شام میں سرگرم روسی مصالحت کار سے ایک ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی حاضر سروس ڈپلومیٹ کے ساتھ آن ریکارڈ گفتگو کرنا اور وہ بھی جب وہ کسی نازک اور حساس عمل کا حصہ ہو،کسی بھی صحافی کیلئے چلینج ہے۔ پچھلے دنوں استنبول میں ایک بین الاقوامی مصالحتی کانفرنس کے دوران جب شام میں روس کی مصالحت کار ڈاکٹر ماریہ خودنسکایہ گولینچی شچیوا سے ملاقات ہوئی، تو میری رگ صحافت بری طرح پھڑکنے لگی۔ شام میں قتل و غارت، مہاجرین کی بے بسی اور زبوں حالی اور بڑی طاقتوں کی ریشہ دوانی سے تو کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے۔ چونکہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد میڈیا مسلسل بتا رہا ہے کہ اسکا براہ راست فائدہ روس کو پہنچا ہے، تو میں نے چھوٹتے ہی ان سے پوچھا کہ اس میں کتنی صداقت ہے، تو روس کی اس جوان اور خوبصورت خاتون سفارت کار نے جو جنیوا کے اقوام متحدہ کے دفتر میں اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہے، بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ اور مسکراتے ہوئے سوالات کے جوابات دئیے اور شام کے حوالے سے کئی گوشوں سے پردہ اٹھایا۔

ماریہ نے کہا کہ شام کی صورت حال ایسی ہے کہ اس کو کسی کے فائدہ یا نقصان میں تولنا شاید ٹھیک نہیں ہوگا۔ ’’جب 2005ء میں روس نے مداخلت کی، تو اسمیں ہمارا قومی مفاد پیش نظر تھا۔ ہمارے ملک سے کئی افراد شام کی افرا تفری اور عدم استحکام کا فائدہ اٹھا کر فوجی تربیت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کیلئے اس خطہ میں آئے تھے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ وہ واپس جاکر روس میں کوئی بڑی کاروائی انجام دے سکتے ہیں۔

بشار الاسد حکومت کو حمایت دینے کے پیچھے ہمارا مقصد تھا کہ شام کا حال عراق جیسا نہ ہو۔ شاید ہمیں کامیابی نہیں مل سکی، مگر جو غیر ملکی جنگجو یہاں لڑنے یا تربیت پانے کیلئے آئے تھے، ان کوایک پیغام تو دیا کہ شام ان کیلئے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔ ‘‘ میں نے سوال کیا کہ چند برس قبل تک امریکہ اور روس تو شام کے سلسلے میں ساتھ ساتھ نظر آتے تھے، بالخصوص داعش سے نپٹنے کے نام پر ، 20رکنی بین الاقوامی سیرین اسپورٹ گروپ کے چیئرمین تو دونوں ممالک کے وزراء خارجہ تھے، آخر عالمی طاقتیں ہونے کے باوجو د وہ کسی حل کو مسلط کروانے میں کیوں ناکام رہے؟

ایک لمبی سانس لیکر ماریہ نے کہا ’’کہ ہاں یہ سچ ہے کہ بڑی طاقت کے زعم اور زمیں پر فوجی بوٹوں کی بل بوتے پر ہم نے کئی علاقوں میں جنگ بندی مسلط کرنے کی کوشش کی تھی، جو بعد میں شاید کسی حل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے تھے، مگر ہم ناکام رہے۔‘‘ ماریہ نے اس کے بعد بڑی تفصیل کے ساتھ امریکہ کے ساتھ ہوئی سلسلہ جنبانی اور امریکی انتظامیہ کے پس پردہ مقاصد وغیرہ پر روشنی ڈالی۔اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ فروری 2016ء میں روس اور امریکہ کے مابین شام کی صورت حال کے حوالے سے کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

اسی سال ستمبر میں حلب کی جنگ بند کروانے کیلئے بھی ایک معاہدہ طے ہوا اس کے مطابق اپوزیشن گروپوں کو مشرقی حلب خالی کرنا تھا اور بشارلاسد کی فوج اور اپوزیشن گروپ کی مابین ایک جنگ بندی بھی طے ہوگئی تھی۔ مگر یہ معاہدہ دو ہفتے بھی نہیں چل پایا۔ اس سے قبل بھی امریکہ فروری میں ہوئے معاہدوں کی پاسداری نہیں کر پایا۔ ’’اس صورت حال میں ہمیں یہی لگا کہ امریکی شاید شام کے سلسلے میں یا تو سیریس نہیں ہیں یا وہ امن کے خواہاں نہیں ہیں۔ ماسکو میں اس پر طویل میٹنگیں ہوئیں۔ معلوم ہوا کہ امریکی بھی شام کے صورت حال سے پریشان ہیں، مگر وہ گرائونڈ کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ہمارے لئے نسبتاً آسان تھا کہ ہم بشارلاسد کی حکومت کے ساتھ ڈیل کرتے تھے۔ امریکی کسی ملک یا ایک فورس یا گروپ کے ساتھ ڈیل نہیں کرتے تھے۔ آخر یہ عقدہ ہم پر کھلا کہ اس پورے پرaسیس میں ہم نے امریکہ کو تو شامل کیا ہے ، مگر علاقائی طاقتوں کو نہ صرف اس سے باہر رکھا ہے، بلکہ ان سے ساتھ فضول کی شکر رنجی مول لے رکھی ہے۔ ماسکو میں پھر اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ ہوا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صورت میں ہی شام میں قیام امن ممکن ہے۔ خطے میں بڑی طاقت تو ترکی ہی تھی ۔ ہمیں پہلے اندازہ تھا کہ ناٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے انقرہ ،امریکہ کے ساتھ راز و نیاز میں شامل ہوگا۔ مگر حیرت تھی کہ امریکہ نے اپنے اتحادی کی فوج کو استعمال کرنے یا اسکے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے کے بجائے، اسکے حریف گروپوں کوگرائونڈ پر استعمال کیا۔

ہم نے ترکی کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھولا۔ امریکہ سے مایوسی کے بعد ہم نے حلب کے ایشو پر ترکی کے ساتھ بات چیت کرکے ایک معاہدہ کیا۔ جو کام امریکہ سے مہینوں نہیں ہوسکا، ترکی نے دنوں میں کرکے دکھایا۔ حلب میں نہ صرف جنگ بندی ہوئی، بلکہ اپوزیشن فورسز نے مشرقی حلب کو خالی بھی کیا۔ حلب کے واقعہ نے روسی قیادت کی آنکھیں کھول دی۔ شام کے حالات اور ان سے نپٹنے کے تئیں ہمارا نظریہ تبدیل ہوگیا۔ ہمیں یہ ادراک ہوگیا کہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہی شام میں قیام امن ممکن ہوسکتا ہے۔

اسی دوران جب قزاقستان کے صدر نورسلطان نذربائیوف نے آستانہ میں شام میں برسرپیکار سبھی گروپوں کو مدعو کیا ، تو ترکی اس میں ایک اہم فریق تھا۔ ‘‘ میں نے پوچھا کہ 2011ء کے عرب لیگ کے فارمولہ سے لیکر کوفی عنان کے ایجنڈے سمیت تقریباً 30کے قریب امن کوششیں شام کے سلسلے میں ہوئیں، مگر امن کی فاختہ پھر بھی کہیں نظر نہیں آرہی ہے، تو روسی سفارت کار ماریہ نے جو نہایت ہی سشتہ انگریزی میں جوابات دے رہی تھیں، کہا ’’کہ شام میں فریقین کی بھر مار ہے۔ سب سے پہلے اقوام متحدہ نے امن مساعی شروع کی تھی،اور تقریباً نو راونڈ کے مذاکرات ہوئے۔ یہ مذاکرات ایک حد تک کامیاب کہے جاسکتے ہیں کیونکہ مختلف گروپ آمنے سامنے میز پر بیٹھے۔ مگر ناکام اس حیثیت میں تھے کہ نمائندگی کے لحاظ سے اپوزیشن گروپ کمزور تھے۔(جاری ہے)

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •