اس قوم کی تباہی کے لئے۔ ایک نہیں، کئی آسیب مسلط کیے گئے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دونوں نے کارندے رکھے ہوئے ہیں۔ ان کو امریکہ کی پوری حمایت حاصل ہے۔ اسی آسیب نے کشمیر کا سودا کیا اب اس کے دوسرے فیز کے طور پر جیسے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کیا ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر کا بھی باقی ماندہ تشخص ختم کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے اور سب سے پہلے آزاد کشمیر کے باشندوں کے نئے بننے والی شناختی کارڈز پر آزاد کشمیر کی شناخت ختم کر دی گئی ہے اور عام شنید یہ ہے جو کہ کسی ”نامعلوم“ سورس کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہے کہ آزاد کشمیر کے اضلاع کو ان کے ملحق پاکستانی صوبوں کے ساتھ ضم کیا جا رہا ہے اور بارڈر لائن کو سیدھا کرنے کے نام پر ”دریا پار“ کے کچھ علاقے بھارت کو دیے جانے کا بھی امکان نظر آ رہا ہے۔ اس کے لئے ایک شدید جھڑپ کا ڈرامہ سٹیج بھی کیا جا سکتا ہے۔ پھر امریکہ حسب وعدہ منظر میں داخل ہو کر ”ثالثی“ کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے امن قائم کروائے گا،

یہ تو ہے ایک منظر جو دکھائی دے رہا ہے لیکن اس منظر کا ایک پس منظر بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر تو پہلے سے بھارت کے پاس ہی ہے اور امریکہ اور دنیا کے باقی کافی با اثر ممالک کی حمایت کے ساتھ ساتھ اس کو عرب ملکوں کی بھی مکمل اور واضع حمایت حاصل ہے تو وہ اپنے ارادوں کا واضع طور پر اظہار بھی کر رہا ہے اور اس کی طرف سے اس کی فوجی خریداری کی لسٹ بھی بہت سے اشارے دے رہی ہے، بھارت کے ذرائع واضح طور پر پاکستان کا نام لے کر ایک ایسی جنگ کا ذکر کر رہے ہیں جو ”پہاڑوں“ میں لڑی جائے گی اور اس کے لئے اسرائیل سے تین ہزار، ایک سو پچپن می میٹر کی سیٹلائٹ گائڈڈ توپوں کی خریداری جاری ہے کیونکہ بقول بھارتی فوجی ذرائع پہاڑی علاقے میں جنگ وہی فریق جیتتا ہے جس کے پاس زیادہ موثر توپ خانہ ہوتا ہے۔

ہم خود ہی اپنے آپ کو طفل تسلیاں دیتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ بھارت کھل کر خدانخواستہ آزاد کشمیر پر قبضے سے پاکستان کے دفاعی نظام کا ناکارہ کرنے اور شمالی علاقہ جات پر قبضے سے وسطی ایشیا اور افغانستان کے ساتھ زمینی رابطہ قائم کرنے کے عزائم کا اظہار کر رکھا ہے اور ہم ادھر آزاد کشمیر کو ملحقہ صوبوں میں ضم کرنے کے اقدام سے بھارت کو یک طرفہ طور پر اپنی امن پسندی اور مسئلہ کشمیر سے دستبرداری کا یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ کمزور موقف اور مقبوضہ کشمیر میں جہاد کشمیر کی کھلی مخالفت خدانخواستہ پاکستان کے لئے خود کشی کا راستہ ہے اور جس طرح ایک پرانی ریاست میں ایک راہ چلتے فقیر کو اس ملک کا بادشاہ بنا دیا گیا تو ہمسایہ ملک نے حملہ کر دیا بادشاہ کو اطلاع دی گئی تو اس نے فوج کو حکم دینے کے بجائے کہا کہ حلوہ پکاؤ۔

حلوہ پکایا گیا پھر اطلاع آئی کہ دشمن فوج بہت نزدیک پہنچ چکی ہے، بادشاہ نے حکم دیا اور حلوہ پکاو، مزید حلوہ پکایا گیا اتنے میں اطلاع آئی کہ دشمن شہر قبضہ کرنے کے بعد شاہی محل کی طرف بڑھ رہا ہے تو بادشاہ سلامت نے اپنی گدڑی منگوائی اور اسے کاندھے پر ڈالتے ہوے محل سے روانہ ہو گیا کہ میں نے تو پوری کوشش کی اب آپ جانو اور دشمن جانے میں تو روانہ ہوتا ہوں کہیں یہاں بھی ایسے حالات پیدا کر کے کوئی اپنی گدڑی اٹھا کر لندن اور کوئی آسٹریلیا نہ پہنچ جائے۔ خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •