مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط

ماں جی میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر سے بے گھرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیظ و غضب کے آگے بھی تھمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی

Read more

آئی اے رحمن، حسین نقی۔۔۔ یہ کرسیاں خالی رہیں گی

یہ تحریر 7 جنوری 2017 کو روز نامہ جنگ اور ہم سب پر شائع ہوئی۔ گزشتہ صدی کے ابتدائی برس تھے۔ سرسید احمد خان کی رہنمائی میں قوم کی نیا سنوارنے والے ستارے ایک ایک کر کے اوجھل ہو رہے تھے۔ ستارے ختم نہیں ہوتے۔ ہماری آنکھ کا منظر بدل جاتا ہے۔ سرسید کے دست راست نواب محسن الملک کے اعزاز میں ایک جلسے کے صدر نشین نواب وقار الملک تھے۔ ایک جملہ ایسا کہا کہ اہل درد کے سینوں

Read more

غلط فہمیاں اور مذہبی انتہا پسندی

چند روز پہلے ملتان میں ختم نبوت سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے ملتان ہائی کورٹ بار کونسل کے الیکشن میں غیر مسلمانوں (احمدیوں ) کا الیکشن میں حصہ لینے کے خلاف احتجاج کیا۔ بلکہ غیر مسلم وکلاء کے الیکشن لڑنے پر پابندی لگائے جانے کی قرارداد بھی منظور کی۔ اس خبر کو پریس میڈیا نے شائع کیا۔ اوورسیز میں رہنے والے لبرل اور سیکولر سوچ رکھنے والے ایکٹیوٹس نے سوشل میڈیا پر احتجاج کیا۔ حساس ایشو ہونے کی وجہ

Read more

میریٹل ریپ اور ہمارا سماج

حال ہی میں پاکستانی اداکارہ اقرا عزیز نے ایک انٹرویو کے دوران میریٹل ریپ پر بات کی۔ انھوں نے یہ کہا کہ ہمارے سماج میں میریٹل ریپ پر کوئی بات نہیں کرتا کیونکہ یہاں پر اس کو کوئی ریپ سمجھتا ہی نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جنسی عمل میں اگر عورت کی مرضی شامل نہ ہو تو وہ ریپ ہی ہے چاہے وہ شادی کے بغیر ہو یا شادی کرنے کے بعد۔ اقراء کو اس موضوع پر بات کرنے پر داد دینی چاہیے کیونکہ اس سے پہلے مارچ میں عورتوں کے عالمی دن پر جب یہاں عورت مارچ منعقد کیا گیا اس میں بھی اسے مختلف نعروں کے ذریعے موضوعِ بحث بنایا گیا۔ جس میں ایک نعرہ ”اپنا بستر خود گرم کر لو“ پر سوشل میڈیا پر بہت لے دے ہوئی۔ اور یہ نعرہ لگانے والی خواتین کو نا صرف برا بھلا کہا گیا بلکہ اوریا مقبول جان جیسے لوگوں کو تو اس سے اپنی مردانگی کی توہین بھی مجسوس ہوئی۔

Read more

خواجہ سرا اور ان کے حج عمرے

نوکری کرتے کرتے ایک وقت ایسا آیا کہ حاجی کیمپ کے اندر ایک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا۔ صبح صبح وہ کیمپ کھول دیا جاتا عین اس طرح جیسے دکان کھلتی ہے۔ جا کر سب سے پہلے کاؤنٹر باہر نکالنے ہوتے، پھر کسی صفائی کرنے والے بھائی کو بلا کر جھاڑو دلوایا جاتا، پھر کرسیاں ترتیب سے رکھی جاتیں، پیڈسٹل فین چلایا جاتا اور یوں دکان جم جاتی۔ جب تک دھوپ صرف سامنے سے آتی، تب تک مختلف بینر لٹکا

Read more

بوٹا، ریما اور ڈاکٹر ثمینہ

بوٹے کے یہاں پہلا ”بوٹا“ کھِلنے والا تھا۔ وہ پریشانی، بےچینی، خوشی اور تجسس کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ اپنے بیڈروم، جو اس وقت لیبر روم کا منظر پیش کر رہا تھا، کے باہر ٹہل رہا تھا۔ ہر دائی کی طرح، یہ دائی بہت سیانی تھی۔ پر بوٹے کی میٹرک کی سند اس کے دل میں، دائی اور گھر پر ڈلیوری کے خلاف قِسم قِسم کے وسوسے پیدا کر رہی تھی۔۔۔ بوٹا خاندانی مالی تھا۔ باپ کے شوق، اور

Read more

494 پھانسیاں اور نیا پاکستان

نئی حکومت کو بنے قریب ایک ماہ ہو چکا ہے اور تحریک انصاف حکومت ہر اعتبار سے خود کو مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے مختلف حکومت ثات کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے مسلم لیگ نواز کی حکومت کے دوران دی جانے والی 494 پھانسیاں حکومتی کارکردگی  جانچنے  اور آئندہ حکومت کو درپیش مسائل کے تجزیے  کا ایک منفرد پیمانہ ہیں۔ دسمبر 2014 سے اب  تک دی گئی پھانسیوں کا

Read more

لینہ حاشر کہتی ہیں: ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں

  محترمہ لینہ حاشر کی تحریر ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ اس وقت ”ہم سب“ کی تاریخ کی ایسی دوسری مقبول ترین تحریر بن چکی ہے جس نے شائع ہونے کے تین دن کے اندر اندر ایک لاکھ مرتبہ پڑھے جانے کا سنگ میل عبور کیا ہے، اور تین دن کے ٹوٹل ویو کے حساب سے تو یہ اس وقت اول نمبر پر ہے۔ لینہ حاشر کی اس تحریر کی وجہ سے ”ہم سب“ نے اپنی

Read more