اقبالؔ اور فیضؔ کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نومبر کا مہینہ دو شاعروں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے ’اقبالؔ اور فیض ؔاور نومبر میں ہی نامور افسانہ نگارو شاعر احمد ندیمؔ قاسمی بھی پیدا ہوئے۔ یہی وجہ ہے اس نومبر میں ہونے والی زیادہ تر تقریبات کا موضوع اقبالؔ اور فیضؔ ہوتا ہے یا پھراحمد ندیمؔ قاسمی کے چاہنے والے اس مہینے ان کی سالگرہ اور مشاعرے کا اہتما م کرتے ہیں۔ یہ ساری تقریبات یقینا ان نامور تخلیق کاروں کو یاد کرنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔ میں ہر سال ان تقریبات میں جاتے ہوئے یہ ضرور سوچتا ہوں کہ اقبال کے موضوع پر ہونے والے سیمینارز‘ کانفرنسیں اور مشاعرے کیا اقبال کا فلسفہ اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں کوئی بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں؟

فیض کے نام پر ہونے والا ہر سال کارپوریٹ کلچر فیسٹیول کیا فیض کی تفہیم اور اس کی دریافت میں معاون ثابت ہو رہا ہے؟ یا فیض فیسٹیول سے نئی نسل میں فیض کا نظریہ منتقل ہوا یا پھر یہ کلچر شو محض ڈیٹ پوائنٹ ’شوبز کا میلہ اور پیسہ اکٹھاکرنے کا ذریعہ ہی بنا؟ کیونکہ یہ اقبالؔ اور فیضؔ یقینا اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کے کلام اور نظریے نے سماج کے بدلتے تناظر کو سمجھنے اور معاشرتی و معاشی تبدیلیوں کو سمجھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانوں نے دیہاتی سماج و مسائل کو جس خوش اسلوبی سے بیان کیا‘ وہ بہت کم تخلیق کاروں کے حصے میں آیا۔ لہٰذا ایسے تخلیق کاروں کو محض فیسٹولز اور مشاعروں تک محدود کرنے سے کیا ان کے شعری جہان کی دریافت کا مسئلہ حل ہو گیا؟ یقینا میرے قارئین کا جواب بھی میری طرح انکار میں ہوگا۔

اقبالؒایک عظیم شاعر ہے ’اس سے تو کسی کو بھی انکار نہیں ہوگا اور نہ ہونا چاہیے۔ اگر اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعدبھی اقبال کی دریافت اسی طرح جاری ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اقبال کی دریافت ابھی اس طرح نہیں ہو سکی جس کا اقبالؒ حق دار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اقبالؒ پر شائع ہونے والی کتب کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ اقبالؒ پر مختلف سرکاری و نجی یونیورسٹیوں میں ہونے والے تحقیقی مقالات کی تعداد اس سے سوا ہے۔

تو کیا اقبال ؒپر اتنا کام ہونے کے باوجود بھی اقبال ابھی تک ڈسکور نہیں ہو سکا؟ اس سے اس بات کا اندازہ تو بہرحال ہو گیا کہ اقبال ایک آفاقی شاعر ہے اور اسے سمجھنے میں نہ جانے اور کتنے زمانے لگیں۔ مگرمیرا مسئلہ ذرا اس سے مختلف ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا سلسلہ شروع ہو جس سے اقبالؒ جیسے عظیم شاعر کو ہم اپنی آنے والی نسلوں سے متعارف کروا سکیں۔ اس سے بالکل انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج مغرب زدہ تعلیمی و ادبی اداروں نے اقبالؒ کو محض ”اقبال ڈے“ تک محدود کر دیا ’اقبالؒ کے نام پر تقریری و تحریری مقابلہ جات منعقد کروا کے وہ یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ کو وہ اپنا قومی ہیرو تسلیم کرتے ہیں‘ حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔

وہ اقبال ڈے محض اس لیے مناتے ہیں کہ ان کے پاس یہ منانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ کوئی بھی علمی وادبی سیمینار یا پروگرام تو وہ کروائیں گے نہیں لہٰذا والدین اور معاشرے کو یہ تاثر دینے کے لیے کہ ہم مشرقی تہذیب اور ثقافت کے داعی ہیں اور اپنے ہیروز کو یاد رکھتے ہیں ’وہ اقبال ڈے اور میلاد جیسے موضوعات پر ایک دو گھنٹے کے پروگرامز کرواتے ہیں۔ آج ہم جب برگر اور پیزا سے پروان چڑھنے والی نسل سے اقبال کا تعارف پوچھتے ہیں تو یقین جانیں انہیں اس کے علاوہ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ہماری قومی شاعر ہیں اور انھوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔

کیا اقبال ؒکا محض یہی کارنامہ ہے کہ انھوں نے پاکستان کا خواب دیکھا؟ اقبال نے جو ہمیں ایک اسلامی اور نظریاتی زندگی کا فلسفہ پیش کیا ’وہ آج کے نوجوان کوکیوں نہیں معلوم؟ معاملہ اگر محض کالج اور سکول کے طلبا تک محدود ہوتا تو شاید برداشت ہوجاتا یہاں تو وہ طلبا جو یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں اور نہ جانے کون کون سی ”بھاری بھرکم ڈگریاں“ بھی لے چکے مگر افسوس کا مقام ہے کہ اقبال کے دو شعر بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتے، بلکہ اس سے بھی آگے چلیے اور ظلم کی انتہا دیکھیے کہ فیصل آباد میں ایک سرکاری یونیورسٹی میں جو علامہ اقبالؒ کے شعر مختلف بورڈز پر لکھوائے گئے تھے وہ سب بے وزن بھی تھے اور ان میں سے کوئی بھی اقبال ؒکا شعر نہیں تھا۔

کیا تعلیمی اداروں میں اتنی بھی تمیز باقی نہیں رہی کہ وہ اقبالؒ کا شعر نوٹس بورڈ پر آویزاں کرتے ہوئے اس کی کوئی تحقیق ہی فرما لیں۔ اقبالؒ کے نام پر درجنوں ادبی ادارے اور اکیڈمیاں تو بن گئیں مگر اقبالؒ اپنے سارے کلام میں جس شاہین کو مخاطب کرتے رہے وہ شاہین محض برگرز اور پیزا تک محدود ہو کر رہ گئی ’وہ شاہین محض سوشل میڈیا کو اپنا دین ایمان سمجھنے لگی سو اقبالؒ کے نام پر بننے والے اداروں کو اقبال کے شعری جہان کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

مکالمے اور گفتگو کی ایسی فضا ہموار کی جائے جو مختلف کالجوں ’یونیورسٹیوں اورمغرب زدہ ادارو ں تک جائے اور اقبال کا شاہین‘ شاہین کی دریافت میں کامیاب ہو سکے۔ ورنہ تو پھر ہم اتنے برسوں سے اقبال ڈے مناتے آرہے ہیں ’اس سال بھی منائیں گے اور اگلے کتنے ہی سال مناتے رہیں گے مگر وہ اقبال ڈے یقین جانیں محض لفظوں کی جگالی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ ایسے میں اقبال کا فلسفہ کتابوں میں دب کر رہ جائے گا اور اقبال کا شاہین سوشل میڈٖیا کے گھوڑے پر سوار کہاں کا کہاں پہنچ جائے گا۔

یہی حال ہم نے فیضؔ کے ساتھ کیا۔ آپ اس دفعہ بھی فیض فیسٹیول کا حصہ بن کر دیکھ لیں اور ایمان سے یہ فیصلہ کیجیے گا کہ فیض جس معاشرے اور سوسائٹی کا درس دیتا رہا ’وہ جس دنیا کی تبلیغ اپنی شاعری میں کرتا رہا‘ جس کلچر کے حق میں بولتا رہا اور جس کارپوریٹ اور سرمایہ دار طبقے کے خلاف جہاد کرتا رہا کیا یہ میلہ اور فیسٹیول فیض کے اس شعری جہان کی تصویر ہے؟ آج ہم نے فیض کو شوبز اور فلم کی دنیا تک محدود کر دیا ’آج فیض پر گفتگو کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی دانشور‘ کوئی اسکالر ’کوئی شاعر یا ادیب نہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ہمیں فیض پر گفتگو کرنے کے لیے ڈرامہ اور فلم کی اداکاروں (مرد و عورت) سے کام لینا پڑ رہا ہے۔

یقین جانیں فیض فیسٹول میں جا کر شدت سے احساس ہوتا کہ کہ فیض جس کارپوریٹ اور سرمایہ دار طبقے کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہا ’جس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیے رکھا وہ لوگ اور وہ سرمایہ دار اور کارپوریٹ مجمع تو اکٹھا ہو گیا اور فیض جس غریب کے لیے نوحہ لکھتا رہا‘ وہ غریب تو اس میلے میں کہیں بھی نہیں دکھتا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ فیض کے شعری جہان کی تفہیم جس انداز میں ہونی چاہیے تھی نہ اس طرح ہوئی اور نہ ”مالکانِ فیض“ نے کرنے دی۔

فیض کے نام پر موسیقی ’میڈیا‘ شوبز ’فلم اور ڈرامے کی محفلیں تو سجائی گئیں مگر فیض کے فلسفے کے سمجھنے کی نہ کبھی کوشش کی گئی اور نہ شاید کوئی ایسا کرے۔ کیونکہ اگر فیض کے حقیقی فلسفے کی تشہیر کرنے لگ جائیں تو فیض فیسٹول ایک ”فلاپ میلہ“ بن جائے اور ایسا ”مالکانِ فیض“ کبھی ہونے نہیں دیں گے۔ فیض فیسٹول کا مقصد فلسفہ فیض کی تشہیر نہیں ذاتی روابط اور تعلقات قائم کرنا ہوتا ہے سو اس کے لیے فیض کا فلسفہ بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ نومبر کا مہینہ اسی حوالے سے یادگار اور اہم ہوتا کہ اتنے بڑے تخلیق کاروں کو ہم یاد تو کر لیتے ہیں مگر افسوس ان کے فلسفے اور نظریے کی تفہیم اور تشہیر کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک ہم ذاتی لالچ اور ذاتی پروموشن سے بالاتر ہو کر ان کے فلسفے نہ سمجھیں اور پھیلائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •