مولانا آ رہا سے مولانا آ گیا ہے تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا کالم ”مولانا کو اتنا ایزی بھی نہ لیں“ لگ بھگ ایک مہینہ پہلے ہم سب پر شائع ہوا (عنوان کی معمولی تبدیلی کے ساتھ ) اور پھر کئی اخبارات نے بھی اسے چھاپا۔ کالم کی اشاعت کے وقت مولانا فضل الرحمٰن نہ آزادی مارچ کے لئے نکلے تھے نہ سڑکوں پر ایک جم غفیر برآمد ہوا تھا۔ نہ سندھ اور پنجاب میں ایک خلقت اُمڈ آئی تھی، نہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان سے قافلے روانہ ہوئے تھے، نہ اسلام آباد میں لاکھوں لوگ دھرنا دے کر بیٹھ گئے تھے، نہ مولانا مقبولیت کے معراج پر پہنچے تھے، نہ ان کے لہجے میں گھن گرج آئی تھی اور نہ میڈیا قدرے باغیانہ انداز میں اُچھلنے لگا تھا بلکہ اس وقت حالات قدرے پُر سکون اور کنٹرول کے قابل تھے۔

میں نے اپنے کالم میں تکرار کے ساتھ لکھا تھا کہ مذہبی طبقے کے اندر سے مولانا کی مخالفت پائیدار نہیں رہے گی اور یہ مخالفت جلد تحلیل ہو جائے گی کیونکہ سیاسی اور پارلیمانی سطح پر مولانا فضل الرحمٰن مذہبی طبقات کے مفادات کے نگہبان بھی ہیں اور علمبردار بھی اور مذہبی طبقے سے کوئی بھی دھڑا مولانا کی مخالفت کر کے نہ خود کو کمزور کرنے کا رسک لے گا اور نہ تنہا کرنے کا، اس لئے اب اس سوال کا حق تو بنتا ہے کہ مذہبی طبقے میں مولانا کی مخالفت تو کوئی ڈھونڈ کر دکھائے، حتٰی کہ بریلوی مکتبہ فکر کی جانب سے بھی ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے جو بذات خود تائید کے زمرے میں آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مولانا ”تنہا پرواز“ سے بھی خوفزدہ دکھائی نہیں دیتے۔

آگے چل کر میں نے لکھا تھا کہ بال کی کھال اُتارنے والے خبر نویسوں نے ایسا کوئی دریچہ نہیں چھوڑا جہاں اُنھوں نے تاک جھانک نہ کی ہو لیکن آخری اطلاع تک مولانا کو کسی اشارے کا ثبوت نہیں ملا، البتہ بدلتے ہوئے زمانے کا ادراک حکومت کی شدید ناکامی اور عوامی رد عمل اور دبے ہوئے ریگولر میڈیا کے مقابل آزاد سوشل میڈیا کا اُٹھان اور اثر و رسوخ مولانا کے لئے ”اشارہ“ ضرور ہیں۔ بعد میں مقتدر قوتوں کے ساتھ مولانا کا بڑھتا ہوا فاصلہ اور للکار مذکورہ معاملات اور تجزئیے کو بہت حد تک سچ ثابت کر چکا لیکن اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ دھرنے کا منطقی نتیجہ کیا نکلے گا؟

کیونکہ اسلام آباد سے خالی ہاتھ واپس جانا مولانا نے اپنے لئے خود ناممکن بنا دیا ہے اور اگر بالفرض وہ ایسا کریں بھی تو وہ اپنی سیاسی موت کے پروانے پر دستخط کر بیٹھیں گے کیونکہ انہوں نے ہر موقع پر یہ عزم بار بار دھرایا کہ وزیراعظم عمران خان کا استعفٰی لئے بغیر واپس ہرگز نہیں جاؤں گا گویا معاملہ صرف عمران خان کے استعفٰی تک محدود رکھ کر مولانا نے اپنے حریفوں کے سامنے قدرے آسان اور قابل قبول آپشن رکھ چھوڑا ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سیاسی قوتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی طبقہ بھی مولانا کی پشت پر کھڑا ہے جبکہ اس کے پیروکاروں کے بارے میں میں نے پہلے ہی لکھا تھا کہ وہ امیر کے حکم کی پابندی ہر حال میں کرتے رہیں گے اور پھر وہ ملک کے مختلف حصوں سے اُمڈ کر اسلام آباد پہنچے بھی اور تاحال ایک نظم و ضبط کے ساتھ بیھٹے اور امیر کے حکم کے منتظر بھی ہیں۔ گویا مولانا کمزور وکٹ پر نہیں کھیل رہے ہیں اس لئے اس کے لہجے اور باڈی لینگویج سے ایک اعتماد ٹپک رہا ہے۔

تا ہم سیاسی جماعتوں خصوصا مسلم لیگ کا رویہ شدید ابہام اور اعتماد کے فقدان کا شکار ہے اس سلسلے میں تمام ذمہ داری شہباز شریف پر عائد کی جا رہی ہے کیونکہ نواز شریف اپنی صحت کے مسائل اور مریم نواز والد کی بیماری اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے منظر سے اوجھل ہیں۔ لیکن محمود خان اچکزئی کے علاوہ کسی دوسری جماعت نے بھی کھل کر ابھی تک مولانا کا ساتھ نہیں دیا اور صرف حاضری لگانے پر ہی اکتفا کیا اب جبکہ ایک پرانے اور آزمودہ جرگہ کار چودھری شجاعت حسین میدان میں اُترے ہیں اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لئے مسلسل مولانا سے مل رہے ہیں۔

تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا کی آزادی مارچ سے پہلے یہ اہتمام کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا مولانا کو طاقت کے مظاہرے کا موقع دینا مقصود تھا؟ یا کیا دھرنے سے مخصوص نتائج کا حصول کسی منصوبے کا حصہ ہے؟ موجودہ وقت میں مذکورہ سوالات کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ جب مجھ جیسا عام صحافی بھی اپنی معلومات اور مشاہدے کے بل بوتے پر مسلسل چیختا رہا کہ مولانا کو اتنا ایزی بھی نہ لیں تو اس سے زیادہ معلومات تو ان لوگوں کے پاس ہونے چاہیے تھے جو ایسے معاملات پر نظر رکھنے کے ذمہ دارہیں بہرحال اک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا اس وقت سیاسی حکومت کی طرف سے پرویز خٹک کمیٹی مذاکرات کر رہی ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ کمیٹی اسلام آباد میونسپل کمیٹی سے آگے بڑھنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتی جبکہ چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہی کی مذاکرات کو اہمیت دی جا رہی ہے لیکن یہ وہی چودھری شجاعت ہیں جس نے اکبر بگٹی سے بھی آخری مذاکرات کیے تھے اور لال مسجد والوں سے بھی۔

لیکن اب کے بار جس شخص سے اس کا واسطہ پڑا ہے وہ نہ تو بلوچ لیڈر کی طرح غیر لچکدار ماضی پرست ہے اور نہ لال مسجد والے کی مانند وژن سے عاری اور حد درجہ جذباتی بلکہ اس شخص کا نام فضل الرحمٰن ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ اور ہدف کے حصول کے لئے اپنے جذبات کی متضاد سمت میں چلنا کوئی اس سے سیکھے، اور ویسے بھی چودھری شجاعت کے مذاکرات کا زمانہ تو اس دن لد چکا تھا۔ جس دن نواز شریف ایک خوفناک بیانیے سمیت جی ٹی روڈ پر نمودار ہوا تھا۔

تاہم ایک بات نوٹ کرتے جائیں کہ مولانا خالی ہاتھ ہر گز نہیں لو ٹیں گے۔ اس کے لئے اسے خواہ بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ جو لوگ اس خطے کی مذہبی سیاسی تاریخ اور عقائد پرستی کا مطالعہ رکھتے ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مذاکرات کی بجائے جبر کا راستہ اختیار کیا گیا تو صورتحال اس نہج پر چلی جائے گی جس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •