مولانا کو مولا ہی سمجھائے!
دھرنے کی صورتحال دن بدن اہل دھرنا کے لئے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ تیزی سے آتی ہوئی سردی میں مسلسل بیٹھنا پہلے ہی کٹھن تھا مگر اب تیز بارش نے سردی کی آمد کو ”چوتھے گیئر“ میں ڈال دیا ہے اور دھرنے کے شرکاء اس وقت مہنگائی اور بیروزگاری سے زیادہ سردی کی وجہ سے کانپ رہے ہیں۔ دھرنے میں موجود لوگ دھرنے کے پس پردہ ہونے والی ملاقاتوں اور مطالبات سے بے نیاز مولانا سے اس بے سود بیٹھک کے خاتمہ کی امید لگائے ہوئے ہیں جبکہ مولانا حکومت کو ختم کرنے سے زیادہ چوہدری برادران کے ساتھ ہونے والی بیٹھکوں میں اکرم درانی اور دیگر کے خلاف نیب ریفرنس ختم کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگار دعوے کر رہے ہیں کہ مولانا دھرنا ختم کرنے کے لئے فیس سیونگ کی تلاش میں ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت مولانا کو زیادہ سے زیادہ دھرنے میں مصروف رکھ کر ان کی سیاسی ”فیس شیونگ“ کر رہی ہے۔ واقفانِ حال اور دھرنا سیاست سے دلچسپی رکھنے والے لوگ جانتے ہیں مولانا کے لئے دھرنے سے اٹھنا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ حکومت کے خلاف اگلے دھرنے کی متوقع ڈیٹ دے کر باآسانی اٹھ سکتے ہیں لیکن اس سے پہلے وہ ہر صورت نیب ریفرنس سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔
موسم کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر مولانا نے مذاکرات کو بھی تیز کر دیا ہے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے چوہدری برادران کا اپنے گھر پر انتظار کرنے کی بجائے ان کے گھر جانے کو بھی ترجیح دی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مولانا مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہیں۔ چنانچہ اسی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے جمعرات کو چوہدری برادران نے بھی مولانا کے گھر پر حاضری دی۔
مولانا کے دھرنے کی آڑ میں اپنا رانجھا راضی کرنے والے کچھ سیاسی کارکن یہ بھی کہتے ہیں کہ ”مولانا کو اب دھرنے سے مولا ہی اٹھا سکتا ہے“ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا جس طرح باقی سیاسی پارٹیوں کو چکمّہ دے کر اسلام آباد فتح کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے اب اسی پھرتی کے ساتھ مولانا اس اکھاڑے سے نکلنے کے خواہش مند ہیں۔ حکومتی میڈیکل سینٹر کے سامنے لگی ہوئی بیمار کارکنوں کی لائنوں نے مولانا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ فی الحال وہ عمران خان کو ”فالوآن“ پر مجبور نہیں کر سکتے۔
ایک ہفتہ گزرنے کے بعد دھرنے کے حوالے سے سب کچھ واضح ہو چکا ہے۔ اول یہ کہ مولانا فضل الرحمن کو دھرنے کے لئے مسلم لیگ (ن) اور پی پی کی سپورٹ صرف زبانی کلامی حد تک حاصل ہے۔ دوم یہ کہ مولانا فضل الرحمن کا یہ دھرنا ان کی سولوفلائٹ تھی اور اس کے لئے ان کی سوچ یہ تھی کہ جب وہ اسلام آباد میں میلہ لگا لیں گے تو اپوزیشن کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی جماعتیں خود ہی مجبور ہو کر آ جائیں گی اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے ضرور آئیں گے۔ سوم یہ کہ مولانا فضل الرحمن کے اس دھرنے کے اندرون خانہ مقاصد سے مولانا کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا البتہ اب سب کو علم ہے کہ مولانا اکرم درانی کے خلاف نیب کا ”وائرس“ ختم کروانا چاہتے ہیں۔
سات دن گزرنے کے بعد صورتحال میں تبدیلی یہ آئی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے کنٹینر پر نہ صرف محمود اچکزئی جیسے لوگوں کو ساتھ کھڑا کر کے قومی سلامتی کے اداروں کو ناراض کیا جبکہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے انہیں مجبور بھی کر دیا کہ اگر وہ عمران خان کی سپورٹ نہیں بھی کر رہے ہیں تو پھر بھی کریں۔
مولانا فضل الرحمن کی دھرنا تقریروں سے اب تک سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کو ہی پہنچا ہے اور بارش سے متاثرہ اس ”دھرنا میچ“ میں عمران خان نے میڈیکل کی مفت سہولتیں فراہم کر کے مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کے لئے کافی ہزیمت کا سامان پیدا کیا ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے اب حکومت چاہتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو دھرنا جاری رکھنے پر مجبور کیا جائے کیونکہ دھرنا جیسے جیسے طویل ہو گا اسلام آباد میں پنجاب کے دیگر شہروں کی نسبت ٹھنڈ اور زیادہ ہوتی جائے گی اور یہ ٹھنڈ مولانا فضل الرحمن کے ارمانوں کو مکمل ٹھنڈا کر دے گی۔
مولانا فضل الرحمن کو کھلے گراؤنڈ میں بٹھا کر اور طبی سہولتیں دے کر حکومت چاہتی ہے کہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ یہ حکومت بہت کچھ برداشت کر سکتی ہے کیونکہ اس طرح حکومت کے خلاف اٹھنے والی آئندہ تحریکیں اپنے اپنے گھروں میں ہی دم توڑ دیں گی۔ حکومتی اکابرین جان بوجھ کر مولانا کو مذاکرات کا سلوپوائزننگ دے رہے ہیں تاکہ مولانا ”امید“ سے بھی رہیں اور اسی امید کے ساتھ کھلے آسمان تلے بیٹھے رہیں۔
حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے لئے کوئی سیاسی قوت بھی ”باعزت“ راستہ تلاش کرنے کو تیار نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی سوچ ہے کہ مولانا خود آئے ہیں اس لئے خود ہی راستہ بھی تلاش کریں لیکن حکومت انہیں مذاکرات میں الجھا کر ان کی تذلیل کے مزید امکانات تلاش کر رہی ہے۔
یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات چوہدری شجاعت حسین کر رہے ہیں۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ مذاکرات کے دوران یہ اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ مولانا کی طبیعت زیادہ خراب ہے یا چوہدری شجاعت حسین زیادہ بیمار ہیں۔ مولانا کوا یک گھنٹے کے مذاکرات پانچ گھنٹے میں پورے کرنا پڑتے ہیں کیونکہ انہیں اپنا ہر مطالبہ پانچ بار بولنا پڑتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور چوہدری شجاعت حسین اس کا مطلب کچھ اور سمجھیں اور مولانا کچھ اور نتیجہ اخذ کر لیں اور نتیجہ پھر بگٹی اور لال مسجد والا نکل آئے۔ بہرحال مولانا مشکل میں ہیں۔ یہ بات مولانا کو اب مولا ہی سمجھا سکتا ہے۔


