اپوزیشن کمزور ہو تو بہتر ہے


اپوزیشن مخالف فریق یا مخالف پارٹی کو کہتے ہیں۔ الیکشن جیت جانے کے باوجود جو پارٹی حکومت بنانے میں ناکام رہے اسے اپوزیشن کہتے ہیں۔ یعنی اپوزشن الیکشن جیت کر اسمبلی میں تو پہنچ جاتی ہے لیکن سرکاری امور میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ ایسی ہی حالت شوہروں کی ہوتی ہے جو شادی کی لاٹری جیت تو جاتے ہیں لیکن یہ جیت ان کے کسی کام نہیں آتی کہ انتہائی محبت سے کی گئی شادی کے بعد بھی مرد گھر کی حکومت سے باہر ہی رہتا ہے۔

کہ گھر کی حکومت کا تاج ہمیشہ عورت کے سر ہوتا ہے مرد ہمیشہ اپوزیشن کی سیٹ پر ملتا ہے جس کے ساتھ حکومت بیٹھ تو جاتی ہے لیکن اس کی مانتی کبھی نہیں۔ یہ بھی یاد رکھیں ان دونوں کے عہدوں میں کبھی تبدییلی بھی نہیں ہوتی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیوی جمہوری حکومت کی بجائے ڈکٹیٹر لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ جو جیتے جاگتے انسان سے اُس کی ہر طرح کی شخصی آزادی چھین لیتی ہے بلکہ وہ آزادی اظہار کے حق سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔

اپوزیشن کا گھریلو امور میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہوتا اگر غلطی سے اپوزیشن بولنے کی جرات کر لے تو پہلے سے دیوار کے ساتھ لگی اپوزیشن کو مزید دیوار سے چپکا دیا جاتا ہے پھر بھی اگر اپوزیشن من مانی کرنے کی ٹھان لے تو گھر میں الٹی گنگا بہنے لگتی ہے اور اپوزیشن کی بجائے حکومت واک آؤٹ کر جاتی ہے۔ یعنی بیوی روٹھ کر میکے چلے جاتی ہے حکومت کے واک آؤٹ کر جانے سے اپوزیشن شروع میں تو بہت خوش ہوتی ہے بلکہ یوں کہیے کہ چند روزہ عیاشی کی خاطر اپوزیشن حکومت کو واک آؤٹ پر اکساتی ہے کہ اپوزشن عیاشی کرنے کو ترسی ہوتی ہے اسی ترسی ہوئی کیفیت کو مشہور شاعر زاہد فخری نے ان الفاظ میں بیان کیاہے

کدی تے پیکے جا نی بیگم

آوے سکھ دا سا نی بیگم

شام منان نوں دل کر دا اے

سگریٹ پان نوں دل کر دا اے

باروں کھان نوں دل کر دا اے

تازے نان نوں دل کر دا اے

کردے پورے چا نی بیگم

کدی تے پیکے جا نی بیگم

وہ تو شاعر دل کی خواہش کو زبان پر آجائے تو اسے عوام کے جذبات کی ترجمانی ہے کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں لیکن عام اپوزیشن اس کا اظہار نہیں کر سکتی سو دوسرا طریقہ استعمال کرتی ہے

عیاشی کے چار دن تو خوشی خوشی گزر جاتے ہیں لیکن پھر حکومتی واک آؤٹ اپوزیشن کو بہت مہنگی پڑتی ہے اور چار دنوں ہی میں تارے نظر آجاتے ہیں جب سنک جھوٹے برتنوں سے بھر جاتا ہے کچن سیلب ساری چائے کے خالی مگوں سے بھر جاتی ہے۔ چائے گرنے کے دھبوں سے سیلب اپنی اصل رنگت کھو دیتی ہے بیڈ روم جس میں شروع دنوں میں تو آزادی کا جشن منایا جاتا ہے کہ کنارے سے آگے جہاں اور بھی ہیں پورے بیڈ پر ٹانگیں پھیلا کر سونے کا اپنا ہی لطف ہے اور اس سے بیڈ اپنا اپنا محسوس ہی نہیں ہوتا حق ملکیت کا احساس بھی جاگتا ہے۔

پھر رفتہ رفتہ اسی بیڈ روم کی بے ترتیبی بری لگنے لگتی ہے بیڈ کی چادر پہلے آدھی اور پھر ساری ہی غائب ہوجاتی ہے۔ سامنے پڑے صوفے پر الماری کے سارے کپڑے یوں پڑے ہوتے ہیں جیسے برسوں بعد بچھڑے دوست ملے ہوں اور ایک دوسرے سے الگ ہونے کا نام نہ لے رہے ہوں صبح آفس جاتے ہوئے سمجھ نہیں آتا دھونے والے اور دھلے ہوئے کپڑے کون سے ہیں سو اکثر دھلے ہوئے کپڑوں سے دھونے والے کپڑے پہن کر دفتر جایا جاتا ہے اور سارا دن ان کپڑوں سے اٹھنے والی نا خوشگوار مہک سے دوسروں کا صبر آزمایا جاتا ہے۔

ایک موزہ گرے تو دوسرا بلیک ہوتا ہے بڑھی ہوئی شیو اور آنکھوں کی سرخی کوئی اور ہی داستان سنارہی ہوتی ہے کہ اپنی مرضی کے چینلنز دیکھتے ہوئے رات گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ آخر حکومت یعنی بیوی کے ہوتے کس کی مجال کہ ٹی وی کا ریموٹ بھی دیکھ سکے نتیجتاً صبح جب آنکھ کھلتی ہے تو دیر ہو چکی ہوتی ہے ناشتہ کرنے کی بجائے کپڑے استری کرنے پڑتے ہیں شروع میں ہوٹل کی عیاشی بھی اچھی لگتی ہے لیکن پھر باہر کے تیز مصالحوں والے کھانے کھا کر پیٹ کا دوزخ تو بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن معدہ ساتھ نبھانے سے انکار کر دیتا ہے سو گیسٹرک پرابلم بھی سر اٹھانے لگتی ہے باس کی ڈانٹ اور مرچوں کی تیزی ایک ساتھ دماغ کوچڑھتی ہے تو اس تیزی کا اثر خوامخواہ دوسروں پہ نکلتا ہے دفتر کی مغز ماری کے بعد جب گھر میں انٹری دی جاتی ہے تو گھر میں قدم رکھتے ہی ویرانی کا احساس ہوتا ہے چائے پانی سے محرومی کا جو عذاب سہنا پڑتا ہے وہ الگ۔

ٹی وی لاؤنج خالی اور ایش ٹرے سگریٹ کی راکھ سے بھرا ملتا ہے بیوی کے بغیر خالی گھر ہی کاٹ کھانے کو نہیں دوڑتا کپڑے دھونے کے بعد شوہر خود بھی ہر ایک کو کاٹ کھانے دوڑتا ہے۔ دن بھر کی تھکن سے چور رات کھانے کی فکر میں جب پھر سے بازار دوڑ لگانا پڑتی ہے تو لگ پتہ جاتا ہے کہ سرکاری ہو یا گھریلو حکومت سے پنگا لینا آسان کام نہیں۔ ملکی سطح پر مضبوط اپوزیشن بہت مثبت سمجھی جاتی ہے اور اس کا عوامی سطح پر بہت فائدہ ہوتا ہے کہ لوگ عزت کرتے ہیں۔

لیکن گھر کی حکومت میں مضبوط اپوزیشن کرنے کی جرات کی جائے تو حکومت جو حال کرتی ہے وہ کسی باہر والے سے بیان کیا کرنا خود اپنے آپ کو بھی یہ کہہ کر بہلایا جاتا ہے کہ آل از ویل۔ کہ اگر خود کلامی کر کے بھی اپنی عزت افزائی کو یاد کیا جائے تو صاحب دیواروں کے تو کان ہوتے ہی ہیں پڑوس والے چیمہ صاحب جو بڑے جگری یار بنے پھرتے ہیں ان کے بھی کان دیوار کے ساتھ ہی لگے ہوتے ہیں۔ اپنی بیگم سے تو انھوں نے چھپا کے رکھنا ہے کہ کہیں وہ خربوزے کا رنگ نہ پکڑ لیں لیں لیکن یار دوستوں میں جو توا لگانا ہے بس اتنا کہ بیگم کی ڈانٹ سے ڈر نہیں لگتا صاحب دوستوں کے توا لگانے سے لگتا ہے اب اپنے گھر میں تو ہر مرد چوہا ہی ہوتا ہے پھر بھی بات نکلی تو۔

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ یقین مانیے گھر میں بہترین اپوزیشن کرنے والے پھر دھول چاٹتے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ لہذا گھرمیں اپوزیشن کرتے ہوئے دھیان رہے کہ اپوزیشن کمزور بلکہ مریل سی ہو تو بہتر ہے ورنہ سنگین نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے آپ کو اکسانے والے جگری یار نہیں۔ اپوزیشن ضرور کریں لیکن انتہائی کمزور کہ دل کو تسلی رہے کہ آپ نے تیسرے درجے کا ہی سہی، جہاد کر لیا ہے۔

کہ بیوی کے سامنے آپ افضل ترین جہاد نہیں کر سکتے۔ پھر بھی آپ افضل جہاد کرنے پر بضد ہیں تو یاد رکھیں آپ غازی بن کر تو نہیں لوٹنے والے البتہ شہادت ہی آپ کا مقدر ہے۔ سو اگر بیوی کے ہاتھوں شہید ہونا پسند نہیں کرتے تو اپنے دفاع میں دل میں بولیں جتنا چاہے بولیں، رج کے بولیں لیکن بلند آواز میں ”سرکار“ کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں تو بہت ساری تکالیف سے بچا جا سکتا ہے ورنہ جان سے شروع ہونے والا مکالمہ وبال جان تک پہنچ جائے گا۔ اور گھر کی حکومت سے اختلاف کرنے کی سزا میں رشتہ ازدواج کا ج جہنم کی سیر بھی کروا دیتا ہے

Facebook Comments HS