اس قوم کی تباہی کے لئے۔ ایک نہیں، کئی آسیب مسلط کیے گئے ہیں

دونوں نے کارندے رکھے ہوئے ہیں۔ ان کو امریکہ کی پوری حمایت حاصل ہے۔ اسی آسیب نے کشمیر کا سودا کیا اب اس کے دوسرے فیز کے طور پر جیسے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کیا ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر کا بھی باقی ماندہ تشخص ختم کرنے کا آغاز کر دیا…

Read more

کیا “ہم سب” میں ہر طرح کی تحریر شائع ہونی چاہیے؟

۔ ۔ ۔ یہ بڑی پراسرار سی بات ہے کہ لکھنا کیا ہے اور کیوں ہے؟ کیا یہ ایک شخصیت کا اظہار ہے، کوئی نظریاتی بات ہے، کوئی فن ہے یا یہ پیشہ ہے، اگر تو یہ ایک شخصیت کے اظہار کی عکاسی کرتا ہے تو جس طرح ہر مہذب انسان دوسرے کی شخصیت کو…

Read more

پاکستان کو درپیش دفاعی چیلینج اور اس کا موثر جواب

یہ جنگ ابھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ ویسے بھی پاکستان کے دشمنوں کے لئے موجودہ سیٹ اپ اور اصل مقتدرہ نے انتہائی موافق حالات پیدا کر رکھے ہیں جس کا اظہار ہمارے دشمنوں کے مختلف اقدامات سے ہوتا ہے۔ کمزوری چاہے کتنی بھی ہو بے وقوف سے بے وقوف انسان اس کمزوری کو کھلے…

Read more

آتش چنار

راولپنڈی میں انیس سو اڑتالیس سے اکاون، انیس سو پینسٹھ کی جنگوں کے نتیجے میں اپنے وطن سے جبری طور پر جلا وطن کئیے گئے کشمیری بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں بلکہ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جاے تو پرانا راولپنڈی راجہ بازار سے سیدپوری گیٹ تک ہی تھا راجہ بازار کو اسی وجہ…

Read more

ایاز امیر، جرات رندانہ کو بدنام نہ کر!

معروف قلمکار ایازمیر نے اپنا نیا کالم ”مہنگائی اپنی جگہ، باقی کاموں سے کس نے روکا ہے؟ “ کے عنوان سے لکھا ہے۔ ایاز میر جیسے دانشور بھی جب اپنی تحریروں کے ذریعے قوم کو گمراہ کرنے کا ہی کام کریں تو دانش بدنام نہیں ہوتی کہ بصیرت تو اکثر برائے فروخت ہی رہی ہے، بلکہ رندی کا نام بدنام ہوتا ہے، رند تو کم از کم سچ بولنے کا استعارہ سمجھے جاتے تھے۔ ایاز میر کے نقطہ نظر نے اس اصطلاح کی حرمت بھی داغدار کر دی ہے۔ ایاز میریورپ اور امریکہ کی تاریخ یقینا ہم سے زیادہ جانتے ہیں تو کیا وہاں سب کچھ کسی چمتکار کی طرح فورا ہو گیا تھا، جس کی توقع آپ یہاں رکھے ہوئے ہیں۔

Read more