بوٹا، ریما اور ڈاکٹر ثمینہ


ایک ادھیڑ عمر کا ڈاکٹر نرسری کے دروازے سے نکل رہا تھا۔ اس کے ارد گرد دو تین ڈاکٹروں کو مودب پا کر بوٹا سمجھ گیا کہ یہ ”بڑا ڈاکٹر“ ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتا، ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر اس سے ہاتھ ملایا اور تصدیق چاہی، کہ کیا وہی محمد بوٹا ہے!۔۔ بوٹے نے اثبات میں سر ہلایا، تو ڈاکٹر اسے اپنے کمرے میں لے آیا، اور عزت سے کرسی پر بٹھایا۔ بوٹا حیران تھا، کہ اس نے سرکاری اسپتال کی جتنی برائیاں سنی تھیں، یہاں تو سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر نے اسے یوں مخاطب کیا، ”دیکھیں، بوٹا صاحب۔۔“
”بوٹا صاحب؟“۔۔ اس طرح تو آج تک اسے کسی نے نہیں پکارا تھا۔۔۔ خیر وہ ڈاکٹر کی بات توجہ سے سننے لگا۔۔ جو کہ رہا تھا، کہ ”ہمارے علم میں ہے، کہ آپ کا پہلا بچہ جنس کے لحاظ سے نارمل نہیں تھا۔ مجھے بہت افسوس ہے، مسٹر بوٹا، کہ۔۔ آپ کا یہ بچہ بھی ویسا ہی ہے۔“

بوٹے پر تو گویا برق ہی آن گری۔۔ گرو شمیم کا چہرہ، نرتک کرتی آنکھیں، ادائیں، سبھی تو بوٹے کی نگاہوں میں گھوم گیا۔ گئے سال میں، اس نے گرو شمیم کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا۔ اور اب؟۔۔ پھر؟۔۔۔
نہیں، نہیں، یہ۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ اندر ہی اندر اس کی یہ کیفیت تھی، لیکن اس کے منہ سے صرف اتنا ہی نکل پایا۔ ”ڈاکٹر صاحب، پھر سے؟۔۔۔ مگر۔۔ کیوں؟“
بوٹے کے لب سے نکلے، ان دو مختصر سوالوں میں دنیا جہان کا کرب تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑی شفقت سے جواب دیا، ”بوٹا صاحب، آپ میٹرک پاس ہیں، آپ کے لیے، یہ سمجھنا شاید اتنا مشکل نہ ہو، کہ کزن میرج کی وجہ سے کچھ۔۔ جینیاتی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔“
”بیماری؟۔۔ اچھا جی؟۔۔ تو کیا یہ کوئی بیماری ہے؟“
”جی مسٹر بوٹا۔۔ بالکل۔۔ یہ ایک بیماری ہے۔۔ بلکہ یہ۔۔ دراصل یہ ایک علامت ہے۔ تولیدی اعضا کی نشوونما کو کنٹرول کرنے والے غدود اور ان کے ہارمونز، یعنی کیمیکلز کی، کئی ایک بیماریاں، اس طرح کے بچوں کی پیدائش کا سبب بنتی ہیں۔ یہ عملِ تولید کے دوران کچھ غیر معمولی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یا پھر والدین میں ان بیماریوں کے جینز پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ پر اکیلے، اکیلے۔۔ اسی لیے وہ والدین میں تو بیماری پیدا نہیں کرتے، مگر جب اولاد میں اکٹھے ہو جاتے ہیں تو دونوں اطراف سے آنے والے بیمار جینز کے ملاپ سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ اور اسی لیے کزن میرج میں، اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کہ ماں اور باپ دونوں میں خراب جینز موجود ہوں۔“
“تو ڈاکٹر صاحب، کیا اس کا کوئی علاج بھی ہے؟“
”پہلے تو ہم کچھ ٹیسٹ کروا کر یہ کنفرم کریں گے، کہ آپ کے بچے میں، اس بیماری کی کون سی قسم ہے۔ لیکن آپ پریشان نہ ہوں، ہمارے پاس اس قسم کی تمام بیماریوں کا کوئی نہ کوئی حل موجود ہے۔ پرسوں تک ٹیسٹ رپورٹس آ جائیں گی، تب آپ مجھے دوبارہ ملیے گا۔ پھر ہم تفصیل سے اس مسئلے کو ڈسکس کریں گے۔“

بوٹے نے اگلے دو دن اللہ اللہ کر کے گزارے۔ اس دوران اس میں بچے کو دیکھنے کی ہمت نہ پڑی۔ بس اسٹاف اور ڈاکٹروں سے پتا چلتا کہ ڈرپ اور ٹیکوں سے اب اس کی حالت بہت بہتر ہے۔ تیسرے دن وہ پھر اس شفیق ڈاکٹر کے پاس جا پہنچا۔ اسے پتا چلا کہ ڈاکٹر صاحب کا صرف رویہ ہی نہیں، بلکہ نام بھی شفیق ہے، اور وہ انگلینڈ سے پڑھ کر آئے ہیں۔ اسے ڈاکٹر کے پی اے نے بتایا کہ وہ بچوں کے اسی قسم کے امراض کے اسپیشلسٹ ہیں۔ جس سے اسے بہت تسلی ہوئی۔ ڈاکٹر شفیق نے اندر بلا کر اسے بٹھایا، اور سمجھانے لگے۔ ”دیکھیں مسٹر بوٹا۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ نومولود اصل میں لڑکا نہیں، بلکہ لڑکی ہے۔ کیوں کہ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے لڑکوں والے غدود یعنی ”ٹیسٹیکلز“ اس میں نہیں پائے گئے۔ جب کہ زنانہ غدود یعنی ”اووریز“ موجود ہیں۔ ہماری تشخیص کے مطابق آپ کی بچی کو ایک موروثی جینیاتی بیماری ہے، جسے ہم اپنی زبان میں ”سی-اے-ایچ“ کہتے ہیں۔ اس مرض میں گردوں کے اوپر واقع چھوٹے چھوٹے غدود ”ایڈرینل گلینڈز“ میں ایک مخصوص کیمیکل جسے ”انزائم“ کہتے ہیں، کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ جس جینز میں اس انزائم کا کوڈ ہوتا ہے، وہی اصل میں متاثرہ جین ہوتا ہے۔ اب اس انزائم نے جس کیمیائی عمل کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، اس میں گڑبڑ کی وجہ سے جسم میں نمکیات کے لیول کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کی بھی کمی ہو جاتی ہے۔ اور پھر اس سب کے رد عمل کے طور پر انہی غدود میں بننے والے مردانہ ہارمونز کا لیول بہت بڑھ جاتا ہے، جو کہ عام حالات میں لڑکیوں میں اتنا کم ہوتا ہے کہ اس کے اثرات نظر نہیں آتے۔ اب اس ساری صورت احوال کی وجہ سے آپ کی بچی میں دو بڑے مسئلے پیدا ہوئے۔ نمکیات کی کمی کی وجہ سے جسم میں پانی کا لیول خطرناک حد تک کم ہو گیا جس کے لیے ڈرپس لگانا پڑیں، اور مردانہ ہارمون زیادہ ہونے کا اثر بچی کے تولیدی اعضا پر پڑا اور انہوں نے مردانہ اعضا کی شکل اختیار کر لی۔ چوں کہ یہ تبدیلی مکمل نہ تھی، اس لیے یہ اعضا دیکھنے میں نہ مکمل طور پر لڑکوں والے لگتے تھے، اور نہ لڑکیوں والے۔ البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ دواوں کے ذریعے اس بیماری کا علاج ممکن ہے۔ مگر یہ دوائیں آپ کو ساری عمر استعمال کروانی پڑیں گی۔ ان کے ساتھ بچی بالکل نارمل بچیوں جیسی زندگی گزارے گی۔ شادی کے بھی قابل ہو گی، اور بچے بھی پیدا کر سکے گی۔ ان شا اللہ۔ بس دوران حمل اسے خصوصی ٹیسٹ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہو گی۔“

یہ سب سن کے بوٹے کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔ اسے اس بات کی بھی خوشی تھی، کہ یہ بچہ گرو شمیم کے ہاتھوں سے محفوظ رہے گا۔ مگر ساتھ ہی پچھلے بچے سے جدائی کا غم اسے گھلا رہا تھا۔ اے کاش! وہ اسے اسپتال لے آیا ہوتا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے ڈاکٹر سے پوچھا، کہ کیا اس کا پہلا بچہ، جس کا علاج نہ ہو سکا، وہ پانی کی کمی سے مر گیا ہو گا؟ اس پر ڈاکٹر نے کہا کہ ضروری نہیں، اس بچے میں بھی اس بیماری کی یہی قسم ہو۔ بعض کیسز میں نمکیات کنٹرول کرنے والے ہارمونز نارمل رہتے ہیں، اور پانی کی کمی نہیں ہوتی۔ بوٹے نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور بچی کو لے کر گھر آ گیا اور اس کی بہترین پرورش اور تعلیم و تربیت کا عہد کیا۔ اس نے اس بیماری کے خوف سے دوبارہ اولاد کی کوشش ہی نہ کی۔ حالاں کہ ڈاکٹر نے اسے منع نہیں کیا تھا بلکہ بتایا تھا کہ اس کی تشخیص اور علاج حمل کے دوران بھی ممکن ہے۔ لیکن بوٹا اپنے دل کو راضی نہ کر پایا۔ ایک اور درمیانی جنس کا بچہ دیکھنے کی اب اس میں ہمت نہ تھی۔

پچیس سال بعد ایک کار، چوراہے پر رکی تو ایک ہیجڑا تالی پیٹتا، ٹھمکے لگاتا ڈرائیور کی کھڑکی پر آ کھڑاہوا۔ اپنے مخصوص انداز میں بولا، ”نی ماں صدقے۔۔ بی بی، اپنے چن ورگے بچے دا صدقہ ای دیندی جا۔۔ ریما تیرے واسطے دعا کرے گی۔“ ڈاکٹر ثمینہ نے اسے پچاس کا نوٹ تھمایا، اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ ساتھ بیٹھے اس کے چار سالہ بیٹے نے معصومیت سے کہا، ”ماما، ان آنٹی کی شکل تو بالکل آپ جیسی تھی۔“۔۔ ”چپ کرو۔ بدتمیز۔“ ڈاکٹر ثمینہ نے مسکراتے ہوئے، پیار سے بچے کے سر پر اک چپت لگائی اور گہری سوچ میں کھو گئی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2