لنگی: یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسانی پر شمویل احمد کا شاہکار افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شعبہ میں نئی لڑکی کا داخلہ ہوتا تو ابو پٹّی لنگی پہنتا۔ اس کے پاس رنگ برنگ کی لنگیاں تھیں۔  لال پیلی نیلی ہری۔۔۔  ایک نہیں تھی تو سفید۔

سفید لنگی سے ابو پٹّی کو چِڑ سی تھی۔ پہنو بھی نہیں کہ میلی نظر آتی ہے۔  بھلا یہ بھی کوئی رنگ ہے کہ داغوں کو چھپا نہیں پاتا ہے۔  اس اعتبار سے اس کو سیاہ لنگی پسند تھی کہ گرد خور تھی لیکن ایک جیوتشی نے کہا تھا کہ سیاہ شنی کا رنگ ہے جو نا امیدی کا ستارہ ہے اور ابو پٹّی نے بھی محسوس کیا تھا کہ سیاہ رنگ کے استعمال سے اس کو اکثر خسارہ ہوا ہے۔  اس دن اس نے سیاہ لنگی بیگ میں رکھی تھی جب زر بہار اُس کے ہاتھوں سے صابن کی طرح پھسل گئی تھی اور پروفیسر راشد اعجاز کی جھولی میں جا گری تھی۔

زر بہار ایک مقامی شاعر کی دختر نیک اختر تھی۔ اس نے ایم اے کیا تھا اور اب ایم فل میں داخلہ لینا چاہ رہی تھی۔ ابو پٹّی ان دنوں شعبہ کا چیئرمین تھا۔ وہ داخلے کا فارم لیے چیمبر میں داخل ہوئی تو اس نے عجیب سی بے چینی محسوس کی۔ بے چینی تو وہ ہر اُس لڑکی کو دیکھ کر محسوس کرتا تھا جو ایم فل کے لیے داخلہ لیتی تھی لیکن زر بہار کی ادائیں کچھ الگ سی تھیں۔  گفتگو کے دوران زلفوں کی ایک لٹ اُس کے رخسار پر لہرا جاتی جسے ادائے خاص سے پیچھے کی طرف سِرکاتی رہتی۔ و ہ گداز جسموں والی لڑکی تھی۔ رخسار پھولے پھولے سے تھے۔  خوبصورت نہیں تھی لیکن کہیں کچھ تھا جو ابو پٹّی کو لنگی پہننے پر اکسا رہا تھا۔

چیمبر میں داخل ہوتے ہی اس نے ادب سے سلام کیا اور پھر دو قدم چل کر اس کے ایک دم قریب کھڑی ہو گئی۔ عموماً طلباء چیمبر میں داخل ہوتے ہیں تو ایک فاصلے پر کھڑے ہو کر گفتگو کرتے ہیں لیکن زر بہار کا انداز کچھ ایسا تھا جیسے برسوں کی شناسا ہو۔ اس نے پہلے اپنے والد کا نام بتایا جو شاعر ہوا کرتے تھے۔  ابو پٹّی نے متأثر ہونے کی اداکاری کی۔

 ” ماشا اللہ۔۔۔ کیا کہنے۔ “

زر بہار خوش ہو گئی اور والد محترم کی شان میں رطب اللسان ہوئی کہ مشاعرے میں کہاں کہاں جاتے تھے اور کیسے کیسے اعزازات سے نوازے گئے۔  پھر چہرے کے قریب اک ذرا جھک کر مسکراتی ہوئی بولی۔

 ” سر۔۔۔ میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہوں۔ “

ابو پٹّی مسکرایا۔ ایک ہی بار میں پی ایچ ڈی۔۔۔ ؟ پہلے ایم فل کرتے ہیں۔  ”

اپنی غلطی کا احساس ہوا تو دانتوں تلے زبان دبائی۔۔۔ !

ابو پٹّی کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔

 ” کس موضوع پر تحقیق کرنا چاہتی ہو؟ “

 ” کچھ بھی۔۔۔ “

ابو پٹّی کے لہجے میں جھنجھلاہٹ تھی لیکن اس کی مسکراہٹ برقرار تھی۔

 ” کس صنف میں؟ شاعری، افسانہ، ناول، تنقید۔۔۔ “

 ” شاعر کی بیٹی ہوں تو شاعری پر ہی کروں گی۔ “

 ”نئی شاعری پر کرو۔ اقبال غالب میر پر تو بہت تحقیق ہوئی۔ “

 ” جی سر۔ “

کسی کو پڑھا ہے۔۔۔ شہر یار، ندا فاضلی، عالم خورشید۔۔۔ خورشید اکبر۔۔۔ ۔ ۔ ؟ ”

 ” آپ پڑھا دیں گے سر۔۔۔ ؟ “

 ”میں۔۔۔ ؟ میں تو بہت کچھ پڑھا دوں گا۔۔۔ ہے۔۔۔ ہے۔۔۔ ہے۔۔۔ ہے۔۔۔ “

ابو پٹّی ہنسنے لگا۔ زر بہار بھی ہنسنے لگی۔ بالوں کی لَٹ رخسار پر جھول گئی۔ گالوں میں گڈھے سے پڑ گئے۔

چیمبر میں ثاقب داخل ہوا اور ابو پٹّی کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔

 ”آپ بغیر اجازت اندر کیسے چلے آئے؟ “

 ” سر۔۔۔ میری تھیسس۔۔۔ ! “

 ” جانتا ہوں آپ نے تھیسس مکمّل کر لی ہے لیکن بے ادبی سے پیش آئیں گے تو تھیسس دھری رہ جائے گی۔ “

 ” غلطی ہوئی سر۔۔۔ معاف کیجیے گا۔ “ ثاقب سر جھکائے باہر نکل گیا۔

اس کے جانے کے بعد بھی ابو پٹّی کا غصّہ کم نہیں ہوا۔

 ” یہی وجہ ہے کہ میں چیمبر اندر سے بند کر دیتا ہوں۔  لڑکے بہت ڈسٹرب کرتے ہیں۔ “

 ” صحیح کہا سر۔ بغیر اجازت تو اندر آنا ہی نہیں چاہیے۔ “

پردے کے پیچھے سے کوئی دوسرا لڑکا جھانک رہا تھا۔

 ” دیکھو پھر کوئی جھانکنے لگا۔ “ ابو پٹّی کی جھنجھلاہٹ بڑھ گئی۔

 ” دروازہ بند کر دوں سر۔۔۔ ؟ “

 ”رہنے دو۔ کچھ طلبا ملنا چاہ رہے ہیں۔  تم کل دس بجے آؤ۔ فارم بھی بھر دوں گا۔ سمجھا بھی دوں گا کیسے کیا کرنا ہے اور موضوع بھی طے کر دوں گا۔

 ”شکریہ سر! میں کل آتی ہوں۔ “

زر بہار چلی گئی ابو پٹّی نے طلبا کو اندر طلب کیا۔

چار لڑکے۔۔۔ چھ لڑکیاں۔۔۔ !

ابو پٹّی نے لڑکوں پر طائرانہ سی نظر ڈالی۔ لڑکیوں کو گھور گھور کر دیکھا۔ وہ یقیناً فیصلہ کر رہا تھا کہ کس کو اپنی نگرانی میں رکھے اور کس کو دوسرے اساتذہ کو سونپ دے۔

 ”آپ فارم بھرنے آئے ہیں؟ “

 ” جی سر۔۔۔ ! “

 ”تو میرے پاس آنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ فارم جمع کر دیں۔  آپ کا ٹیسٹ ہوگا۔ جو زیادہ نمبر لائیں گے وہ سیدھا پی ایچ ڈی بھی کر سکتے ہیں ورنہ ایم فل میں داخلہ ہوگا۔ چھے مہینے کلاسیس کرنے ہوں گے۔  اس کے بعد پھر امتحان ہو گا۔ “

 ” سر ہمیں موضوع کے انتخاب کی آزادی تو ہے۔ “

کسی لڑکے نے پوچھا تو ابو پٹّی نے اُسے گھور کر دیکھا۔

 ” بالکل ہے لیکن اس موضوع کا علم بھی آپ کو ہونا چاہیے۔ “

لڑکا سہم گیا۔ اس نے سعادت مندی سے سر ہلایا۔

طلباء چلے گئے تو ابو پٹّی کلاس لینے چلا گیا۔

زر بہار باہر نکلی تو بہت خوش تھی۔

 ” نئی مرغی۔ “ لڑکوں نے اُسے سر سے پاؤں تک گھورا۔

 ” آپ ایم فل کے لیے آئی ہیں؟ “

 ” میں سیدھا پی ایچ ڈی کروں گی۔ “ نئی مرغی مسکرائی۔

ثاقب یہ سوچ کر دل ہی دل میں حقارت سے مسکرایا کہ ان کی پی ایچ ڈی تو لنگی میں ہوگی۔

 ”آپ کا موضوع کیا ہے؟ “

 ” جدید شاعری۔ “

 ” جدید شاعری میں کیا؟ “

 ” یہ سر طے کریں گے۔ “

 ” کمال ہے۔  آپ پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور آپ کو موضوع کا پتا نہیں ہے۔ “ لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ثاقب کے جی میں آیا کہہ دے ہوشیار رہیے گا۔۔۔  سر کمرہ اندر سے بند کر لیتے ہیں۔  لیکن خاموش رہا۔ وہ کوئی خطرہ مول ”لینا نہیں چاہتا تھا۔ ابو پٹّی کو اگر بَھنک مل جاتی تو کیریئر تباہ ہونے میں وقت نہیں لگتا۔ پھر بھی اس نے دبی زبان میں کہا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •