ایاز امیر، جرات رندانہ کو بدنام نہ کر!

معروف قلمکار ایازمیر نے اپنا نیا کالم ”مہنگائی اپنی جگہ، باقی کاموں سے کس نے روکا ہے؟ “ کے عنوان سے لکھا ہے۔ ایاز میر جیسے دانشور بھی جب اپنی تحریروں کے ذریعے قوم کو گمراہ کرنے کا ہی کام کریں تو دانش بدنام نہیں ہوتی کہ بصیرت تو اکثر برائے فروخت ہی رہی ہے، بلکہ رندی کا نام بدنام ہوتا ہے، رند تو کم از کم سچ بولنے کا استعارہ سمجھے جاتے تھے۔ ایاز میر کے نقطہ نظر نے اس اصطلاح کی حرمت بھی داغدار کر دی ہے۔ ایاز میریورپ اور امریکہ کی تاریخ یقینا ہم سے زیادہ جانتے ہیں تو کیا وہاں سب کچھ کسی چمتکار کی طرح فورا ہو گیا تھا، جس کی توقع آپ یہاں رکھے ہوئے ہیں۔

Read more