مولانا کا دھرنا: فیض اور جالب کو تشویش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دیر پہلے فون کی گھنٹی بجی کوئی نمبر نہیں آرہا تھا۔ ڈرتے ڈرتے فون اٹھایا تو دوسری طرف گھبرائی ہوئی آواز میں ایک صاحب نے کہا میں فیض بات کر رہا ہوں۔ کئی لوگوں کو فون کیا کسی نے بھی نہ اٹھایا حامد میر، طلعت حسین، سلیم صافی کو فون کیا جواب ندارد، حتی کہ انور مقصود کو کوشش کی، ان کا فون بند ہے۔ ہم نے لرزتی آواز میں کہا، جی سر۔

ہاں بھئی فیض ۔ میری غزلیں سنی ہوں گی ۔ ہم نے کہا غزلیں نہیں، دیوان کے دیوان پھر رہے ہیں یہاں۔ کہنے لگے کیا اول فول بک رہے ہو؟ میں فیض احمد فیض ہوں۔ عالم بالا سے کال کررہا ہوں۔ بہت پریشان ہوں۔ یہ سب میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے؟ انور مقصود کہاں ہیں؟ اور یہ جو ادب نواز ہے آرٹس کونسل کا شاہ صاحب وہ کیوں فون نہیں اٹھا رہا۔

ہم نے کہا شاہ صاحب کی شام شروع ہو گئی ہے اور انور مقصود کا علم نہیں لیکن آپ کا نمبر نہیں آ رہا اس لیے گھبرا کر فون نہیں اٹھایا ہوگا۔ کہنے لگے اب عالم بالا کی کال آئی ڈی نہیں آتی صرف فون آتا ہے۔ ہم نے پوچھا کیوں؟ کہنے لگے ورنہ وہاں بھی صبا بیلنس لوڈ کرانے کا پیغام بھیج دے گی۔ ہم نے کہا وہاں بھی اس کے چرچے ہیں؟

 کہنےلگے ہاں کچھ ایسے بھی آئے ہیں جو صبا کو پیسے بھیجتے ہوئے حوروں کے ہاتھوں دھر لیے گئے۔ خیر چھوڑو ابھی بہت جلدی میں فون کیا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ مولانا نے جو دھرنا دیا ہے اس میں کہیں میری نظم “ہم دیکھیں گے” نہ پڑھ دیں تم حامد میر سے کہو انہیں سمجھائیں کہ ہم نے کوئی نظم بھی کم ازکم ایک جام پیے بغیر نہیں کہی ہے۔ اس لیے ساری غیر شرعی اور ناپاک غزلیں ہیں۔ خیر اگر پیے بغیر بھی کہتے تو بھی غیر شرعی ہی کہلاتیں۔

ہم نے حیرت سے پوچھا عالم بالا میں بھی مولانا کے دھرنے کا ذکر ہے۔ کہنے لگے ہاں بھئی۔ ہم تو ایک نئی غزل کی تیاری کررہے تھی کہ حوروں کا شور اٹھا، کئی دہشت زدہ ادھر ادھر بھاگ رہیں تھیں۔ پوچھ گچھ کی تو صدیق سالک نے بتایا کہ سر یہاں بزم حوراں میں کسی نے افواہ پھیلا دیی ہے کہ مولانا یہ کہہ کر مجمع لائے ہیں کہ اگر عمران خان کی حکومت کے ہاتھوں مرو گے تو سیدھا حوروں کے پاس جاو گے۔

ارے لو یہ جالب بات کرنا چاہ رہے ہیں

ایک دم وہی آواز آئی، جو ہم کچھ دیر پہلے یو ٹیوب پر سن رہے تھے “ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا”

ہم نے کہا جالب صاحب، آداب، ابھی دستور سن رہے تھے

کہنے لگے اسی لیے تمھیں فون ملایا ہے میں نے اور فیض نے دیکھا کہ تم نے فیس بک پر شیئر بھی کیا ہے

بھائی خدا کا واسطہ اسے دھرنے والوں تک نہ پہنچاؤ۔ ساری زندگی ملا کے خلاف رہے، اب وہ ہماری نظمیں پڑھیں گے تو ہم روز محشر میں کیا منہ لے کر جائیں گے

ابھی ڈیلیٹ کرو۔

اور حامد میر کو میرا اور فیض کا پیغام پہنچا دو کہ مولانا کے دھرنے کے منتظمین کو سمجھائیں ہماری نظمیں نہ پڑھی جائیں انتہائی مخرب، مکر و ریا اور آمریت نواز ہیں۔ ہم نے جالب صاحب سے کہا حامد میر کو ہی پیغام کیوں پہنچائیں؟ کہنے لگے میرا اس کا بڑا ساتھ رہا ہے، وہ یہ شرارت کر سکتا ہے۔ وہ مولویوں کو کارل مارکس کی تصویر دکھا کر کہہ سکتا ہے یہ اپنے دور میں درس نظامی کے استاد رہے ہیں۔ مدرسہ دیوبند ہند سے پڑھا اور جالب اور فیض اس کے قریبی ہیں۔ تم حامد میر کو نہیں جانتے، میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں

ہم نے کہا جناب عرض یہ ہے کہ آپ کی نظم “دستور” اور فیض کی “ہم دیکھیں گے” پیپلز پارٹی والے یا ن لیگ والے پہنچا سکتے ہیں اور پتہ نہیں پہنچا بھی دی ہو لیکن مولانا اپنا ہی کلام لائے ہیں شرعی زبان میں ہے لہذا آپ فکر نہ کریں وہاں آپ کا کلام نہیں پڑھا جائے گا۔

دونوں نے شکریہ ادا کیا لیکن لہجے سے ظاہر تھا کہ انہیں یقین نہیں ہے۔ کہنے لگے کسی طرح انور مقصود اور شاہ صاحب کو پیغام پہنچا دو، ہمارا فون اٹھا لیں

ہم نے کہا دیکھیئے اگر فون نمبر ظاہر نہیں ہو گا تو وہ نمبر نہیں اٹھائیں گے کیونکہ وہ سمجھے گے کہ یہ “ان” کا فون ہے۔ اگر اٹھا لیا تو پھر اٹھ جائیں گے۔ اور فیض صاحب سے کہیں اگر کوئی فون اٹھائے تو یہ نہ کہیں، فیض بات کر رہا ہوں۔ لوگ کچھ اور سمجھ کر دہشت زدہ ہو جاتے ہیں۔

کہنے لگے، پھر کیا کریں، کیسے رابطہ کریں

ہم نے عرض کی جناب میسیج کردیں، صبا ہوں، بات کرنا چاہتی ہوں، آپ نے جتنی رقم بھجوائی تھی، کس طرح واپس کروں؟ فوراً فون اٹھا لیں گے۔

(انورمقصود سے معذرت کے ساتھ)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فرحان رضا کی دیگر تحریریں
فرحان رضا کی دیگر تحریریں