ہم آج اپنے پیارے وطن کی عافیت میں زندگی گزارتے ہوئے، شاید ان واقعات کو اور ان کے عوام پر پڑنے والے دور رس اقدامات کو محسوس تک نہیں کر سکتے، جیسے سردیوں کی دھوپ کچھ سستی سی طاری کر دیتی ہے اور انسان کچھ سوچنے اور کسی بھی معاملے پر غور و فکر کرنے سے احتراز کرنے لگتا ہے، لیکن جس طرح فیض بھی کہہ اٹھے تھے کہ ”لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے“ تو اپنے آس پاس کی دنیا کے ممالک میں رو نما ہونے والے کچھ اہم واقعات، واقعی اس قابل ہیں کہ کم از کم کسی کہانی کی طرح ہی ان سے باخبر رہا جائے۔
ایسے اہم واقعات، جن میں سے کچھ کا نتیجہ ان ممالک اور ان کے عوام کے لیے انتہائی خوش گوار نکلا اور بعد از بسیار خرابی، بلآخر وہ اقوام ان کو لاحق ان دیرینہ بحرانوں سے جان چھڑانے اور ان کو درست کرنے میں کامیاب ہو گئیں، اور باقی دنیا کے ساتھ ترقی کے سفر کا آغاز کر دیا، لیکن کچھ ممالک میں ان کوششوں کے انتہائی افسوسناک اور درد ناک نتائج نکلے، جن کے بھیانک سائے، ان ممالک کے عوام کی زندگیوں پر آج بھی دکھائی دیے جاتے ہیں۔
Read more