کشمیر کی بیٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مری چھوٹی سی جنّت کے چمن زاروں پہ

جانے کون سے آسیب کا سایہ ہے

پَت جھڑ کی یہ لمبی رُت

بدلنے میں نہیں آتی

غلامی کی شبِ تاریک ڈھلنے میں نہیں آتی

کئی نسلوں کا خوں پی کر بھی

کوئی مشعلِ اُمیّد جلنے میں نہیں آتی

خدائے، بحر و بر!

میں اس جہانِ سنگ و آہن میں

کسے آواز دوں؟

کس کو پکاروں؟

مشرق و مغرب کے عالی مرتبت

ذیشان ایوانوں،

دیارِ مجلس و انصاف و قانون و حقوقِ آدمیت

کے نگہبانوں سے لے کر

میرے باپ!

اور میری ماں!

اور میرے خوابوں میں مہکتی سرزمینِ پاک تک

کوئی تو ہو

جس کو پکاروں

اب یہ عالم ہے

کہ میری اپنی بھی آواز

مجھ تک لوٹ کر آتی نہیں ہے

بازگشتِ صوت کو بھی

ان مہیب و بے کراں،

پُر ہول سناٹوں نے جیسے کھا لیا ہے

دستکیں دیتے ہوئے

ہاتھوں سے خوں رسنے لگا ہے

اور ہجوم نوعِ آدم زاد گاں کو چپ لگی ہے

چار سُو

پتھر کے چہروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

میں ہمالہ کی فصیلوں سے کسے آواز دوں؟

اور جھیل ڈل کے نیلگوں پانی پہ

کس کے نام سندیسے لکھوں؟

اور کیا لکھوں؟

میں وادیٔ لولاب سے کس کو پکاروں؟

اور پکاروں بھی تو کیا ہو گا؟

کہ ٹھنڈی راکھ کے انبار میں اب

کوئی چنگاری نہیں

حدِ نظر تک برف کے تودوں میں

ہلکی سی حرارت،

زندگی کی کوئی ادنیٰ سی رَمَق

کچھ بھی نہیں ہے

میں سُرابِ خود فریبی سے کہاں تک دل کو بہلاؤں

کوئی شعلہ فشاں تقریر

کوئی خطبۂ جاں سوز

اب میرے لیے وجۂ تسلی،

میرے زخموں کے لیے مرہم نہیں بنتا

مجھے تقریر بازی کی نہیں

تقدیر سازی کی ضرورت ہے

فقط رنگیں بیانی کی نہیں

تدبیر کاری کی ضرورت ہے

کہ اب انصاف اور قانون سے عاری

رنگا رنگ قمقموں سے جگمگاتی

تیرہ و تاریک دنیا میں

کسی ظالم کے سینے کو

طلائی تمغۂ اعزاز سے آراستہ کرتے

ستم خُو قاتلوں کو

لالہ و گُل کے مہکتے ہار پہناتے

کسی کے ہاتھ میں لرزش نہیں آتی

کسی کے دل میں ہلکی سی کسک پیدا نہیں ہوتی

***

کسی کو کیا خبر

کشمیر کی اک بے نوا بیٹی کے آزارِ مسلسل کی

مرے بچے

مرے سینے سے چمٹے

بھوک سے بے کل

نہ جانے کب سے یوں ہی رو رہے ہیں

اور میرے ناتواں ہاتھوں میں

اُن کو تھپکیاں دینے کی طاقت بھی نہیں ہے

گھر کے سارے مرد

بستی سے بڑے شہر خموشاں میں

ردائے خاک اوڑھے سو رہے ہیں

میری ہمسائی کے بیٹے بھی

خسُ و خاشاکِ زنداں ہو گئے ہیں

میرا گھر!

اور میری بستی کے سبھی گھر

قید خانے بن چکے ہیں

در، دریچے، کھڑکیاں،

روزن، ہواداں، روشنی داں

سب پہ پہرے ہیں

گلی میں بے صدا، موہوم سی،

سہمی ہوئی، معصوم سی

آہٹ پہ بھی بندوق کی نالی تنی ہے

میں کسے آواز دوں؟

کس کو پکاروں؟

مشرق و مغرب کے عالی مرتب

ذیشان ایوانوں

دیارِ مجلس انصاف و قانون و حقوقِ آدمیت

کے نگہبانوں سے لے کر

میرے باپ

اور میری ماں…!

اور میرے خوابوں میں مہکتی

سرزمینِ پاک تک

کوئی تو ہو

جس کو پکاروں

نیل کے ساحل سے لے کر

کاشغر کی خاک تک

کوئی تو ہو!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •