مجھے کیلا کھانے پر اعتراض نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک خضر حیات میرے دوست ہیں۔ ان کا تعلق پنڈی گھیپ کے اک نواحی دیہات سے ہے جہاں ان کی ہمشیرہ، خواتین کے اک پولنگ سٹیشن میں پولنگ ایجنٹ تھیں۔ الیکشن کے وقت کے اختتام کے بعد، انہیں زبردستی گھر بھیج دیا گیا۔ ان کے پولنگ سٹیشن کا نتیجہ اگلے دن تیار کر کے ان کے حوالے کیا گیا۔

گوجرانوالہ کے اک سیاسی رہنما میرے دوست ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے کئی پولنگ سٹیشنز کا رزلٹ رات ساڑھے بارہ بجے تک روکا گیا۔ ان کے کارکنان کو زبردستی پولنگ سٹیشن کی حدود اور سامنے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے کارکنان نے ہٹانے والوں سے تقریبا جھگڑتے ہوئے یہ کہا کہ: ”سانوں پانویں اگ لا دئیو، اسی ایتھوں نئیں جانا۔ نتیجے لے کے ای جانا اے۔ “

شاہد خاقان عباسی صاحب کے حلقہ پر ان کے ووٹرز کا پہرہ ٹی وی چینلز نے خود دکھایا۔ رزلٹ کے اگلے دن مقامی عدالت کے جج نے ان کی دوبارہ گنتی کی اپیل کو Maintainable ہی نہ سمجھا۔

شاہد خاقان عباسی صاحب ہی وزیراعظم تھے، جب اک ادارے کے سربراہ نے کہا تھا کہ وہ اپنے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ اب یہ کہا جاتا ہے کہ آئینی وزیراعظم جو کہیں گے، وہ کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ ”اپنے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے“ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی کس بات کے جواب میں کہا گیا ہوگا؟

الیکشن دھاندلی کے معاملہ پر پارلیمانی کمیٹی کہاں ہے اور اس نے ابھی تک کیا کیا ہے؟ اعتراضات والے کتنے حلقوں میں ابھی تک دوبارہ گنتی ہوئی ہے؟ دا نیوز کی سٹوری تھی کہ رات بارہ بجے اک کال آئی اور آر ٹی ایس بند کر دیا گیا۔ ڈان نے 3 اگست کو اس پر اک سٹوری بھی کی تھی۔ یقین کیجیے کہ وہ کال میں نے نہیں کی تھی۔ ایف آئی اے نے 11 اکتوبر کو اس معاملہ میں انکوائری کا آغاز کیا تھا، وہ کہاں تک پہنچی؟

ایسے ”اتفاقات“ کی فہرست لمبی ہے۔

کہنا یہ ہے کوئی مانے یا نہ مانے، موجودہ نظام جو مخصوص آشیرباد کے تلے لایا گیا، کیوں آیا یا لایا گیا، مجھ جیسے دال روٹی کے مزدور کو بھلا کیا معلوم، مگر اس نظام کے ہوتے ہوئے سیاسی استحکام ممکن ہی نہیں رہا۔ عمران نیازی صاحب نے آپ ہی کی سرپرستی اور سیٹھ میڈیا کی مدد سے معاشرتی انتشار کی وہ لہر چلائی کہ معاشرہ اب سیاسی طور پر اک تنی کمان بنا ہوا ہے۔

اسی تنی کمان کا شاخسانہ ہے کہ پارلیمان بھی جب بھی نظر آئی، تنی ہوئی کمان ہی نظر آئی۔ پارلیمان تنی کمان نہ ہوتی تو ”پریذیڈنٹس آرڈیننس فیکٹری“ دھڑا دھڑ دل رہی ہوتی؟ اس سیاسی عدم استحکام میں معاشی استحکام کیسے ممکن ہو پائے گا؟ دو اعشاریہ سات والی معیشت، 22 کروڑ آبادی والے ملک میں معاشی استحکام کیسے لائی گی؟ بزنس ریکارڈر تو کہہ چکا کہ پاکستان کی دولت میں اس حکومت کے آنے کے ایک سال میں 141 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ واللہ کہ یہ 141 ارب ڈالر بھی میری وجہ سے نہیں ”گواچے! “

پچھلے 16 مہینوں میں عظیم انقلاب کی پیدا کی جمع تفریق کیا ہے؟ کتنے قرضے لیے گئے؟ ان میں سے کتنے ترقیاتی مقاصد کے لیے استعمال ہوئے؟ ڈالر کی Speculative Growth میں کس کا ہاتھ تھا؟ جوزف سٹالن (جدید) سے اگر کوئی پوچھ لے تو ان کا ٹیپ ریکارڈر چل پڑتا ہے : این آراؤ نہیں دوں گا۔ کرپٹ مافیا میرے خلاف باہر نکلا ہوا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں لوٹ کر کھا گئے وغیرہ وغیرہ۔ اور صورتحال یہ ہے کہ ”لوٹی گئی دولت واپس لانے“ والی خصوصی کمیٹی کسی بھی قسم کی مالی کرپشن کا ثبوت لانے سے قاصر ہے اور ابھی پرسوں ہی انٹرپول نے اسحٰق ڈار صاحب کے خلاف پاکستانی ریاست کا مقدمہ اک طرف کر ڈالا۔ وہ ہمارے زمان و مکاں کے جیمز بانڈ، شہزاد اکبر صاحب کہاں ہیں؟

آپ کی مرضی ہے جناب۔ اور اگر آپ کی ہی چلنی ہے تو میرے وطن کو فواد چوہدری اور فیاض چوہان مبارک۔ میں بخوشی دیا جانے والا کیلا کھاتا رہوں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •