بوٹا، ریما اور ڈاکٹر ثمینہ

بوٹے کے یہاں پہلا ”بوٹا“ کھِلنے والا تھا۔ وہ پریشانی، بےچینی، خوشی اور تجسس کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ اپنے بیڈروم، جو اس وقت لیبر روم کا منظر پیش کر رہا تھا، کے باہر ٹہل رہا تھا۔ ہر دائی کی طرح، یہ دائی بہت سیانی تھی۔ پر بوٹے کی میٹرک کی سند اس کے دل میں، دائی اور گھر پر ڈلیوری کے خلاف قِسم قِسم کے وسوسے پیدا کر رہی تھی۔۔۔ بوٹا خاندانی مالی تھا۔ باپ کے شوق، اور

Read more