جیسے ہم سوچتے ہیں مولانا ویسے واپس نہیں جائیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خدا کو حاضروناظر مان کر اعتراف کررہا ہوں کہ عمر کے اس حصے میں بھی ہفتے کے پانچ دن صبح اُٹھتے ہی یہ کالم لکھنا شروع کردیتا ہوں تو یہ ہرگز صحافت کے شعبے کے ساتھ میری ’’جنونی‘‘ وابستگی کا اظہار نہیں۔ رزق کمانے کی مجبوری ہے۔لکھنے اور بولنے کے علاوہ دیہاڑی لگانے کے کسی اور ذریعے سے واقف ہی نہیں ہوں۔حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ آرائی رپورٹر سے کالم نگار ہوئے صحافی کا فرض تصور ہوتی ہے۔ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائی گفتگو پر اعتبار کریں تو ان دنوں کے ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ مولانا فضل الرحمن کی ایک متاثر کن نفری کے ساتھ اسلام آباد میں موجودگی ہے۔

میرے لئے مگر کمرکے درد کے سبب گھر سے نکلنا ہی نہیں بستر سے اُٹھنا بھی محال ہوگیا ہے۔ٹی وی دیکھنے کی عادت نہیں۔اخبارات کے پلندے کو غور سے پڑھتے ہوئے دن کے کئی گھنٹے گزارتا ہوں۔Update کے لئے وقتاَََ فوقتاََ ٹویٹر سے رجوع کرنا بھی ضروری ہے۔برسوں کے تجربے سے اگرچہ یہ سیکھا ہے کہ سیاسی منظرنامے پر جو ’’نظر‘‘ آرہا ہوتا ہے وہ بسااوقات محض دکھاوا ہوتا ہے۔’’اصل کھچڑی‘‘ کہیں اور پک رہی ہوتی ہے۔ رپورٹر کو اپنا دھیان پس پردہ معاملات کا کھوج لگانے پر مرکوز رکھنا چاہیے۔دوٹکے کے رپورٹروں کو اگرچہ اشرافیہ کے فیصلہ سازوں تک رسائی میسر نہیں ہوتی۔

انہیں جنگل میں بھٹکے جانوروں کی طرح انسانی جبلت میں موجود صلاحیتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔تھکادینے والی بھاگ ڈور کے بعد اگرچہ چند اشارے ہی مل پاتے ہیں۔انگریزی زبان والے Dots جنہیں مہارت سے جوڑنے کی صلاحیت نصیب ہوجائے تو مستقبل کی پیش بینی ممکن ہے۔اس کے سوا جو بھی ہے رائیگاں کی مشق ہے۔یاوہ گوئی ہے۔بہت تگ ودو کے بعد چند ٹھوس معلومات میسر ہوبھی جائیں تو ان کے بیان سے خوف آتا ہے۔ نام نہاد ’’سچ‘‘ بیان کرنے کا وقت بھی اشرافیہ ہی طے کرتی ہے۔اس کی ’’مقدار‘‘ کا تعین بھی فقط اس کا اختیار ہے۔

پیر کی صبح جو کالم چھپا تھا اس میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا کہ مولانا شاید فی الفور اسلام آباد کی ریڈزون پر ’’یلغار‘‘ کے بجائے مزید چند روز اس شہر کے جس مقام پر فی الوقت موجود ہیں وہیں جمے رہنے کو ترجیح دیں گے۔اس رائے کا اظہار ہفتے کی سہ پہر سے رات گئے تک چند سیاسی افراد کے ساتھ گفتگو کی وجہ سے ممکن ہوا۔اتوارکی صبح کالم لکھ کر دفتر بھیج دیا تو کمر کے درد کی دواکھاکر سوگیا۔

دوپہر کے کھانے کے بعد اخبارات سے رجوع کرنے کا موقعہ ملا۔ان سے فراغت ہوئی تو سوشل میڈیا پر توجہ دی۔وہاں مقبول چند ’’باخبر‘‘ صحافی بہت اعتماد سے دعویٰ کررہے تھے کہ مولانا فضل الرحمن کو واضح الفاظ میں پیغام دے دیا گیا ہے کہ انہیں ’’ہر صورت‘‘ آئندہ چند گھنٹوں میں اسلام آباد سے جانے کی تیاری شروع کرنا ہوگی۔ ساتھ ہی یہ ’’خبر‘‘ گردش میں آگئی کہ نواز شریف صاحب کو علاج کی خاطر بیرون ملک بھیجنے کی تیاریاں تقریباََ مکمل ہوچکی ہیں۔شاہد خاقان عباسی بھی جیل سے ہسپتال پہنچادئیے گئے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری جنوبی پنجاب جاچکے تھے۔

’’تنہا‘‘ نظر آئے مولانا فضل الرحمن سے بالآخرچودھری شجاعت حسین صاحب نے رابطہ کیا۔چودھری صاحب میرے پسندیدہ سیاست دانوں میں سے ایک ہیں۔ذاتی طورپر انہوں نے میرے ساتھ ہمیشہ ضرورت سے زیادہ شفقت برتی۔بے پناہ محبت،عزت واحترام سے پیش آتے رہے۔ اپنی صحت کی مجبوریوں کے سبب گزشتہ کئی مہینوں سے تقریباََ گوشہ نشین ہوچکے ہیں۔ان کی مولانا فضل الرحمن سے رابطے کی خبر آئی تو میرے اندرموجود قنوطی کادل گھبرا گیا۔ یاد آیا کہ انہوں نے اکبر بگٹی اور اسلام آباد کی لال مسجد والوں سے بھی معاملات طے کرنے کی دیانت دارانہ کوشش کی تھی۔

افتخار چودھری کی سپریم کورٹ کے بنچ کے ذریعے بحالی کے بعدانہوں نے جنرل مشرف کو قائل کرنے کی بے انتہا کوشش کی کہ وہ بحال ہوئے چیف جسٹس سے ’’دوستی‘‘ کرلیں۔ اپنی کوشش میں ناکام ہوئے تو میں ان صحافیوں میں شامل تھا جن کے روبرو انہوں نے کامل بے بسی سے اعتراف کیا کہ معاملات ’’بگڑ‘‘ چکے ہیں۔ہمیں کسی ’’انہونی‘‘ کے لئے تیاررہنا چاہیے۔

ان سے ملاقات کے دو دن بعد جنرل مشرف نے 3 نومبر2007 کے روز ’’ایمرجنسی پلس‘‘ کا اعلان کردیا۔افتخار چودھری ایک بار پھر ’’برطرف‘‘ کردئیے گئے۔ان کی جگہ جسٹس ڈوگر تعینات ہوئے۔ مجھ جیسے صحافیوں کو ٹی وی سکرینوں سے غائب کردیا گیا۔اکبر بگٹی،لال مسجد اور افتخار چودھری سے جڑے واقعات خدانخواستہ چودھری شجاعت حسین کی ’’محدودات‘‘ کا اثبات نہیں۔بدقسمتی یہ رہی کہ ان کی صلح جو صلاحیتوں سے اس وقت رجوع ہوا جب ان معاملات سے جڑے فریقین کے لئے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی تھی۔ربّ کریم سے فریاد ہی کرسکتا ہوں کہ چودھری صاحب کو اس بار مناسب وقت پر صلح جو یا نہ کردار ادا کرنے کو آمادہ کیا گیا ہو۔

میرے لاہور کی گلیوں میں اکثر یاد دلایا جاتا ہے کہ محلے کے ’’اونترے(لوفر)‘‘ لڑکے کسی بیوہ کو گوشہ عافیت میں چین سے رہنے نہیں دیتے۔ ا ن دنوں پرانی وضع کے محلے تو موجود نہیں رہے۔ سوشل میڈیا آگیا ہے۔اس پر پنجابی محاورے والے ’’اونترے‘‘ دندنا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ’’اونتروں‘‘ کی بدولت مجھے ٹویٹر کے ذریعے ’’خبر‘‘ یہ ملی کہ اتوار کی شب اپنے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن ’’بکری‘‘ ہوگئے۔ان کی تقریر کے اختتام کے فوراََ بعد عمران حکومت کی دبنگ ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔مولانا کے اسلام آباد میں قیام کو ’’تھیٹر‘‘ ٹھہراتے ہوئے جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ کی ’’اداکاری‘‘ کو طنزیہ انداز میں سراہا۔

ہمیں امید بخشی کہ مولانا کا مارچ دھرنے کی صورت اختیار نہیں کرے گا۔واپسی کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ڈاکٹر صاحبہ کے تجزیے سے ہمارے چند بہت ہی معتبر ومستند تصور ہوتے’’لبرل‘‘ خواتین وحضرات نے بھی کامرانی کے جذبات سمیت اتفاق کیا۔ اپنے ان ’’لبرل‘‘ دوستوں کا مذاق اڑایا جو اس گماں میں مبتلا ہوگئے تھے کہ مولانا کے مارچ کی بدولت وطنِ عزیز میں جمہوری نظام کے استحکام کی راہ نکلے گی۔ مولانا کے مبینہ ’’یوٹرن‘‘ نے ان معتبر ومستند لبرل خواتین وحضرات کی اس رائے کو بقول ان کے درست ثابت کردیا کہ ’’مذہبی انتہاپسندی‘‘ کے پیغام کی بدولت قائم ہوئے ’’جتھوں‘‘ کے ذریعے مولانا فضل الرحمن فقط پاکستان کے سیاسی کھیل میں خود کو ایک ہیوی ویٹ کھلاڑی ثابت کرنا چاہ رہے تھے۔وہ اس کوشش میں ناکام ہوئے۔ریاست ریاست ہوتی ہے۔ ’’جھتے‘‘ اسے ’’بلیک میل‘‘ نہیں کرسکتے۔

پاکستان ویسے بھی ایک روشن خیال ملک ہے یہاں کی سیاسی جماعتوں کو مذہب کی بنیاد پر ووٹ نہیں ملتے۔ یہ سیاسی جماعتیں Power Pieمیں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لئے مولانا فضل الرحمن جیسے ’’جتھہ برداروں‘‘ کی محتاج نہیں ہیں۔ہمارے بہت ہی معتبر ومستند تصور ہوتے ’’لبرل‘‘ بے تحاشہ پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ مجھ جیسے کم علم صحافی ان کے احترام کو مجبور ہیں۔یہ سوال اگرچہ ذہن میں آئے چلے جارہا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن کا مارچ نہ ہوتا تو کیا ہماری آزاد،حق گو اور بے باک ٹی وی سکرینوں پر حافظ حمد اللہ اور مفتی کفایت جیسے حضرات بھی نمودار ہوپاتے۔

وہ نمودار ہوئے تو ’’نیوزاینڈ کرنٹ افیئرز‘‘ کے نام پر شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک چلائی نوٹنکیوںکی Ratings بھی بحال ہونا شروع ہوگئی۔ گزشتہ چند مہینوں سے ان کی Ratings مسلسل گررہی تھی۔ سوشل میڈیا پر لگی رونق حاوی ہورہی تھی۔کئی گھرانوں میں ٹی وی سکرینیں خاموش تھیں۔ Netflix کے ذریعے مختلف سیریز کے Seasons دیکھے جارہے تھے۔ ہمارے ڈراموں کے ناظرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا تھا۔ مولانا کے مارچ نے چاہے چند دنوں کے لئے مگر ’’نیوزاینڈ کرنٹ افیئرز‘‘ کے نام پر چلائی نوٹنکیوں کی رونق بحال کردی۔

اینکر خواتین وحضرات دوبارہ ’’معتبر‘‘ مان لئے گئے ہیں۔ٹی وی سکرینوں پر ہماری رہ نمائی کے لئے ہمہ وقت چھائے ہوئے ہیں۔فکر مجھے اب یہ لاحق ہے کہ مولانا کے مبینہ طورپر ’’بکری‘‘ہوجانے کے بعد ٹی وی سکرینوں پر ’’نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز‘‘ کے نام سے رونق کیسے برقرار رکھی جائے گی۔ربّ کریم مگر مسبب الاسباب ہے ۔ یقینا کوئی اور ’’سودا‘‘ مارکیٹ میں بیچنے کے لئے آجائے گا۔اس کالم کا اختتام کرتے ہوئے ہاتھ باندھ کر یہ عرض کرنے کی جسارت کرنے کو لیکن مجبور ہوں کہ مولانا فضل الرحمن اسلام آباد سے اس انداز میں واپس نہیں جائیں گے جس کی ہم توقع باندھے ہوئے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •