احتساب کے نام پر انتقام نہیں چلے گا: مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ سے خطاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مطالبے کے لیے ان کا آزادی مارچ اسلام میں رواں دواں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 2014 کے ڈی چوک پر تحریک انصاف کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے پر اعتراض کیوں نہیں تھا جبکہ اب پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کے اس مارچ پر کیوں اعتراض کیا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں نے کل بھی کہا تھا کہ وہ 2014 میں بھی تنہا تھا اور کسی بھی حزب اختلاف کی جماعت نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا اور وہ آج بھی تنہا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے آزادی مارچ کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم آپ کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں کیونکہ آپ نے سیاسی جمود کو توڑا ہے، آپ نے بتا دیا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام نہیں چلے گا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ جب ہماری دوستی پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی شکل میں اقتصادی دور میں داخل ہوئی تو موجودہ حکومت نے اقتدار میں آکر اس کی دوستی کو غارت کر دیا اور آج ہم اس کا اعتماد خراب کر چکے ہیں اور اب وہ مزید سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور اسے خراب کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت معاشی صورتحال یہ ہے کہ فیکٹریاں بند ہورہی ہیں، یونٹس بند ہورہی ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں، ظاہر ہے کہ پیداواری ادارے بند ہونے سے اشیائے ضروریہ مارکیٹ میں ناپید ہو جائیں گی اور اس کی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب سے یہ حکومت میں آئے ہیں تب سے اشیائے ضروریہ، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ موجود صورتحال میں بیوروکریسی جمود کا شکار ہوگئی ہے۔ پہلی باراسٹیٹ بینک نے بیان جاری کیا کہ وہ 1 ارب روپے کے خسارے میں چلاگیا ہے، پاکستان کا ایک ایک دن انحطاط کی طرف بڑھا ہے، جتنا وقت حکومت کو ملے گا روز کی بنیاد پر نیچے جاتے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار پاکستان میں ایک سال میں 3 بجٹ پیش کیے گئے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ لوگوں کو توقع نہیں تھی کہ مذہبی جماعت کا منشور اتنا ترقی پسند ہوگا، ہمارا منشور صوبائی خودمختاری کی بات کرتا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ نے کہا کہ آج اسرائیل خائف ہے کہ آزادی مارچ نے اس کی 40 سال کی سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزارت داخلہ انکار کرسکتی ہے کہ اسرائیل کا طیارہ پاکستان میں نہیں اترا؟ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے اور اس پر آنسو بہا رہے ہیں، جب ہمارے پاس کشمیر کمیٹی تھی تب کسی کو آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں تھی۔

فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ آزادی مارچ نہیں ہے بلکہ آنے والے وقت میں ایک انقلاب کی نوید دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملک سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بیورو کریسی کا نہیں ہے، پارلیمنٹ کی بالادستی ہے تو عوام کی آواز کو سننا ہوگا۔

2018 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم نے چور کو دن دہاڑے چوری کرتے پکڑا، اب کہتے ہیں تحقیقات کرلیں کہ ہم چور ہیں یا نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں پارلیمانی کمیٹی بنا دیتے ہیں جو دھاندلی کی تحقیقات کر یگی، لیکن یہ کمیٹی تو پچھلے ایک سال سے ہی بنی ہوئی ہے۔

 جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ 95 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو قانونی فارم پر نتائج نہیں ملے۔ آزادی مارچ سے مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کے دوران جب آزادی مارچ کے شرکاء نے ڈی چوک کا نعرہ لگایا تو مولانا فضل الرحمٰن نے انہیں یہ نعرہ لگانے سے روک دیا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب سے قبل قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •