں پوچھیں گے لیکن ہم ان سے یہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ بھائی یہ شواہد درست ہیں یا غلط ہیں۔‘

اب بندہ پوچھے، کہ چودھری صاحب، آپ اگر سیرل المیڈا سے سورس کا نام نہیں پوچھ سکتے تو پھر کیا اس نمانے کو نزدیکی پیٹرول پمپ پر لے جا کر پنکچر والے کے ٹب میں بٹھا کر اس سے لیک کا سورس چیک کرنا ہے؟ آپ کے پاس شواہد ہیں تو پھر آپ کو سیرل کی کیا ضرورت ہے؟ سیرل سے اب آب پارہ کے تھانے میں تو تفتیش کرنا ممکن نہیں ہو گا، تو پھر آپ کیوں اپنی حکومت کو مشکل میں ڈالتے ہیں اور پریس میں منفی پبلسٹی پاتے ہیں؟

\"chaudhry-nisar\"

شواہد درست یا غلط ہونے کا فیصلہ تو جج کرتا ہے۔ سیرل المیڈا تو شواہد کو درست قرار دے رہا ہے، اور اس کا پورا ادارتی بورڈ بھی درست قرار دے رہا ہے۔ لیکن پھر بھی آپ المیڈا سے ہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ ’بچہ، یہ شواہد جو تم نے دیے ہیں، غلط ہیں یا درست‘، تو اتنی سی بات تو آپ اس معصوم سے ایک ایس ایم ایس پر بھی پوچھ سکتے تھے۔ میسیج ڈال دیتے کہ بھائی صاحب، یہ آپ کے شواہد غلط ہیں یا درست؟ آپ کی اپنی رائے کیا ہے؟

نہ آپ سیرل المیڈا سے سورس کا پوچھ سکتے ہیں، نہ شواہد کے متعلق سوالات کا جواب دینے پر مجبور کر سکتے ہیں، تو پھر کیا کریں گے؟  اگر آپ المیڈا کی خبر میں موجود شواہد کی بجائے اپنے پاس موجود شواہد کی تصدیق کروانا چاہتے ہیں، تو سیرل المیڈا جواب دینے سے انکار کا قانونی حق بھی استعمال کر سکتا ہے۔ تو پھر کیا ہووے گا؟ پھر تو بہتر یہی ہے کہ سیرل المیڈا کو چھوڑیں اور جس جس پر لیک کا شبہ ہے، اسے ہی نزدیکی ٹائر شاپ پر لے جائیں اور اس مشتبہ شخص کو پانی کے ٹب میں بٹھا دیں اور سیرل المیڈا سے درخواست کریں کہ وہ بتائے کہ کیا لیک کا ذمے دار یہی ملزم دکھائی دے رہا ہے؟ اب تو صرف یہی ایک طریقہ کارگر لگ رہا ہے۔

دوسرا طریقہ پھر یہ ہے کہ فون ریکارڈ وغیرہ چیک کر لیں۔ ڈان والے دعوے تو کر رہے ہیں کہ حکومت کو سب علم ہے کہ کس کس سے تصدیق کے لئے پوچھا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1212 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar