رسولی والی ماسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جامعہ سے واپسی پر اس کا ارادہ اپنے والدین کے گھر جانے کا تھا مگر واپسی پر بکھرا گھر، گندے برتن اور دیگر گھریلو کاموں نے اس کی توجہ یکسر اس جانب سے ہٹا کر گھریلو امور کی جانب مائل کر ی۔ اور وہ تندہی سے کاموں میں جت گئی۔ تین گھنٹے میں کام نمٹا کر تھکن سے اس کا برا حال تھا۔ بہت دن سے ماسی بھی نہیں تھی، کئی اڑوس پڑوس کے لوگوں سے کہا بھی تھا مگر ابھی تک انتظام نہیں ہوسکا تھا۔ دل میں مستقل ماسی کے انتظام کے لیے دعائیں جاری تھیں کہ اچانک پڑوس میں رہنے والی جبّی آنٹی (نام تو جمیلہ تھا) نے ایک عدد ماسی کا انتظام کر دیا۔

پہلے دن جب وہ گھر کام کے لیے آئی تو عطیہ چند لمحے کو گنگ ہی رہ گئی۔ دبلی پتلی شکل و صورت کے اعتبار سے خاصی خو ش شکل، لباس چست اور دوپٹہ اتار کر کام کرنے کی عادت پر اسے اختلاج بھی ہوا۔ مگر وہ کڑوا گھونٹ سمجھ کر اس لیے پی گئی کہ ماسی کے بنا ریسرچ کے کام اور نوکری کا چلنا تقریباً ناممکن سا ہوگیا تھا۔ نام تو اس ماسی کا ایک مشہور زمانہ پرائڈ آف پرفارمنس کے نام پر تھا۔ سب نازش بلاتے تھے۔ گھر میں چلتی پھرتی کام کرتی عطیہ سے زیادہ نازش اس گھر کی مالکن محسوس ہوتی۔

اکثر اوقات تو یہ بھی ہوا کہ کسی مہمان کے آنے پر نازش نے دروازہ کھولا تو مہمان اسے ہی خاتونِ خانہ سمجھ کر سلام کر بیٹھا۔ جسمانی حرکات و سکنات اس کی باوقار تھیں، صفائی ستھرائی کا عالم یہ تھا کہ روز صبح نہا دھو کر صاف لباس پہن کر آتی۔ عورتوں سے زیادہ مردوں سے گفت گو کی شوقین تھی اور بعض اوقات گفتگو میں انتہائی فحش قسم کی گالیوں کا استعمال کرجاتی کہ عطیہ کے کانوں سے دھواں نکل جاتا۔ عطیہ کے شوہر سے باتوں کے دوران وہ جنوبی پنجاب کے ایسے واقعات سناتی۔ جس میں کسی نہ کسی طرح مردوں کی جنسی زندگی کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔

نازش نامی اس ماسی کو عطیہ محض اس لیے برداشت کررہی تھی کہ وہ کام میں مہارت رکھتی تھی۔ بعض اوقات دو کاموں کی جگہ تین کام کردیتی۔ گھر میں پڑی ہوئی تمام چیزوں کو انتہائی تیزی سے سمیٹ کر رکھ دیتی، کئی گنازیادہ کام دگنی رفتار سے نمٹا دیتی۔ نازش کے آنے سے گھر میں جو پھیلاوا تھا وہ سمٹ گیا تھا۔ گھر کی تمام اشیاء اپنے مقا م پر رکھی ہوئی نظر آتیں۔ عطیہ کو شکوہ تھا تو بس اتنا کہ نازش اس کے شوہر سے بے جا گفت گو کرتی ہے۔

بعض اوقات تو ایسی ایسی کہانیاں سناتی کہ جس کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ ”ایک دن عماد احمد کو اس نے اپنی سوتیلی بہن کا قصہ چٹخارے لے لے کر سنایا“ بھائی میرے ابا نے دو شادیا ں کی تھیں میری بڑی بہن ابا کی پہلی بیوی سے ہے۔ مجھ سے تقریبا سولہ برس بڑی ہے۔ ہمارے گاؤں میں بیت الخلا موجود نہیں ہیں عورتیں رفع حاجت کے لیے ویرانے میں جاتی ہیں وہاں سناٹے میں اکثر مرد عورتوں کی تاک میں بیٹھے رہتے ہیں۔ اور اکثر اوقات عورتوں کو پکڑ کر زیادتی کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ لڑکیاں یا عورتیں اس بات پر چپ سادھ لیتی ہیں وہاں کسی سے جنسی تعلقات رکھنا برا نہیں البتہ شادی کرلو تو وہ لوگ قتل کر دیتے ہیں‘‘

عطیہ کو نازش کی اتنی کھلی گفت گو سے اختلاج ہونے لگا۔ “ نازش تم تو کوئی اور قصہ سنا رہیں تھیں‘‘۔ عطیہ نے نازش کو بیچ میں ٹوکا۔ ’’ہاں باجی وہ میں یہ کہہ رہی تھی کہ میری بہن کی شادی کو اٹھارہ سال ہوگئے تھے چار بچے بھی تھے مگر اس کا شوہر اسے اچھے طریقے سے نہیں رکھتا تھا تو اس نے طلاق لے کر اینٹوں کے بھٹے کے مالک سے دوسری شادی کرلی ہے۔ بچے وہ پیچھے چھوڑ آئی ہے۔ بڑی خوش ہے وہاں مجھے بھی بلاتی رہتی ہے کہ تم اور تمھارا شوہر آجاؤ میں تمھیں کام دلوادوں گی‘‘۔

عماد احمد پولیس میں کچھ عرصہ گزار چکے تھے۔ اس لیے انھیں اندازہ تھا کہ اتنی خوبصورت لڑکی ایسے ہی ایسے قصے نہیں سناتی۔ پیچھے کوئی نہ کوئی اور کہانی موجود ہے۔ عماد احمد نے یہ بات عطیہ سے کہہ دی تھی کہ تم مجھ سے شرط لگا لو کہ نازش نے بھاگ کر شادی کی ہے۔ صفائی ستھرائی اور رکھ رکھاؤ نازش نے ڈیفنس کے بنگلوں میں کام کرکے سیکھا تھا۔

جب عماد احمد نے زیادہ تفتیش کی تو نازش نے بتایا کہ اس کی اپنے شوہر سے فون پر دوستی ہوگئی تھی۔ اس کا شوہر اس کا دور کا رشتے دار تھا۔ اس لیے وہ اعجاز کے لیے گاؤں سے بھاگ کر کراچی آگئی اور یہاں اس نے کورٹ میرج کرلی۔ اس کورٹ میرج کی وجہ سے اس کا خاندان نازش کے خلاف ہوگیا تھا۔ اور ہر وقت یہی مطالبہ کرتا تھا کہ نازش کے سسرال والے وٹہ دیں گے تو معافی ملے گی ورنہ نہیں۔ میکے کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اکثر شوہر سے اس کو مار پڑتی۔

پھر ایک ہی کمرا تھا۔ جس میں سسر ساس، دیور، وہ اور اس کا شوہر رہتے تھے۔ بعض اوقات فطری ضروریات کی تسکین بھی اس طور نہیں ہو پاتی جیسی اس کی اور اس کے شوہر کی خواہش ہوتی۔ اس پر وقت بے وقت سسر کا التفا ت بھی اس کی جانب رہتا۔ نازش کو اتنے عرصے ڈیفنس کے بنگلوں میں کام کرکے اور گاؤں کی گلیوں میں پھر کر اور مختلف مردوں کے زیرِ استعمال رہ کر اس بات کا تجربہ ہوچکا تھا کہ کب کس سے کیا کام نکلوانا ہے۔ عطیہ کے اپارٹمنٹ کے چوکیدار اور سوئپرز تک سے اس کی اچھی سلام دعا تھی۔

اپارٹمنٹ کے برے کردار کے حامل لوگوں کے فلیٹ میں بھی وہ اکثر اوقات تنہائی میں پائی گئی۔ مگر کوئی الزام اس لیے نہ لگا سکا کہ اس کے پاس کام کرنے کا بہترین بہانہ موجود تھا۔ عماد احمد سے جھاڑو پونچھا لگاتے ہوئے، کپڑے دھوتے ہوئے اور کپڑے استری کرتے ہوئے ہر طرح کی بات کرلیتی تھی۔ عماد احمد نازش کے کردار سے واقف تھا مگر وہ اس لیے پہلو تہی کرتا کہ اس کے گھر کے روزانہ کے کام خوش اسلوبی سے چل رہے تھے۔ اور اسے کسی حوالے سے کوئی پریشانی نہ تھی۔

عطیہ کو ایک دو دفعہ پیسوں کی چوری کا شبہ ہوا۔ مگر رقم ہزار پندرہ سو تھی، تو وہ اپنا شبہ سمجھ کر خاموش ہوگئی۔ گھر میں محدود آمدنی کی وجہ سے پیسے کی ریل پیل نہ تھی۔ اس لیے یہ اندازہ تو ضرور ہوا کہ پیسے کہیں اِدھر اُدھر ہوگئے مگر یہ ذہن میں نہیں آیا کہ نازش نے نکال لیے ہوں گے۔ نازش کے پاس روز شوہر سے لڑائی کے قصے ہوتے تھے۔ ایک دن شوہر سے بہت پٹ کر آئی تو عطیہ نے ہمدردی میں کہا کہ وہ اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھے، اب اگر شوہر مارے تو گھرچھوڑ کر ہمارے یہاں آجانا اور نازش دوسرے ہی دن اپنا ایک عدد بیگ سنبھال کر عطیہ کے گھر رات گزارنے موجود تھی۔

عطیہ کا فلیٹ دو بیڈ روم، ڈرائنگ اور ڈائننگ پہ مشتمل تھا۔ نازش کے ٹھہرنے سے انھیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہوئی البتہ دوسرے دن صبح ہی نازش کی ساس اسے ڈھونڈتی عطیہ کے فلیٹ آ گئی اور نازش کی چپل سے پہچان لیا کہ نازش عطیہ ہی کے گھر ہے۔ اتفاق سے اس روز جامعہ میں تقسیم اسناد کی تقریب تھی اور عطیہ کو اپنی پی ایچ ڈی کی سند وصول کرنے کے لیے اس تقریب میں شرکت کرنی تھی۔ نازش کا شوہر عطیہ اور عماد کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہوا چلا گیا تو عطیہ بھی تیار ہو کر کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کرنے چلی گئی۔

مگر وہ دن خوشی کے بجائے نازش اور اس کے شوہر کی وجہ سے باعثِ آزار بن گیا اور وہ کانووکیشن کی تقریب بھی بے دلی سے اٹینڈ کر کے آئی۔ رات میں عماد احمد اور عطیہ، نازش کو وکیل کے پاس لے گئے تو اس نے کہا کہ ”نازش کو اس کے شوہر کی اجازت کے بنا اپنے گھر میں رکھنا آپ لوگوں کے لیے درست نہیں۔ قانونی طریقہ یہ ہے کہ کل فورا نازش کو کسی دار الامان، یا شیلٹر ہاؤس میں داخل کروادیں۔ جہاں سے نازش قانونی کارروائی مکمل کرکے آپ کی تحویل میں آجائے، اس طرح یہ آپ کے گھر میں قانونی طور پر رہ سکتی ہے‘‘۔

ناز ش نے وکیل کی بات سن کر اسے ایک فحش قسم کی گالی دی اور عطیہ اور عماد سے واپس گھر جانے کا مطالبہ کرنے لگی۔ واپسی میں عطیہ اور عماد احمد نے اسے شیلٹر ہاؤس منتقل ہونے کے لیے بہت دباؤ ڈالا مگر وہ گنوں کی پوری تھی۔ پتھر جیسی خاموشی اختیار کرلی۔ نازش خود ہی اپنے شوہر کے ساتھ جانے کو تیار تھی اس لیے عماد احمد نے اپارٹمنٹ کے چند معتبر لوگوں کی موجودگی میں، نازش کو اس کے شوہر، ساس، سسر سے صلح و صفائی کے بعد واپس بھجوادیا۔

شاید وہ یہ سوچ کر آئی تھی کہ عطیہ کے گھر میں کچھ سونے کے زیورات ہوں تو ان پر ہاتھ صاف کرسکے۔ مگر اس کا یہ ارمان پورا نہ ہوسکا۔ اس واقعے کے بعد بھی نازش کی کام کاج کے لیے وہی روٹین تھی وہ اسی طرح تمام گھروں کے کام نمٹا رہی تھی اور روز کے قصے تھے۔ مگر عطیہ کے گھر سے اسے اب بوریت ہونے لگی تھی۔ اس کا خیال تھاکہ عماد احمد اس میں دلچسپی لے رہا ہے تو یہ خیال غلط تھا۔ سوائے گفت گو کے عماد نے کبھی کسی نازیبا خواہش کا اظہار نہ کیا تھا۔ نازش کو ان تلوں میں تیل نظر نہیں آرہا تھا۔ اسے ہر وقت اک مہم جوئی کی عادت تھی۔

پھر وہ اچانک غائب ہوگئی اور کسی سے کہلوا دیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اس کے غائب ہونے کے ساتھ ہی ایک اور عجیب بات ہوئی کہ برابر والے گھر میں چوری ہوگئی پڑوس میں رہنے والی اسکول ٹیچر گھر واپس آئیں تو ان کے گھر سے لیپ ٹاپ کا بیگ، انٹر نیٹ کی بے شمار ڈیوائس کا بیگ اور کئی قیمتی چیزیں غائب تھیں۔ باوجود کوشش کے چور پکڑا نہیں جاسکا۔ بقول چوکیدار اس نے کسی کو وہ سامان لاتے لے جاتے نہیں دیکھا۔ نازش ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد دوبارہ آنے لگی اور اکثر اپنے شوہر کے لیپ ٹاپ اور ایسی چیزوں کا تذکرہ کرتی کہ جو پڑوس سے چوری ہوئی تھیں۔

پڑوس میں جو ٹیچر تھیں ان کے شوہر مشکوک کردار کے حامل تھے اور ہوسکتا ہے کہ انھوں نے چند گھنٹے نازش کے ساتھ گزارے ہوں اور بے خیالی میں گھر کو صحیح طرح لاک کرنا بھول گئے ہوں نازش کام سے واپسی پر ان کا گھر کھلا دیکھ کر ان کے گھر میں داخل ہوئی اور بڑے شاپر میں وہ بیگ ڈال کر لے گئی۔ عام طور پر ماسیاں دوسرے گھروں کا کاٹھ کباڑ تھیلوں میں ڈال کر لے جاتی ہیں۔ اس لیے کسی کو شک بھی نہ ہوا۔ عماد احمد کو شک سے زیادہ یقین تھا مگر اس کا اظہار اس نے محلے والوں کے سامنے نہیں کیا۔

جب پڑوسن کا شوہر خود ٹھیک نہیں تھا تو پھر بات کرنا ہی فضول تھا۔ ایک دو ہفتے نازش صحیح چلی پھر اس نے گھر کے راشن پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا جو عطیہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کو ضرورت نہیں تھی بلکہ چوری اس کی سرشت میں شامل ہوگئی تھی۔ جیسے مردوں کو لبھانا اس کی سرشت میں تھا۔ اکثر خواتین اس کے بے باکانہ انداز کی وجہ سے اس کی چھٹی کردیتی تھیں۔ جب وہ گھر کے مردوں کے سامنے دوپٹہ اتار کر جھک جھک کر جھاڑو دیتی اور اس کے گہرے گلے سے جسمانی پیچ و خم نمایاں ہوتے تو خواتین کے اعصاب چٹخ جاتے اور وہ سوچتیں کہ اس سے تو بہتر تھا کہ یہ تمام کام خود انجام دیں لیں۔ مفت کی مصیبت مول لینے سے کام کرنا بہتر تھا۔

مہینے کی آخری تاریخیں تھیں اور گھر میں واحد پانچ ہزار کا نوٹ موجود تھاجو عماد احمد مہینے کے آخر میں خرچے کی تنگی کی وجہ سے اپنی بہن سے ادھار مانگ کر لائے وہ نوٹ ان کے باتھ روم میں ٹنگے ہوئے کپڑوں کی جیب میں موجود تھا۔ نازش نے باتھ روم دھوتے ہوئے اس نوٹ کو کمال مہارت سے نکال کر سینے میں رکھ لیا۔ وہ خالی ہاتھ آتی تھی اور خالی ہاتھ ہی جاتی تھی کوئی چھوٹی موٹی چیز چوری کرنے کے لیے اس نے اپنی شلواروں میں چور جیبیں سلوا لی تھیں وہ کبھی کسی باجی کی اترن پہننا پسند نہیں کرتی تھی۔

خواتین استعمال شدہ کپڑے دیتیں تو وہ برتن والوں کو بیچ کر بدلے میں نئے برتن لے لیا کرتی تھی۔ پانچ ہزار کے غائب ہونے نے عطیہ کے دل پر قیامت ڈھادی اس کا صبر جواب دے گیا۔ نازش نے یہ کام ہفتے کو سر انجام دیا تھا۔ عطیہ کے دل سے اٹھتے بیٹھتے نازش کے لیے بددعائیں نکلنے لگیں۔ اس نے وہ تمام تسبیحات بھی پڑھ ڈالیں جو چوری کی چیز واپس ملنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ پیر کو نازش کے آنے پر عماد احمد نے دروازہ کھولا۔ لہجے میں بشاشت سموتے ہوئے عماد احمد نے نازش سے کہا ”ارے نازش تم نے ہمارا پانچ ہزار کا نوٹ، بیس کا نوٹ سمجھ کر کچرے میں تو نہیں ڈال دیا، پرسوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہم بے حد پریشان ہیں“۔

”ہاں بھائی وہ نوٹ تو میں ڈرائنگ روم کی کتابوں میں سے ایک میں رکھ گئی تھی۔ ابھی لائی“۔ نازش نے انتہائی اعتماد سے جواب دیا۔ اس کے چہرے پر ندامت کا شائبہ تک نہیں تھا۔ چند لمحوں بعد وہ نوٹ عماد کے ہاتھ میں تھا۔ اتنی بڑی خطا اور دیدہ دلیری پر عطیہ، نازش کو معاف کرنے پر تیار نہیں تھی۔ مہینا پورا ہونے ہر تنخواہ دے کر، عطیہ نے، نازش کی چھٹی کردی اور وہ تمام چوریاں گنوائیں جو اس نے وقتاً فوقتاً کی تھیں۔ نازش کو اپنے کیے پر کوئی شرمندگی نہ تھی۔

اس اپارٹمنٹ اور یہاں کے لوگوں سے ویسے بھی اس کا دل بھر گیا تھا۔ اس نے اسی ماہ دیگر فلیٹوں کے کا م سے یہ کہہ کر ہمیشہ کے لیے چھٹی لے لی کہ وہ حمل سے ہے اور اتنی سیٹرہیاں نہیں چڑھ سکتی اور نہ اتنا کام کرسکتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ حمل بھی ڈراما تھا۔ اس کے پیٹ میں رسولی ہوگئی تھی۔ جس کا آپریشن ہوا۔ صحیح ہونے پر وہ چپ چاپ شوہر اور گھر والوں کو بتائے بنا پنجاب بھاگ گئی جہاں امید واثق ہے کہ اسے کسی نہ کسی بوڑھے یا بڑی عمر کے آدمی سے وٹے سٹے میں بیاہ دیا جائے گا اور اس بوڑھے کی بیٹی کی شادی نازش کے کسی بھائی یا ماموں سے ہوجائے گی اور نازش اپنی زندگی کی محرومیوں اور ناکامیوں کا بدلہ کسی نہ کسی طرح خود سے اور اپنے گھر والوں سے لیتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •